حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا امتحان:

حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کا امتحان:

منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی آزمائش کا وقت قریب آیاتوحضرتِ سیِّدُنا جبرائیل علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے حا ضر ہوکر عرض کی:” اے ایوب (علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام)! عنقریب آپ کارب عَزَّوَجَلَّ آپ پر ایسی آزمائش اورہولناک معاملہ نازل فرمائے گا کہ جسے پہاڑ بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔” توحضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں محبوب کے ساتھ تعلق میں ثابت قدم رہا تو ضرور صبرکروں گا یہاں تک کہ کہا جائے گا: ” یہ

انتہائی تعجب خیز بندہ ہے۔ ” تو انہیں ایک آواز سنائی دی: ”اے ایوب(علی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام)!میری آزمائش کے لئے تیار ہو جاؤ اور میرا حکم و فیصلہ نازل ہونے تک صبرکرتے رہو۔” آپ کی آزمائش کا سبب یہ تھا کہ ابلیسِ لعین نے حسد کی وجہ سے طرح طرح کے مکروحیلے سے آپ پر غالب ہونا چاہالیکن نہ ہو سکاتوکہنے لگا :”یااللہ عزَّوَجَلَّ ! ایوب شکر گزار بندہ ہے اور اس لئے تیرا فرمانبردار ہے کہ تو نے اسے مال ،رزق اوراولاد میں وسعت عطا فرمائی اور صحت بخشی ہے، اگر تویہ سب کچھ واپس لے لے تو ایک لمحہ بھی تیری اطاعت نہ کریگا۔” تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا: ”جا، میں نے تجھے اس پر مسلط کردیا اوروہ اپنی حالت ہرگز تبدیل نہ کریگا۔” پس پہلے دن اولاد لے کر آزمائش ہوئی توآپ علیہ الصلٰوۃ والسلام اور زیادہ محنت کر نے لگے۔ دوسرے دن مال کو جلا دیا گیا تو حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا :”تمام عطائیں اسی کی ہیں، چاہے تو لے لے اور چاہے تو عطا کردے۔” تیسرے دن ابلیس ملعون نے آپ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے جسم میں پھونک ماری جبکہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نمازِ فجر ادا فرمارہے تھے کہ آپ جسمانی بیماری میں مبتلا ہوگئے، سارے بدن میں آبلے پڑ گئے لیکن آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام ظاہر و باطن میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرکرتے رہے۔ مال واولاد چلے جانے کے بعد جب آپ جسم کی آزمائش میں مبتلا ہوئے توفرمایا:” تمام خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے مجھے اپنی عبادت کے لئے چن لیا اورمجھ پر اپنا خاص فضل اور بھلائی فرمائی اور مجھے اپنے علاوہ کسی چیزمیں مشغول نہ رکھا ۔” حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام ہمیشہ ذکر کرتے رہے اوراپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی حمداور شکر بجا لاتے رہے۔
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!آزمائش انسان کے احوال کوظاہر کردیتی ہے اور محبت کے دعوے دار کی حالت بہت جلد واضح کردیتی ہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے پیارے نبی حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام پر ستر ہزار قسم کی آزمائشیں نا زل فرمائیں لیکن آپ علیہ السلام نے صبر وشکر کیا اورشِکْوَہ نہ کیا۔ تو سن لو، اے بھائیو! تم تو ایک کانٹا بھی برداشت نہیں کر سکتے جبکہ حضرتِ سیِّدُنا ایوب علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام کو اولاد لے کرآزمایا گیا مگر آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عبادت میں اضافہ کر دیا، مال لے لیا گیا مگر محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں ذرہ برابر کمی نہ آئی، زیادہ سے زیادہ عبادت کرتے رہے اور تمام آزمائشوں پر راضی رہے اور ظاہری و باطنی طور پربالکل کوئی شکوَہ نہ کیا ۔چنانچہ آپ علیہ الصلٰوۃ و السلام کو ندا دی گئی: ”اے ایوب (علیہ الصلٰوۃ والسلام)! تو نے ہماری آزمائشوں پر صبر کیا توہم تجھے تیرا مال اوراولاد لوٹا دیں گے اور تیرے جسم کو آزمائش سے عافیت بخش دیں گے اور تیرا نام اپنی آخری کتاب میں لکھ دیں گے اور تیرا ذکر محبوب بندوں کے رجسٹر میں پھیلا دیں گے۔ (چنانچہ، اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے)

(1) اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ۚ ہٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ ﴿42﴾

ترجمۂ کنزالایمان :ہم نے فرمایا زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ ہے ٹھنڈا چشمہ نہانے اور پینے کو۔ (پ23،صۤ: 42)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!