سامانِ بخشش Mufti Azam Hind Muhammad Mustafa Raza مفتی اعظم ھند محمد مصطفیٰ رضا

کرم جو آپ کا اے سیدِ اَبرار ہوجائے تو ہر بدکار بندہ دَم میں نیکوکار ہوجائے

کرم جو آپ کا اے سیدِ اَبرار ہوجائے تو ہر بدکار بندہ دَم میں نیکوکار ہوجائے جو مومن دیکھے تم کو محرم اَسرار ہوجائے جو کافر دیکھ لے تم کو تو وہ دِیں دار ہوجائے جو سر رکھ دے تمہارے… Read More

تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ تو ماہِ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ

تو شمعِ رسالت ہے عالم تیرا پروانہ تو ماہِ نبوت ہے اے جلوۂ جانانہ جو ساقیٔ کوثر کے چہرے سے نقاب اُٹھے ہر دل بنے مے خانہ ہر آنکھ ہو پیمانہ دل اپنا چمک اُٹھے ایمان کی طلعت سے کر… Read More

کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شانِ خدا تم ہو

کوئی کیا جانے جو تم ہو خدا ہی جانے کیا تم ہو خدا تو کہہ نہیں سکتے مگر شانِ خدا تم ہو نبیوں میں ہو تم ایسے نبی الانبیا تم ہو حسینوں میں تم ایسے ہو کہ محبوبِ خدا تم… Read More

کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو دونوں عارِض ہیں ضُحٰی لیل کے پارے گیسو

کیا کہوں کیسے ہیں پیارے تیرے پیارے گیسو دونوں عارِض ہیں ضُحٰی لیل کے پارے گیسو دَستِ قدرت نے ترے آپ سنوارے گیسو حور سو ناز سے کیوں ان پہ نہ وارے گیسو خاکِ طیبہ سے اگر کوئی نکھارے گیسو… Read More

بہارِ جاںفزا تم ہو نسیم داستاں تم ہو بہارِ باغِ رِضواں تم سے ہے زیبِ جناں تم ہو

بہارِ جاںفزا تم ہو نسیم داستاں تم ہو بہارِ باغِ رِضواں تم سے ہے زیبِ جناں تم ہو حبیبِ رَبِّ رحمٰں تم مکینِ لامکاں تم ہو سرِ ہر دو جہاں تم ہو شہِ شاہنشہاں تم ہو حقیقت آپ کی مستور… Read More

شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو طیبہ بلالو مجھے طیبہ بلالو

شاہِ والا مجھے طیبہ بلالو طیبہ بلالو مجھے طیبہ بلالو ڈیوڑھی کا اپنی کتا بنالو قدموں سے اپنے مجھ کو لگالو صدقے میں صدقے میں صدقے بلالو فرقت کے مارے کو پیارے جلالو پیارے جلالو مجھے پیارے جلالو مولیٰ جلالو… Read More

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں دل و جان اُن پر نثارا کروں میں

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں دل و جان اُن پر نثارا کروں میں تری کفشِ پا یوں سنوارا کروں میں کہ پلکوں سے اس کو بُہارا کروں میں تری رحمتیں عام ہیں پھر بھی پیارے یہ صدماتِ فرقت سہارا… Read More

کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں ہمیشہ نقش رہے رُوئے یار آنکھوں میں

کچھ ایسا کردے مرے کردگار آنکھوں میں ہمیشہ نقش رہے رُوئے یار آنکھوں میں نہ کیسے یہ گل و غنچے ہوں خوار آنکھوں میں بسے ہوئے ہیں مَدینے کے خار آنکھوں میں بسا ہوا ہے کوئی گل عذار آنکھوں میں… Read More

جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں سرور دل میں ہو پیدا تو نور آنکھوں میں

جو خواب میں کبھی آئیں حضور آنکھوں میں سرور دل میں ہو پیدا تو نور آنکھوں میں ہٹا دیں آپ اگر رُخ سے اِک ذرا پردہ چمک نہ جائے ابھی برقِ طور آنکھوں میں نظر کو حسرتِ پا بوس ہے… Read More

ہم اپنی حسرتِ دِل کو مٹانے آئے ہیں ہم اپنی دِل کی لگی کو بجھانے آئے ہیں

ہم اپنی حسرتِ دِل کو مٹانے آئے ہیں ہم اپنی دِل کی لگی کو بجھانے آئے ہیں دِلِ حزیں کو تسلی دِلانے آئے ہیں غمِ فراق کو دِل سے مٹانے آئے ہیں کریم ہیں وہ نگاہِ کرم سے دیکھیں گے… Read More