تجارت اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا معمول

تجارت اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا معمول

اگر ہم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت پر نظر ڈالیں تو ہرطرف تقویٰ وپرہیزگاری اور طلبِ رضائے الٰہی کی بہاریں نظر آتی ہیں۔وہ مقبولانِ خدا تجارت تو کرتے مگر کبھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تھے۔چنانچہ حضرت سَیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تجارت تو کرتے تھے مگر جب انہیں حُقُوقُ اللہ میں سے کوئی حق پیش آجاتا تو تجارت اور خریدو فروخت انہیں ذکرُ اللہ سے نہ روکتی،یہاں تک کہ وہ اسے ادا کرلیتے۔(1) صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسی طرزِ عمل کو بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے پاک کلام قرآن مجید فُرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: رِجَالٌ ۙ لَّا تُلْہِیۡہِمْ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ(پ۱۸، النور:۳۷)
ترجَمۂ کنز الایمان:وہ مرد جنہیں غافل نہیں کرتا کوئی سودا اور نہ خرید و فروخت اللہ كی یاد اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے سے۔
حضرت ابنِ مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھاکہ بازار والوں نے اذان سنتے

ہی اپنا (تجارتی )سامان چھوڑا اور نماز کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔اس پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایاکہ اِنہی لوگوں کے حق میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آیت ”رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ “نازل فرمائی ہے۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسلام کا اولین دور کتنا خوبصورت اور روشن تھا کہ جب مسلمان تقویٰ وپرہیزگاری کے پیکر ہوا کرتے تھے،وہ حضرات کسبِ حلال کیلئے تجارت تو کرتے تھے مگر بددیانتی ، جھوٹ اور فریب وغيره سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے۔آئیے!ترغیب کے لئےاسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی سچی اور پاکیزہ تجارت کے دو ایمان افروز واقعات مُلاحظہ کیجئے۔

﴿1﴾عیب دار چیز بِکنے پر ردِّ عمل

کروڑوں حنفیوں کے پیشوا حضرت سَیِّدُنا امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حصولِ رزقِ حلال کے لئے تجارت کا پیشہ اپنایا تھا ،آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کپڑے کے بہت بڑے تاجر تھے مگر اس کے باوجودآپ کی تجارت احسان، خیر خواہی اور اسلام کے پاکیزہ اصولوں پر مشتمل تھی ۔چنانچہ حضرت سیِّدُناحفص بن عبدالرحمٰن عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ میرے ساتھ تجارت کرتے تھے اور مجھے مالِ تجارت بھیجتے ہوئے فرمایاکرتے:اے حفص! فلاں کپڑے میں کچھ عیب ہے۔ جب تم اسے فروخت کروتو عیب بیان کر دینا۔ حضرت

سیِّدُناحفص نے ایک مرتبہ مالِ تجارت فروخت کیااور بیچتے ہوئے عیب بتانابھول گئے۔ جب امامِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو علم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام کپڑوں کی قیمت صدقہ کر دی ۔(1)

﴿2﴾دیانتدار تاجر

حضرت سَیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی بھی تجارت کیا کرتے تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے یہ عہد کیا ہوا تھا کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا اور آپ اپنے اس عہدپر سختی سے عمل بھی کِیاکرتےتھے۔ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بازار تشریف لے گئےاور60دینار کے بدلے96صاع بادام خریدے پھر انہیں بیچنے لگے اور ان کی قیمت 63دینار رکھی، تھوڑی دیرکے بعد آپ کے پاس ایک تاجر آیا اورکہنے لگا:میں یہ سارے بادام آپ سے خریدنا چاہتا ہوں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: خرید لو۔ اس نے پوچھا: کتنے دینار لیں گے؟ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:63دینار۔اس تا جر نے کہا:حضور!باداموں کا ریٹ بڑھ گیا ہے اور اب 96 صاع باداموں کی قیمت 90دینا ر تک پہنچ چکی ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مجھے 90دینار میں یہ بادام فروخت کردیں۔حضرت سَیِّدُنا سری سقطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے وعدہ کرلیا ہے کہ تین دینار سے زیادہ نفع نہیں لوں گا لہٰذا میں اپنے وعدہ کے مطابق تمہیں یہ با دام بخوشی 63دینار میں فروخت
کرتا ہوں، اگر چاہو تو خرید لو، میں اس سے زیادہ رقم ہر گز نہیں لوں گا۔ وہ تاجر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نیک بندہ تھااوراپنے مسلمان بھائی کی بھلائی کاخواہاں تھا ۔دھوکے سے ان کا مال لینے والا یا بددیانت تا جر نہ تھا۔جب اس نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی یہ بات سنی تو کہنے لگا : میں نے بھی اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ کبھی بھی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ بد دیانتی نہیں کروں گا اور نہ ہی کبھی کسی مسلمان کا نقصان پسند کروں گا۔ اگر تم بادام 90 دینار میں بیچو تو میں خریدلوں گا ،اس سے کم قیمت میں کبھی بھی یہ بادام نہیں خریدوں گا ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بھی اپنی بات پر قائم رہے اور فرمایا: میں 63دینار سے زیادہ میں فروخت نہیں کرو ں گا ۔چنانچہ نہ تو اس امانت دارتاجر نے یہ بات گوارا کی کہ مَیں کم قیمت میں خریدو ں او رنہ ہی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تین دینار سے زیادہ نفع لینے پرراضی ہوئے بالآخر ان کاسودا نہ بن سکا اور تا جر وہاں سے چلا گیا ۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام حُصُولِ مال کی خواہش کے بجائےلقمۂ حرام سے بچنے کی فکرکیا کرتے تھےیہی وجہ ہے کہ امام اعظم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم نے فروخت کردہ کپڑوں کی حاصل شدہ رقم اپنے پاس رکھنا گوارا نہ کی مگر افسوس! بدقسمتی سے فی زمانہ اکثر لوگوں کو کثرتِ مال ہی کی فکر دامن گیر رہتی ہے حالانکہ دنیا میں جس کے پاس
جتنا زیادہ مال ہوگا آخرت میں اسے اتنا ہی زیادہ حساب بھی دینا ہوگا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معجم کبیر،عبد الله بن مسعود…الخ، ۹/۲۲۲، حدیث:۹۰۷۹

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!