islam

تنبیہ 4:

    گذشتہ احادیث سے غصہ کی دوا اور اس کے ہیجان کے بعد اسے زائل کرنے اور علم وعمل کی طرف رجوع کاپتہ چلتا ہے، لہٰذا انسا ن کو چاہے کہ غصہ پینے کی فضیلت میں وارد آئندہ آنے… Read More

تنبیہ 3:

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عبادت و ریاضت سے غضب مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے، اور کچھ کا کہنا ہے کہ'' یہ علاج کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتا۔'' جبکہ سیدنا امام غزالی علیہ… Read More

تنبیہ 2:

    غضب اگر کسی باطل کی وجہ سے ہو تو قابلِ مذمت ہوتا ہے اور اگر باطل کی بجائے حق کی وجہ سے ہو تو قابلِ تعریف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ… Read More

کمالِ مطلق:

    انسان کا مطلق کمال یہ ہے کہ اس کی قوتِ غضب معتدل ہو یعنی نہ تو اس میں افراط ہو اور نہ ہی تفریط، بلکہ وہ قوت دین و عقل کے تابع ہو صرف اسی وقت بھڑکے جہاں… Read More

دل پر اَثرات:

    دل پر اس کے اثرات یہ مرتب ہوتے ہیں کہ جس پر غصہ ہو اس کے خلاف دل میں کینہ اور حسد پیدا ہو جاتا ہے، اس کی مصیبت پر خوشی کا اورخوشی پر غم کااظہار کرتا ہے،… Read More

اَعضا پر اَثرات:

   اَعضا پر اس کے اثرات اس طرح ہوتے ہیں کہ نوبت مار پیٹ بلکہ قتل تک جا پہنچتی ہے، اگر کوئی شخص بدلہ نہ لے سکتا ہو تووہ اپنا غصہ خود پر ہی نکالنے لگتا ہے وہ اس طرح… Read More

زبان پر اَثرات:

  زبان پر غصے اور غضب کے اثرات اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ اس سے بری باتیں نکلتی ہیں مثلاً ایسی فحش اور گندی گالیاں وغیرہ کہ جن سے ہر صاحبِ عقل انسان کو حیا آتی ہے، ایسی گفتگو… Read More

جسم پر اَثرات:

    غضب کے جسم پر جو اثرات طاری ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: رنگ کا متغیر ہونا، کندھوں پر کپکپی طاری ہونا، اپنے افعال پر قابو نہ رہنا، حرکات وسکنات میں بے چینی کا پایا جانا نیز کلام کا… Read More

قوتِ غضب میں افراط:

    اس قوت میں افراط یعنی اضافہ بھی نہایت مذموم ہے کیونکہ یہ قوت انسان پر غلبہ پاتی ہے تو وہ معقول و منقول ہر دو چیزوں کی سوجھ بوجھ سے عاری ہوجاتا ہے اور اس کے پاس کسی… Read More

قوتِ غضب میں تفریط:

غصہ میں تفریط یعنی اس قدر کم آنا کہ بالکل ہی ختم ہو جائے یا پھر یہ جذبہ ہی کمزور پڑ جائے، تو یہ ایک مذموم صفت ہے کیونکہ ایسی صورت میں بندے کی مُرُوَّت اور غیرت ختم ہو جاتی… Read More