دریائے نیل کے متعلق حکایت:

دریائے نیل کے متعلق حکایت:

منقول ہے کہ فرعون زمین میں سرکشی کے ساتھ ساتھ خدائی کابھی دعوے دارتھا۔ اس نے اپنی قوم کودریائے نیل کے ذریعے گمراہ کررکھاتھا وہ یوں کہ جب”یَوْمِ نَیْرُوْز” ( یعنی آتش پرستوں کی عید کا دن ) آتااوردریائے نیل انتہائی ٹھاٹھیں مارنے لگتا تو لوگوں میں یہ اعلان کر دیا جاتاکہ تمہارے لئے فرعون نے دریائے نیل کوپُرجوش کردیاہے لہٰذاتم اسے سجدہ کرو تو جاہل لوگ اس کی بات پر یقین کرتے ہوئے اُسے سجدہ کرتے۔ ایک سال دریائے نیل کاپانی کم ہوناشروع ہوا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے پُرشور موجیں مارنے کی اجازت نہ دی۔ لوگ بھوک کے سبب نڈھال ہوگئے اورقحط میں مبتلاہو گئے۔چنانچہ، پوری قوم اکٹھی ہوکرفرعون کے پاس گئی اور اس سے مطالبہ کیا،”ہمارے اہل وعیال،اولاداورجانورسب ہلاک ہوئے جارہے ہیں،اگرتم ہمارے خداہوتو دریائے نیل کاپانی جاری کردو۔”تواس لعین نے جواب دیا:”ایساہی ہوگا۔”پھر وہ اُونی لباس، بالوں کی بنی ہوئی ٹوپی اورراکھ
بھری تھیلی لے کرایک ویران جزیرے کی طرف چلاگیاجو اب تک ”مقیاس” کے نام سے مشہورومعروف ہے۔اور حکم دیا کہ اس کی رعایا اور قوم میں سے کوئی شخص اس کے پیچھے نہ آئے۔ اس نے جزیرے میں داخل ہوتے ہی شاہی لباس اورسر کاتاج اُتار کر اونی لباس اوربالوں سے بنی ہوئی ٹوپی پہن لی اور راکھ زمین پر بکھیر کر اس پر لوٹ پوٹ ہونے لگا اور روتے ہوئے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں سجدہ ریزہوگیااوراپنا چہرہ راکھ پرلت پت کرتے ہوئے کہنے لگا:
”اے میرے مالک ومولیٰ!میں جانتاہوں کہ توہی زمین وآسمان کامالک اور اوَّلین وآخرین کامعبود ہے۔لیکن مجھ پربدبختی غالب آگئی، میں تیری نافرمانی و سرکشی میں بہت آگے بڑھ گیا۔ تُو میرا معبودہے اور میں تیرا بندہ ہوں، تو نے میرے متعلق جو فیصلہ فرمادیا، فرمادیا۔ مولیٰ! اب مجھے میری قوم میں ذلیل ورسوانہ کر اور تو ہی سب سے بڑھ کرکرم فرمانے والا ہے ۔”
ابھی فرعون کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسی وقت دریائے نیل کو جاری ہونے کا حکم دے دیا اور اسے فرمایا کہ جہاں تک فرعون جائے وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ چلے۔ چنانچہ، فرعون اپنی قوم میں اس حالت میں جا رہا تھا کہ دریا کا پانی اس کے دامن کو تر کرتے ہوئے ساتھ ساتھ جارہاتھا اور لوگ اپنی آستینوں کوپانی اورکیچڑ میں ڈبو کر خوشی سے ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ اس وقت سے اب تک مصر میں خوشی منانے کایہ طریقہ رائج ہے اوراہلِ مصر اِسے یومِ نوروزیعنی دریائے نیل کی طغیانی کادن کہتے ہیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے! فرعون اللہ عَزَّوَجَلَّ کا دشمن تھاجو لمحہ بھر اس کے لئے مخلص ہوا تواسے بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے طلب کے مطابق عطاکیا گیا، اس کی پردہ پوشی کی گئی اور قوم میں اس کوذلیل ورسوا ہونے سے بچا ليا گیا۔ تو جو شخص ساری زندگی اخلاص سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت و عبادت کرتا رہے تو وہ اسے کس قدرانعامات سے نوازے گااور اسے آخرت میں کیا کچھ عطا نہ فرمائے گا۔ اسی طرح جب نافرمان بندہ اپنے گناہوں سے تائب ہوجائے اور اپنی خامیوں اور گناہوں کا اعتراف کر لے۔ بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں اونچی اور آہستہ آواز سے گڑگڑائے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے پاک ہے کہ بروزِ قیامت اسے عذاب دے یا سب کے سامنے ذلیل ورسوا کر ے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *