شاعری

مناقب حضرت شاہ بدیع الدین مدار قُدِّسَ سِرُّہٗ الشَّرِیْف

مناقب حضرت شاہ بدیع الدین مدار قُدِّسَ سِرُّہٗ الشَّرِیْف ہوا ہوں دادِ ستم کو میں حاضرِ دَربار گواہ ہیں دلِ مخزون و چشمِ دَریا بار طرح طرح سے ستاتا ہے زُمرۂ اَشرار بدیع بہرِ خدا حرمت شہِ اَبرار مدار چشم… Read More

نغمۂ روح اِستمداد از حضرت سلطانِ بغداد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ

نغمۂ روح اِستمداد از حضرت سلطانِ بغداد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اے کریم ابنِ کریم اے رہنما اے مقتدا اَخترِ برجِ سخاوَت گوہر دُرجِ عطا آستانے پر ترے حاضر ہے یہ تیرا گدا لاج رکھ لے دست و دامن کی… Read More

مسدسات تمہید ذِکرِ معراج شریف

مسدسات تمہید ذِکرِ معراج شریف ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے ہم بیکسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے جوشِ عطش بھی شدتِ سوزِ جگر بھی ہے کچھ تلخ کامیاں بھی ہیں کچھ دردِ سر… Read More

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری خاک منہ میں تِرے کہتا ہے کسے خاک کا ڈھیر مٹ گیا دِین ملی خاک میں عزت تیری تیرے نزدیک ہوا کذبِ الٰہی ممکن تجھ… Read More

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواری جراحت کی فضا ہر زخم کی دامن سے وابستہ ہے جنت کی گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے… Read More

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے نسیم رُوح پروَر سے مشامِ جاں معطر ہے قریبِ طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا مرا دل ہے مدینہ میں مدینہ دل کے اندر ہے ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے… Read More

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوَری پر ہے نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ مونھ قابل دکھانے کے مگر اُن کا کرم ذَرَّہ نواز و بندہ پروَر ہے خبر… Read More

باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے

باغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہے کیا مدینہ پہ فدا ہو کہ بہار آئی ہے اُن کے گیسو نہیں رحمت کی گھٹا چھائی ہے اُن کے اَبرو نہیں دو قبلوں کی یکجائی ہے سنگریزوں نے حیاتِ اَبدی پائی ہے… Read More

اللّٰہ اللّٰہ شہِ کونین جلالت تیری

اللّٰہ اللّٰہ شہِ کونین جلالت تیری فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے ہمیں معلوم ہے دولت تری عادت تیری تو ہی ہے مُلکِ خدا مِلکِ خدا کا مالک راج تیرا… Read More

تم ہو حسرت نکالنے والے

تم ہو حسرت نکالنے والے نامرادوں کے پالنے والے میرے دشمن کو غم ہو بگڑی کا آپ ہیں جب سنبھالنے والے تم سے منہ مانگی آس ملتی ہے اور ہوتے ہیں ٹالنے والے لب جاں بخش سے جلا دِل کو… Read More