ایک بادشاہ کی توبہ

ایک بادشاہ کی توبہ

حضرت عباد بن عباد علیہ الرحمۃ فرماتے ہيں کہ اہل بصرہ ميں ايک بادشاہ نے درویشی اختيار کی مگر کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ دنيا اور مملکت کی طرف مائل ہو گيا ۔اس نے ايک عمارت بنوائی اور اس پر بہترين کام کروايا ۔اس کے حکم پر بہترين قالين وغيرہ بچھائے گئے ۔پھر اس نے عالیشان دعوت کا اہتمام کيا ،تو لوگ جوق در جوق آتے ، کھاتے پيتے اس عمارت کو ديکھ کر متعجب ہوتے اور چلے جاتے ،يہ سلسلہ کئی دن چلتا رہا۔
عام لوگوں سے فارغ ہو کر يہ اپنے گھر والوں اور بھائيوں کے ساتھ بیٹھا تھا

اور کہنے لگا:”تم اس گھر کی وجہ سے ميری خوشی ديکھ رہے ہو ،میں سوچ رہا ہوں کہ ميں اپنے ہر بيٹے کے ليے ايک ايسا ہی گھر بناؤں ،تم لوگ کچھ دن ميرے پاس قيام کرو تاکہ ميں تم سے گفت وشنيد کروں اور اپنے مقصد کے ليے مشورے کر سکوں ۔”تو يہ لوگ کچھ دن اس کے پاس رہے، کھيل کود کرتے اور کچھ مشورے ہوتے کہ بیٹوں کے ليے کس طرح بنايا جائے اور اس کا کيا ارادہ ہے ۔”ايک رات انہوں نے گھر کے کونے سے کسی کی آواز سنی ،وہ کہہ رہا تھا ۔

ياا یھا البانی والناسی ميتہ
لا تاملن فان الموت مکتوب

اے عمارت بنانے والے اور اپنی موت کو بھولنے والے اميد نہ کر بے شک موت لکھی ہوئی ہے۔

علی الخلائق ان سروا وان فرحوا
فالموت حتف لذی الامال منصوب

مخلوق پر اگر وہ خوش ہوں اور فرحت ميں ہوں، بس موت اميد والوں کو کاٹنے کھڑی ہے ۔

لاتبنين ديارا لست تسکنھا
وراجع النسک کيما یغفر الحوب

ايسے گھر مت بنا جس ميں تجھے رہنا نہيں اور درویشی کی طرف لوٹ جا تاکہ معاف کيا جائے۔
يہ آواز سن کر وہ اور اس کے ساتھ والے بہت زيادہ خوفزدہ ہو گئے اور جو کچھ سنا

اس سے ڈر گئے تو اس نے اپنے ساتھيوں سے پوچھا کہ”جو آواز ميں نے سنی ہے تم نے بھی سنی ؟”انہوں نے کہا :”جی ہاں !”اس نے پھر پوچھا ”کيا تم بھی وہی محسوس کر رہے ہو جو ميں محسوس کر رہا ہوں ؟”انہوں نے پوچھا :” تجھے کيا محسوس ہو رہا ہے؟”اس نے کہا :”واللہ!ميں دل پر ايک بوجھ محسوس کر رہا ہوں اور ميں سمجھتا ہو ں کہ يہ موت کی علامت ہے ۔”
اس کے بعد يہ خوب رويا اور ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا:” تم ميرے دوست اور بھائی ہو تمہارے پاس ميرے ليے کيا ہے ؟”انہوں نے کہا” جو تو پسند کرے وہ حکم کر ۔”تو اس نے شراب پھينکنے کا حکم ديا ، کھيل کود کی چيزيں باہر نکلوا ديں ،پھر کہنے لگا ”اے اللہ عزوجل!ميں تجھے اور تيرے ان حاضر بندوں کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ ميں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور مہلت کے ايام ميں اپنے کيے پر نادم ہوں اور ميں تجھ سے خود پر تيری نعمتوں کااتمام تيری رحمت پر رجوع کے واسطہ سے مانگتا ہوں اور اگر تو مجھے اٹھائے تو اپنے فضل سے ميرے گناہ معاف کر کے اٹھا۔”پھر اس کی تکليف بڑھ گئی اور يہ برابر يہی کہتا رہا:” واللہ!موت ہے واللہ يہ موت ہے حتی کہ اس کی جان نکل گئی ۔”

(کتاب التوابين ،تو بۃ ملک من ملوک البصرۃ ، ص۱۴۵ ۔ ۱۴۶)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!