Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرت سیِّدُناخضرعلیہ السلام کاکھاناکھِلانا:

حضرت سیِّدُناخضرعلیہ السلام کاکھاناکھِلانا:

حضرت سیِّدُنا ابو بکرہمدانی قُدِّسَ سِرُّہ، النُّورَانِی فرماتے ہیں کہ” ایک دفعہ میں کچھ کھائے پئے بغیر حجاز کے جنگل میں چالیس دن رہا۔پھر ایک دن مجھے گرم ساگ اور روٹی کھانے کی خواہش ہوئی تومیں نے اپنے دل میں کہا: ” میں جنگل میں ہوں، میرے اور عراق کے درمیان طویل مسافت ہے ۔” ابھی میری بات بھی پوری نہ ہوئی تھی کہ میں نے ایک اعرابی کو دورسے یہ ندا دیتے ہوئے سنا: ”اے گرم ساگ اور روٹی کے خواہش مند!”میں نے اس کے پاس جا کرپوچھا: ”کیاآپ کے پاس گرم ساگ اور روٹی ہے؟” اس نے جواب دیا:”جی ہاں۔” پھراس نے چادر بچھا کر روٹی اور ساگ نکالا اورمجھے کھانے کو کہا،میں نے کھا لیا۔ اس نے پھر کہا : ”مزید کھائیں۔”میں نے پھر کھا لیا۔اس نے تیسری بار کھانے کو کہا تو میں نے کھا لیا لیکن جب چوتھی مرتبہ اس نے کہا تو میں نے اس سے پوچھا:” اس ذات کی قسم جس نے آپ کومیرے پاس بھیجا! آپ کون ہيں؟ ” تو اس نے جواب دیا: ”میں خضر (علیہ السلام)ہوں۔”پھروہ غائب ہو گئے اس کے بعد میں ان کی زیارت نہ کر سکا۔

ولی کی حفاظت کا خدائی انتظام:

حضرت سیِّدُنا ابراہیم خوَّاص رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ” سفرِ مکہ کے دوران رات کے وقت میراگزرایک ویران کھنڈر سے ہوا،اس میں ایک بہت بڑا درندہ دیکھ کرمیں ڈرگیا۔ اچانک غیب سے ایک آواز آئی:”ثابت قدم رہو،کیونکہ تمہارے اردگردحفاظت کے لئے ستر ہزار فرشتے موجودہیں ۔”

فرمانبردار گدھا:

حضرت سیِّدُنا ایوب حمال علیہ رحمۃ اللہ الرزاق فرماتے ہیں کہ” حضرت سیِّدُنا ابو عبد اللہ دیلمی علیہ رحمۃاللہ الغنی جب سفرمیں کسی جگہ ٹھہرتے تو اپنے گدھے کے کان میں فرما یا کرتے: ”میں تجھے باندھنا چاہتا تھا لیکن اب نہیں باندھوں گا بلکہ تجھے اس صحرا میں بھیج رہا ہوں تاکہ تو گھا س کھا لے۔ لہٰذا جب ہم یہاں سے کوچ کاارادہ کریں تو واپس آجانا۔”جب روانگی کا وقت ہوتاتووہ گدھا حقیقتاً آپ کے پاس واپس آجاتا۔”

ریت ستُّو بن گئی:

حضرت سیِّدُنا آدم بن ابی ایاس رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”میں عسقلان میں تھا اور ہمارے پاس ایک نوجوان شخص آتا،ہمارے پاس بیٹھتا،گفتگو کرتارہتا اور جب ہم فارغ ہوتے تو نماز پڑھنے لگ جاتا۔اس نے ایک دن ہمیں الوداع

کہتے ہوئے کہا: ”میں اسکندریہ جارہاہوں۔”میں بھی اس کے ساتھ نکل پڑا اور اس کو کچھ درہم دیئے لیکن اس نے لینے سے انکار کر دیا۔جب میں نے ا س کو مجبور کیا تو اس نے اپنے مشکیزے میں مٹھی بھر ریت ڈال کر اوپر سے سمندر کا پانی ڈال دیا پھر مجھے کہا: ”کھاؤ۔”میں نے دیکھا تو یہ انتہائی لذیذاورمیٹھے ستوتھے۔” اس نے کہا: ”جس کی حالت ایسی ہو اسے درہموں کی کیا ضرورت ہے؟” پھر اس نے چند اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے:
”دل میں کوئی جگہ ایسی نہیں جومحبوب کے علاوہ کسی کی محبت کے لئے خالی ہو۔میرا سوال اور اُمید ومرادسب وہی میرا حبیب ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں میری زندگی اسی کے لئے ہے۔ جب کبھی کوئی بیماری میرے دل پر اُتری تو اس کے علاوہ اس بیماری کا علاج کسی نے نہ کیا۔”
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! جب ایک قوم پر عنایتِ باری تعالیٰ کی ہوا چلی تواس نے ان کے جہالت وغفلت سے مرے ہوئے دلوں کو زندہ کر دیا۔ ان کو توفیق کے پیالے میں پاکیزہ شراب سے سیراب کیا توان کی ارواح میں خوشی و مسرت کے آثار نمودار ہوگئے اوروجد وراحت کا اثر چمک اٹھا۔انہوں نے دنیا کو نگاہِ عبرت سے دیکھا تو اس حقیقت کو پا لیا کہ یہاں کوئی حقیقی گھر نہیں اور انہوں نے دولت و اقتدار کی بجائے آخرت کی تیاری میں جلدی کرنے کو غنیمت جانا۔ ان کے دن روزے میں اور راتیں ذکر واذکار میں گزریں۔ جب غافل نیندسے لطف اندوزہو رہے ہوتے تو وہ مولیٰ کریم عَزَّوَجَلَّ سے مناجات میں مشغول رہتے۔ محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ نے ان کو اپنی رضاعطاکی توانہوں نے اس کی محبت کو ہر شئے پر ترجیح دی۔ اس نے ان کو محبت کے پیالے سے سیراب کرکے رات کی تنہائی میں ان پر تجلِّی فرمائی تو وہ اس کے مشاہدہ اور دیدار سے لطف اندوز ہوئے۔ پھر محبوب نے ان کو ندا دی: ”اے میرے محبوب بندو! میرے دروازے پر آجاؤ، میں نے تمہارے لئے حجاب اٹھا کرجنت کے دروازے کھول دیئے ہیں اورتم میں سے ہر ایک کو اس کی من مانتی مرادیں عطاکردی ہیں۔

وَصَلَّی اللہُ علٰی سيِّدِنا محمَّدٍ وَاٰ لہٖ وصحبہٖ وَسَلَّمَ تَسْلِیْماً دَائِماً اِلٰی یَوْمِ الدِّیْن

error: Content is protected !!