نفس کُشی کا کامیاب طریقہ

نفس کُشی کا کامیاب طریقہ

حضرت سیدنا ابو القاسم انباری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرما تے ہیں،مجھے ایک شخص نے بتایا کہ” میں ایک دن صبح صبح حضرت سیدنا بشر بن حارثعلیہ رحمۃاللہ الوارثسے ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔ جیسے ہی میں دروازے کے قریب پہنچا تو اندر سے کسی کی درد بھری آواز سنائی دی۔میں دروازہ کھٹکھٹانے سے باز رہا اور کان لگا کر گھر سے آنے والی درد بھری آواز سننے لگا ۔حضرت سیدنا بشر بن حارث علیہ رحمۃاللہ الوارث کے سامنے ایک خربوزہ رکھاہواتھا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شدید خواہش کے باوجود اس کو نہیں کھار ہے تھے بلکہ اپنے نفس کوملامت کرتے ہوئے کہہ رہے تھے :”اے نفس !تیرا ناس ہو ،کیا تو اسے کھانا چاہتا ہے تجھے اس کی طر ف رغبت کیوں ہوئی ؟”
اسی طر ح بار بار اپنے نفس کو ملامت کررہے تھے ، جب میں نے دیکھا کہ معاملہ طُول پکڑ گیا ہے اور دن بلند ہو رہا ہے تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے دروازے پر دستک دے دی ، آواز آئی:” کون ؟” میں نے اپنا نام بتایا۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اندر آجاؤ۔” میں اندر داخل ہوا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے عرض کی :”اے ابو نصر بشر بن حارث (علیہ رحمۃاللہ الوارث) ! آپ اپنے نفس پر اتنی سختی کیوں کر رہے ہیں؟اسے حلال چیز کے کھانے سے کیوں روک رہے ہیں؟ کیا اللہ رب العزت جلّ جلالہ نے بندو ں کو رخصت اور رعایتیں عطا نہ فرمائیں؟ کیا یہ چیزیں ہمارے لئے حلال نہیں ہيں؟ پھر آپ(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) اپنے اوپر اتنی سختی کیوں کر رہے ہو ؟”
حضرت سیدنابشربن حارث علیہ رحمۃاللہ الوارث فرمانے لگے :”اے میرے بھائی! میں نے کافی عرصہ سے اپنے نفس کوصبرکاعادی بنارکھاہے۔ جب کبھی یہ کسی چیز کی خواہش کرتاہے تومیں اسے صبرکی تلقین کرتا ہوں اوریہ صبرکرنے پرآمادہ ہو جاتا ہے ، اگراس کوڈھیل دی جائے تویہ مزید خواہشات کامتمنی ہوتاہے۔ پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک شعرپڑھا جس کا مفہوم یہ ہے: ”نفس کے لئے یہی بہتر ہے کہ انسان اسے خواہشات سے روکے رکھے۔ اگر اسے اس کی دل پسند چیز کھلاؤ گے تو وہ مزید طلب کریگا اور اسے ہر طر ح حاصل کرنے کی کوشش کر ے گا ۔”
پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے وہ خربوزہ پھینک دیا اور کہا:”اسے یہاں سے اٹھالو۔” پھر کچھ اشعار پڑھنے لگے ،جن کا مفہوم یہ ہے :”بے شک میرا نفس مجھ سے مطالبہ کرتا ہے کہ میں پیٹ بھر کر اس کی من پسند غذائیں کھاؤں اور اپنے دین کو داؤ پر لگا دوں، مگریہ ناممکن بات ہے، اور جو شخص دنیا حاصل کر لے لیکن دین سے محروم رہے تو وہ بہت زیادہ خسارے میں ہے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!