Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

خوفِ خداعَزَّوَّجَلَّ میں رونے والوں کا بیان

خوفِ خداعَزَّوَّجَلَّ میں رونے والوں کا بیان

حمد ِباری تعالیٰ:

سب خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے خائفین کی آنکھوں کوخوفِ وعیدسے رُلایا تو ان کی آنکھوں سے چشموں کی مانند آنسوجاری ہوگئے اور اُن ہستیوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کے بادل برسائے جن کے پہلُو بستروں سے جدارہتے ہیں، انہوں نے”تقویٰ” کو اپنا فخریہ لباس بنایا، خوف نے اُن کی نیند اور اُونگھ اُڑا دی، جب لوگ خوش ہوتے ہیں تو وہ غمگین ہوتے ہیں۔ آنسوؤں نے ان کی نیند اور سکون ختم کر دیا پس وہ غمگین اور دَرد بھرے دل سے روتے ہیں، انہوں نے آہ وبُکا کو اپنی عادت اور آنسوؤں کو پانی بنا لیا۔ ان کے دن غم میں کٹتے اور راتیں پھوٹ پھوٹ کر رونے میں گزرتی ہیں، وہ آہ وزاری سے سَیر نہیں ہوتے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے انسان کو ہنسایااور رُلایااورزندگی اور موت عطا فرمائی اورماضی و مستقبل کاعلم سکھایا۔ انہوں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے عہد کیا تو اس کو وفاکرنے والا پایا ۔اس سے معاملہ کیا تو ساری زندگی نفع دینے والا پایا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں ربّ ِ عظیم عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:

اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا ﴿ٛ58﴾

ترجمۂ کنزالایمان :جب ان پر رحمن کی آیتیں پڑھی جاتیں گرپڑتے سجدہ کرتے اور روتے۔( پ16،مریم :58)(۱)(یہ آیتِ سجدہ ہے اسے پڑھنے،سننے والے پرسجدہ کرناواجب ہے)
اُن میں سے ہر ایک اپنا چہرہ خاک پر رکھ دیتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو رنجیدگی سے خالی پاتے ہیں تو روتے اور گریہ وزاری کرتے ہیں اور جب اپنے گناہوں کے متعلق سوچتے ہیں توخوب گِڑگِڑاتے ہیں اور آنسوؤں سے ان کی پلکیں زخمی ہوجاتی ہیں ۔ وہ سب بادشاہِ حقیقی کی بارگاہ میں پلکوں کے بادلوں سے آنسو بہاتے اور روتے روتے ٹھوڑی کے بل گر پڑتے ہیں اور اہل صدق ووفا کے متعلق سرکار علیہ الصلٰوۃوالسلام کا یہ فرمان کہ ”اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے والی صورت بنا لو۔” (سنن ابن ماجۃ ، ابواب الزھد،باب الحزن والبکاء،الحدیث۴۱۹۶،ص۲۷۳۲) سنتے ہیں تورونے سے نہیں اُکتاتے ۔ اوران میں سے ہرایک اپنی لغزش پرروتاہے ۔سبھی اس کی سطوت و اقتدار سے خوف زدہ رہتے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَہُمۡ مِّنْ خَشْیَتِہٖ مُشْفِقُوۡنَ ﴿۲۸﴾ ترجمۂ کنزالایمان :اور وہ اس کے خوف سے ڈر رہے ہیں۔ (پ۱۷، الانبیآء:۲۸

پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندوں کو ہر طرح کی آزمائشوں میں مبتلا فرمایایہاں تک کہ اپنے مقرب انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی آزمایا اور حضرتِ سیِّدُنا آدم علیہ السلام کو جنت سے اُتارا گیا توابوالبشر ہونے کے با وجود چالیس سال تک روتے رہے۔ حضرتِ سیِّدُنا یعقوب علیہ السلام حضرتِ سیِّدُنا یوسف علیہ السلام کے غم میں اس قدر روئے کہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں سفید ہو گئیں اورجب دوسرے بیٹوں نے اُن کو آپ علیہ السلام سے دورکردیاتو آپ علیہ السلام نے اُن سے فرمایا: اِنَّمَاۤ اَشْکُوۡا بَثِّیۡ وَحُزْنِیۡۤ اِلَی اللہِ وَاَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾ ترجمۂ کنزالایمان : میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں ۔اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔(۱۳،یوسف:۸۶)(۱)
جب بھائیوں نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُنا یعقوب علیہ السلام صرف حضرت سیِّدُنا یوسف علیہ السلام سے ہی زیادہ محبت کرتے ہیں تو انہوں نے آپ علیہ السلام کو گہرے کنوئیں میں ڈال دیا، وَجَآءُوۡۤ اَبَاہُمْ عِشَآءً یَّبْکُوۡنَ ؕ﴿۱۶﴾ ترجمۂ کنزالایمان : اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔” ( پ۱۲،یوسف:۱۶)
حضرتِ سیِّدُنا داؤد علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام اپنی لغزش پر چالیس سال تک روتے رہے،آپ علیہ السلام نے اتنا عرصہ ندامت سے اپنا سراوپرنہ اٹھایاپھر ندا دی گئی: ”اے داؤد!ہم نے تیری لغزش معاف فرما دی اور محبت دنیا میں ایک بار ملتی ہے دوبارہ نہیں ملتی۔”
شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مغفرت نشان ہے : ” اللہ عزَّوَجَلَّ کو کوئی شئے دوقطروں سے زیادہ پسندنہیں:(۱)۔۔۔۔۔۔ خوف ِالٰہی عَزَّوَجَلّ سے بہنے والا آنسوؤں کا قطرہ اور (۲) ۔۔۔۔۔۔اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں بہنے والا خون کا قطرہ۔”

(جامع التر مذی ،ابواب فضائل الجھاد ، باب ماجاء فی فضل المرابط ، الحدیث ۱۶۶۹،ص۱۸۲۳)

سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے: ”بروزِ قیامت ہر آنکھ روئے گی مگر وہ آنکھ جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء سے بچی اور وہ آنکھ جو رات بھر اللہ عزَّوَجَلَّ کی راہ میں جاگتی رہی اور وہ کہ جس سے اللہ عزَّوَجَلَّ کے خوف سے مکھی کے سر کی مثل آنسو بہا ۔”

(حلیۃ الاولیاء،صفوان بن سلیم،الحدیث۳۶۶۳،ج۳،ص۱۹0)

حضور نبئ کریم، ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہ دعا فرمایا کرتے :”اے اللہ عزَّوَجَلَّ!مجھے رونے والی آنکھیں عطا فرما جو تیرے خوف سے آنسو بہاتی رہیں اس سے پہلے کہ خون کے آنسو رونا پڑے اور داڑھیں پتھرہوجائیں۔” (الزھد للامام احمد بن حنبل،الحدیث۴۸،ص۳۴)

؎ رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں
ذکرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنی کسی آسمانی کتاب میں ارشاد فرمایا:”میرے عزت وجلال کی قسم! جو بندہ میرے خوف سے روئے گا میں اس کے بدلے مقدس نورسے اسے خوشی عطا کروں گا۔میرے خوف سے رونے والوں کو بشارت ہوکہ جب رحمت نازل ہوتی ہے تو سب سے پہلے انہی پرنازل ہوتی ہے۔اورمیرے گنہگار بندوں سے کہہ دو کہ”وہ میرے خوف سے آہ وبکا کرنے والوں کی محفل اختیار کریں تاکہ جب رونے والوں پر رحمت نازل ہو تو ان کو بھی رحمت پہنچے۔”

(موسوعۃ للامام ابن ابی الدنیا،کتا ب الرقۃ والبکاء، الحدیث۸/۱۸/۲۷،ج۳،ص۱۷۱تا۱۷۴)

حضرتِ سیِّدُنانَضَربن سعدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی کی آنکھ سے خشیّتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے آنسوبہتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے چہرے کوجہنم پر حرام فرما دیتا ہے۔ اگر اس کے رخسارپربہہ جائے تو قیامت کے دن نہ وہ ذلیل ہو گااور نہ اس پر کوئی ظلم ہو گا۔ اور اگر کوئی غمگین شخص اللہ عزَّوَجَلَّ کے خوف سے کچھ لوگوں میں روئے تواللہ عزَّوَجَلَّ اس کے رونے کے سبب ان لوگوں پر بھی رحم فرماتاہے۔ آنسو کے علاوہ ہرعمل کا وزن کیا جائے گا اور آنسوؤں کا ایک قطرہ آگ کے سمندروں کو بجھادیتا ہے ۔”

(المرجع السابق،الحدیث۱۴،ج۳،ص۱۷۲)

حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ارشاد فرمایا:”اللہ عزَّوَجَلَّ کے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہانا مجھے ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے ۔”

(احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء، بیان فضیلۃ الخوف،ج۴، ص۲0۱)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب دلوں کی زمین سے خوف پیدا ہو، آنسوبہہ کرخشیت کے باغیچے کوسیراب کریں تو ندامت کی کلی کھِل اُٹھتی ہے اور توبہ کا پھل نصیب ہوجاتاہے۔حضرتِ سیِّدُنا داؤدعلٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام اپنی لغزش پر دن رات روتے رہتے تھے گویاآپ علیہ السلام نے خوشی کا حُلّہ اُتارکرغم کا لباس زیبِ تن کر لیاتھا، کبوترآپ علیہ الصلٰوۃوالسلام کی آواز سے خاموش ہوجاتے،دل آپ علیہ السلام کی چیخوں سے مضطرب ہوجاتے، آپ علیہ السلام کے آنسوؤں سے گھاس سیراب ہو جاتی۔ آپ علیہ السلام اپنی مناجات میں عرض کرتے :”میں تیرے بندوں کے طبیبوں سے علاج کرانے کے لئے نکلا کہ وہ میرے دل کی بیماری کا علاج کریں لیکن سب نے تیری راہ بتائی۔ اے اللہ عزَّوَجَلَّ ! میری آنکھوں کو آنسوبہانے کی توفیق عطا فرما

اور میری کمزوری کو قُوَّت سے بدل ڈال تاکہ میں تجھے راضی کرسکوں ۔”
حضرتِ سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ روناخوف سے آتاہے اوربے قراری رجاء وشوق سے ہوتی ہے۔ جب حضرتِ سیِّدُنامحمدمنکدررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ رویاکرتے تواپنے چہرے اورداڑھی پر آنسو مَل لیاکرتے۔ان سے اس کے متعلق عرض کی گئی تو ارشاد فرمایا:”مجھے پتا چلا ہے کہ آگ اس جگہ کو نہ کھائے گی جسے آنسو چھوئیں۔ (سیر اعلام النبلاء ، الرقم۷۷۷، محمدبن مکندربن عبد اللہ،ج۶،ص۱۵۹) اے میرے عزیز!یہ روناگناہوں کی آگ کوبجھاتا،دلوں کی کھیتی کو زندہ کرتا اور مطلوب تک پہنچاتاہے۔اپنی تنہائیوں میں بے وفائیوں پر روتا رہ اور دن رات لغزشوں اورگناہوں پر آنسو بہاتا رہ۔
حضرتِ سیِّدُناابوبکرکنانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں ایک ایسانوجوان دیکھا جس سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہ دیکھاتھا۔ میں نے اس سے پوچھا: ”توکون ہے؟”تو اس نے جواب دیا : ”میں تقویٰ ہوں۔”میں نے اس سے استفسار کیا: ”تو کہا ں رہتا ہے ؟”تواُس نے بتایا :”ہرغمگین رونے والے کے دل میں۔”
منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا یزیدرقاشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے خواب میں اللہ کے پیارے حبیب ،حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زیارت کی ۔آ پ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سامنے قرا ء َت کی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا :”یہ قراء َت ہے تو رونا کہاں ہے ؟” حضرتِ سیِّدُنا احمدبن ابی حواری علیہ رحمۃ اللہ الباری ارشادفرماتے ہیں:”میں نے اپنی لونڈی کوخواب میں دیکھاکہ اُس سے زیادہ حسین کوئی عورت نہ دیکھی تھی۔اس کا چہرہ حسن وجمال سے دَمَک رہاتھا۔ میں نے اس سے پوچھا: ”تیرا چہرہ اتناروشن کیوں ہے ؟” تو وہ کہنے لگی :”آپ کو وہ رات یادہے جب آپ (رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) اللہ عزَّوَجَلَّ کے خوف سے روئے تھے ؟” میں نے کہا:”جی ہاں۔”اس نے کہا :”آپ کے آنسوؤں کاایک قطرہ میں نے اُٹھا کراپنے چہرے پر مل لیا تو چہرہ ایسا ہو گیا جیسا آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔”
حضرتِ سیِّدُنا عطاء سلمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بارے ميں منقول ہے کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ بہت زیادہ گریہ وزاری فرماتے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”میں کیوں نہ روؤں حالانکہ موت کے پھندے میری گردن میں ہیں، قبر میرا گھر ہے اور قیامت میراٹھکاناہے اور اپنا اپنا حق مانگنے والے میرے اِردْگرد کھڑے ہوکر پکار رہے ہیں:”اے شخص! ہمارے اور تمہارے درمیان میدانِ محشر میں فیصلہ ہوگا۔”
حضرتِ سیِّدُنایزیدرقاشی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی موت کے وقت رونے لگے تو ان سے عرض کی گئی:”آپ کیوں روتے ہیں؟” تو ارشادفرمایا: ”میں اس وجہ سے روتا ہوں کہ اب مجھے راتوں کے قیام، دن کے روزوں اور ذکر کی مجالس میں حاضری کا موقع نہ ملے گا۔”

حضرتِ سیِّدُنا عامربن قیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وقتِ وصال قریب آیا تو رونے لگے۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی گئی: ”کون سی چیز آپ کو رُلارہی ہے ؟” تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشادفرمایا:”میں سخت گرمیوں کے روزوں اور سردیوں میں قیام پر رو رہا ہوں۔” (کیونکہ اب دوبارہ یہ موقع ہاتھ نہ آئے گا)
حضرتِ سیِّدُنا ابوشَعْثَاء رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی موت کے وقت رونے لگے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے دریافت کیا گیا: ”کون سی چیز آپ کو رُلا رہی ہے ؟” تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشادفرمایا : ”مجھے راتوں کے قیام کا شوق تھا۔”
حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاکرم فر ماتے ہیں کہ ایک عبادت گزار شخص بیمارہوگیاتوہم اس کی عیادت کے لئے اس کے پاس گئے۔ وہ لمبی لمبی سانسیں لے کر افسوس کرنے لگا۔ میں نے اس کو کہا: ”کس بات پر افسوس کر رہے ہو؟”تو اس نے بتایا: ”اس رات پرجو میں نے سو کر گزاری اور اس دن پر جس دن میں نے روزہ نہ رکھا اور اس گھڑی پر جس میں مَیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل رہا۔”
ایک عابد اپنی موت کے وقت رونے لگا۔اس سے وجہ دریافت کی گئی تو اس نے جواب دیا کہ ”میں اس بات پر روتا ہوں کہ روزے دار روزے رکھيں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا۔ذاکرین ذکر کریں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا۔ نمازی نمازیں پڑھیں گے لیکن میں ان میں نہ ہوں گا ۔”
اے غافل انسان! ان بزرگوں کودیکھ! مرنے پرکیسے افسُردہ اور نادِم ہو رہے ہیں کہ موت کے بعد عملِ صالح نہ کر سکیں گے۔ اپنی بقیہ عمرسے کچھ حاصل کرلے اور جان لے کہ جیسا کریگاویسا بھرے گا۔کیا تو ان لوگوں کی قبروں سے گزرتے ہوئے عبرت حاصل نہیں کرتا؟ کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ اپنی قبروں میں اطمینان سے ہیں لیکن پھر بھی تمہاری طرف لوٹنے کی خواہش کرتے ہیں،وہ فوت شدہ اعمال کی تلافی چاہتے ہیں۔ کتنے واعظین نے وعظ کیا ،ڈرایا اور موت نے کتنی مِٹی کو آباد کر دیا؟ کیا تیرے پاس ایسے کان نہیں جو نصیحت کو سنیں؟کیا توایسی آنکھ نہیں رکھتا جو اپنے محبوب کے جدا ہونے پر آنسو بہائے؟ کیا تیرے پاس ایسا دل نہیں جوخوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے گِڑگڑائے؟ کیاتجھے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرنے کی طمع نہیں ؟
منقول ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا شعیب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی طرف وحی فرمائی:”اے شعیب (علیہ الصلٰوۃوالسلام)! میرے لئے اپنی گردن عاجزی سے جھکا لے اور اپنے دل میں خشوع پیدا کر، اپنی آنکھوں سے آنسو بہا اور مجھ سے دعا کر کہ میں تیرے قریب ہوں۔” منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا شعیب علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام سوسال روتے رہے یہاں تک کہ ان کی بینائی چلی گئی۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے دوبارہ بینائی عطا فرمائی توپھر سو سال روتے رہے یہاں تک کہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی

بینائی پھر ضائع ہوگئی تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی: ”اے شعیب (علیہ الصلٰوۃوالسلام)! یہ رونا اگر جہنم کے خوف سے ہے تو میں نے تجھے جہنم سے امان عطا کردی اوراگر جنت کے شوق میں ہے تو میں نے تجھے جنت بخش دی ۔”تو آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرض کی : ”اے رب عَزَّوَجَلَّ! تیرے عزّت وجلال کی قسم! میں نہ تیرے جہنم کے خوف سے اور نہ ہی تیری جنت کے شوق میں رو رہاہوں بلکہ تیری محبت کی گِرہ میرے دل میں لگی ہوئی ہے ۔ اسے تیرے دیدار کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکتی۔” تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ”جب ایسا ہے تومیں تجھے ضرور اپنا دیدار کراؤں گااور(وہ یوں کہ ) میں تیرے پاس اپناایک بندہ بھیجوں گا جو دس سال تیری خدمت کریگا پھر اُسے تیری مناجات کی برکت سے کلیم بنادوں گا۔”(کلیم سے مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں)
آہ! وہ دل جس کوغم کی گرمی نے پگھلا دیا۔ آہ!وہ لوگ جنہیں گریہ وزاری نے فناکردیا۔ آہ!وہ اعضاء جنہوں نے برے کاموں کے بدلے اچھے کاموں کو قبول کیا۔ آہ!وہ جگر کہ مَلِک جلیل عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ہائے!وہ دل جن کو کوچ اورموت کے دن کی فکرنہیں؟ ہائے ! وہ دل کی سختی جس نے دل کو جہنم کی بری راہ پر چلایا۔ ہائے !وہ دل جو گناہوں سے بیمار ہوا۔ جس نے اطاعت کے لئے کمرباندھی تووہ کامیاب ہوگیا۔ اے مسکین! کیااب بھی تو اپنی خواہش سے بازنہ آئے گا؟ کیا اب بھی اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے دروازے کی طرف نہ لوٹے گا؟ کیاتوبھول گیاکہ تیرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ نے تجھے کیا کیا نعمتیں عطا کیں؟ کیا تجھ پر دلوں کو مہربان نہ کیا ؟کیاتجھے رزق سے غذانہ بخشی ؟ کیا تیرے دل میں اسلام ڈال کر تجھے ہدایت نہ دی ؟ کیا تجھے اپنے فضل سے قریب نہ کیا ؟ کیا اس کا احسان لمحہ بھر بھی تجھ سے ہٹا؟ لیکن تو نے غفلت کو قبول کیا ،خواہشات پر سوار ہوا، خطاؤں میں جلدی کی، اس کا عہد توڑ ڈالا، اس کے حکم کی نافرمانی کی ، گناہوں پر ڈٹا رہا ،اپنے نفس کی اطاعت اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی مخالفت کی۔ کیا تجھے حیا نہیں کہ وہ تیری نافرمانی کو دیکھ رہا ہے۔ اس محرومی و دوری کے باوجود اگر تو اس کی طرف رجوع کریگا تو وہ تجھے قبول فرما لے گا، تجھ سے راضی ہو جائے گا۔ اگر تو ہمیشہ اس کی اطاعت میں رہے تو وہ تجھے اپناقرب عطا فرمائے گا ۔ (امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں)

؎گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی
مرا حشر میں ہو گا کیا یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ !
تو اپنی ولایت کی خیرات دے دے
مرے غوث کا واسطہ یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ !

حضرتِ سیِّدُنا احمدبن ابی حواری علیہ رحمۃ اللہ الباری فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا ابو سلیمان دارانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس گیا اوران کو روتا ہو ا پاکر رونے کی وجہ دریافت کی توانہوں نے ارشاد فرمایا: ”اے احمد!میری آنکھیں پُرنم کیوں نہ ہوں جبکہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب رات تاریک ہوجاتی ہے، لوگ سو جاتے ہیں اور ہر دوست اپنے دوست کے ساتھ تنہائی اختیار کرلیتا ہے ، تو اہلِ معرفت کے دل روشن ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے لُطف اندوز ہوتے ہیں، ان کے عزم مالک ِ عرش عَزَّوَجَلَّ تک بلند ہوتے ہیں اوراہلِ محبت مناجات میں اپنے مالک عَزَّوَجَلَّ کے سامنے قدم بچھا دیتے ہیں،پُر درد آواز سے اس

کے کلام کو دُہراتے ہیں،ان کے آنسو رخساروں پر بہہ پڑتے ہیں، خوف اور اس کی ملاقات کے اشتیاق میں رفتہ رفتہ محرابوں میں گرتے رہتے ہیں۔ مالک عَزَّوَجَلَّ ان کی طرف نظرِ رحمت فرماتے ہوئے پکارتاہے: ”اے میرے اہلِ معرفت احباب! تمہارے دل میری ذات میں مشغول ہیں اور تم نے اپنے دلوں سے میرے علاوہ سب کو نکال دیا ہے۔ تمہیں بشارت ہو! جس دن تم مجھ سے ملو گے تو سرور وقرب پاؤ گے۔پھر حضرتِ سیِّدُنا جبرائیلِ امین علیہ السلام سے فرماتا ہے :اے جبرائیل! جنہوں نے میرے کلام سے لذت حاصل کی ،مجھ سے راحت چاہی میں ان کی خلوتوں میں ان سے باخبرہوتا ہوں، ان کی گریہ و زاری اور آہ و بُکا سنتا ہوں، اُن کے بے چینی سے چہرہ پھیرنے اور کوشش کرنے کو دیکھتاہوں۔پھراللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے: یہ رونا کیسا ہے جو میں سُن رہا ہوں؟ یہ گریہ وزاری کیوں ہے جو میں دیکھ رہا ہوں؟ کیاتم نے کبھی سنا ہے یاتمہیں کسی نے کہا ہے کہ محب اپنے محبوبوں کو آگ کا عذاب دے گا؟ کیا تمہیں کسی نے بتایا ہے کہ میں اپنے پناہ مانگنے والوں کو دھتکار دوں گا؟میری عزت کی قسم! میں تمہیں ضرور جنت عطا کروں گا۔ تمہارے لئے حجاب اور پردے اٹھادوں گااور آنسوؤں کے عوض خوشیاں اور بشارتیں عطا کروں گا ۔
حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس بندے کی آنکھوں سے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ کے سبب آنسو نکل کر چہرے تک پہنچتے ہیں تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کو آگ پر حرام فرما دیتاہے اگرچہ وہ مکھی کے سرکے برابر ہوں۔”

(سنن ابن ماجۃ،ابواب الزھد ، باب الحز ن والبکاء، الحدیث ۴۱۹۷ ، ص ۲۷۳۲)

حضرتِ سیِّدُنا وہب بن منبِّہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:”حضرتِ سیِّدُنا آدم علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام ہند کے پہاڑ پر سو سال سجدے میں روتے رہے یہاں تک کہ آپ کے آنسو سرندیب(سیلون،سری لنکا) کی وادی میں بہنے لگے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس وادی میں آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام کے آنسوؤں سے دارچینی اور لَونگ وغیرہ کی فصلیں اگائیں اور اس وادی میں مور پیدا کئے۔ پھر حضرتِ سیِّدُناجبرائیل علیہ السلام حاضرہوئے اورعرض کی:”اپنا سرِ انور اٹھائیے، اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ(علیہ الصلٰوۃ والسلام)کو بخش دیا ہے ۔” آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام نے اپنا سر اٹھایا۔پھر خانہ کعبہ کے پاس آکر طواف کیا ،ابھی طواف کے سات چکر مکمل نہ کئے تھے کہ آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام انسوؤں میں بھیگ گئے ۔”

(موسوعۃ للامام ابن ابی الدنیا،کتا ب الرقۃ والبکاء،الحدیث۳۲۴،ج۳،ص۲۳۵)

اے گنہ گار انسان!اپنے جد ِامجدکی حالت میں غوروفکر کر اورجو کچھ ان کے ساتھ معاملہ ہوااُسے یاد کر تیرے لئے اتنا ہی کافی ہو گا ۔حضرتِ سیِّدُنا مجاہدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”حضرتِ سیِّدُنا داؤد علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام چالیس دن تک سجدے کی حالت میں روتے رہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ سے حیاکے سبب کبھی (آسمان کی طرف ) اپنا سرنہ اٹھایا اور اتنا روئے کہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے آنسوؤں سے گھاس اُگ آئی اور آپ علیہ السلام کے سرکو ڈھانپ لیا۔پھر آپ علیہ السلام کو آوازدی گئی: ”اے

داؤد!کیا تو بھوکا ہے کہ تجھے کھانا کھلا یا جائے یا پیاساہے کہ تجھے سیراب کیا جائے یا بے لباس ہے کہ تجھے کپڑے پہنائے جائيں یا مظلوم ہے کہ تیری مدد کی جائے؟” توآپ علیہ السلام نے بلند آواز سے ایسی گریہ وزاری کی جس کی تپش سے گھاس سوکھ گئی ۔ پھر اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی اور لغزش معاف فرما دی۔پھرآپ علیہ السلام نے عرض کی: ”اے رب عَزَّوَجَلَّ! تو میری لغزش میری ہتھیلی میں ظاہر فرما دے۔”
تو آپ علیہ السلام کی لغزش ہتھیلی میں لکھ دی گئی۔ جب آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام اپنی ہتھیلی کھانے وغیرہ کے لئے دراز کرتے تو آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام کے سامنے بیٹھا ہوا شخص اس کو دیکھ لیتا ۔ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس گلاس لایا جاتا جس میں دوتہائی پانی ہوتا۔اسے پکڑنے کے لئے اپنا ہاتھ دَراز کرتے اور اپنی لغزش دیکھتے تو گلاس نہ رکھتے یہاں تک کہ وہ آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کے آنسوؤں سے بھرجاتا ۔ پھر آپ علیہ السلام نے عرض کی: ”یااللہ عَزَّوَجَلَّ! کیا تو میرے رونے پر رحم نہیں فرمائے گا؟” اللہ عزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی : ”اے داؤد(علیہ السلام)! تجھے اپنی لغزش یاد نہیں اور رونا یاد ہے ؟ ”توآپ علیہ الصلٰوۃوالسلام نے عرض کی: ”یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ! میں اپنی لغزش کیسے بھول سکتا ہوں۔ جب میں زبور کی تلاوت کرتا تھا تو پانی کابہاؤ رک جاتا، تیز ہوا ساکن ہو جاتی، پرندے میرے سر پر سایہ کرتے اور جنگلی جانور میرے محراب کے پاس آ جایا کرتے تھے۔ یاالٰہی عَزَّوَجَلَّ! کیا یہ میرے اور تیرے درمیان دوری نہیں؟” اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وحی فرمائی :”اے داؤد(علیہ السلام)!وہ اطاعت کی محبت تھی اور یہ معصیت کی وحشت ہے۔ اے داؤد(علیہ السلام)! آدم(علیہ السلام) کو میں نے اپنے دستِ قدرت سے بنایا، اس میں اپنی طرف سے خاص روح پھونکی، ملائکہ سے اس کو سجدہ کروایا، اُسے عزَّت کا لباس پہنایا اور تاج عطا کیا۔ جب میری بارگاہ میں اُس نے تنہائی کی شکایت کی تو میں نے اس سے اپنی بندی حوا کا نکاح کر دیا، اسے جنت میں ٹھہرایا حتی کہ اس سے لغزش ہوئی تو میں نے اسے بے سروسامانی کی حالت میں جنت سے اُتار دیا کہ وہ اپنی سمجھ سے نہیں جانتا تھا کہ کہاں جائے، وہ چالیس سال تک روتا رہا اگر اس کے آنسو ؤں کا وزن کیا جائے تو تمام مخلوق کے آنسوؤں کے برابر ہو جائے۔”

(الموسوعۃ للامام ابن ابی الدنیا،کتا ب الرقۃ والبکاء، الحدیث۳۸۵، ج۳، ص۲۴۷، مختصراً)

حضرتِ سیِّدُنا فتح موصلی علیہ رحمۃاللہ الولی خون کے آنسو رویا کرتے تھے جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوا تو کسی نے خواب میں دیکھ کر عرض کی :”اللہ عزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟”توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا:”اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی بارگاہ میں کھڑا کر کے پوچھا: ”اے فتح!تیرے رونے کی وجہ کیا تھی ؟”میں نے عرض کی:” یا رب عَزَّوَجَلَّ!تیرے واجب حق سے پیچھے رہ جانے پر۔” تو اس نے پھر استفسار فرمایا: ”تُوخون کے آنسوکیوں روتا تھا؟”میں نے عرض کی:”یا رب عَزَّوَجَلَّ! اپنے آنسوؤں پر خوف تھا کہ یہ صحیح نہیں ۔” اللہ تعالیٰ نے پھر استفسار فرمایا:”اس سے تیراکیا ارادہ تھا؟”میں نے عرض

کی: ”اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !اس سے میرا مقصد صرف تیرا دیدار تھا کہ تومجھے اپنا جلوہ دکھادے ،اس کے بعد تیری مرضی جو بھی معاملہ فرمائے۔” تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا :”مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم! تیرے محافظ فرشتے چالیس سال سے میری بارگاہ میں تیرا نامۂ اعمال لا رہے ہیں جس میں ایک گناہ بھی نہیں۔پس میں ضرور تجھے عزت کا لباس پہناؤں گا اور اپنے دیدار سے تیری آنکھیں ٹھنڈی کروں گا۔”
خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ ربّ ِ مجید عَزَّوَجَلَّ کے خاص اور پسندیدہ بندے ہیں۔ مقصود کی طرف سبقت لینے والے اور رب عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک پاک وصاف ہیں۔ اے دھتکارے ہوئے بدبخت شخص!تیرا کیا بنے گا کہ تو معبودِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے ان سے جدا ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!تجھے اپنے نفس پر گریہ وزاری کرنی چاہے اور اس شخص کی طرح آہ وبُکا کرنی چاہے جسے ربّ ِکریم عَزَّوَّجَلَّ کی بارگاہ سے دھتکار کر دور کردیا گیاہو۔

وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَ سَلَّم تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا۔

 

 

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے ان آیات (یہ اورگذشتہ آیات) میں خبر دی کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو سُن کر خضوع و خشوع اور خو ف سے روتے اور سجدے کرتے تھے۔ مسئلہ: اس سے ثابت ہوا کہ قرآنِ پاک بخشوعِ قلب سننا اور رونا مستحب ہے۔”
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرتِ یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام جانتے تھے کہ یوسف علیہ السلام زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع رکھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اُن کا خواب حق ہے، ضرور واقع ہوگا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت ملک الموت سے دریافت کیا کہ تم نے میرے بیٹے یوسف کی روح قبض کی ہے؟ اُنہوں نے عرض کیا: نہیں۔ اس سے بھی آپ کو اُن کی زندگانی کا اِطمینان ہوا اور آپ نے اپنے فرزندوں سے فرمایا ۔”

error: Content is protected !!