غزل

میں کیسے کہہ دوں کہ اس کا ضمیر ہے زندہ

میں کیسے کہہ دوں کہ اس کا ضمیر ہے زندہ جو اپنی بھول پہ ہوتا نہیں ہے شرمندہ رہا ہے جس کو سروکار اپنی مطلب سے بنا ہے اپنے قبیلے کا وہ نمائندہ نشانیاں مرے اسلاف کی منور ہیں ورق… Read More