شب ِ قدر میں عبادت کی فضیلت:

شب ِ قدر میں عبادت کی فضیلت:

حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحبِ جُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ عالیشان ہے: ”جو ایما ن کی وجہ سے اور ثواب کے لئے شب ِ قدر کا قیام کرے اس کے گذشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔”(۱)

(صحیح البخاری ،کتاب الصوم ، باب من صام رمضان ایمان واحتساب وفیہ، الحدیث ۱۹0۱ ،ص ۱۴۸)

میں روزہ دار ہوں:

سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے : ”روزے کے علاوہ بندے کی ہر نیکی دس سے سا ت سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے کیونکہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش اور کھانے پینے کو میرے لئے ترک

کر دیتا ہے۔ روزہ جہنم سے ڈھال ہے اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ عزَّوَجَلَّ کے نزدیک مشک سے زیا دہ پاکیزہ ہے۔ جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو وہ نہ بیہودہ بکے، نہ ہی جاہلانہ کام کرے۔ اگر کوئی اُس سے لڑائی کرے یا اُسے گالی دے تو وہ کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔”(2)

(جامع الترمذی، ابواب الصوم، باب ماجاء فی فضل الصوم، الحدیث۷۶۴، ص۱۷۲۲۔ سنن ابن ماجۃ، ابواب الصیام، باب ما جاء فی فضل الصیام ،الحدیث ۱۶۳۸،ص ۲۵۷۵۔صحیح مسلم،کتاب الصیام، باب فضل الصیام، الحدیث۱۱۵۱، ص۸۶۲)

حضرتِ سیِّدُناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:”جو بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی اللہ عزَّوَجَلَّ کوکچھ حا جت نہیں۔”

(صحیح البخاری،کتاب الصوم ،باب من لم یدع قول الزور والعمل بہ فی الصوم،الحدیث۱۹0۳، ص۱۴۹)

حدیث ِ پاک میں ہے کہ” غیبت روزے دار کا روزہ ختم کر دیتی ہے۔”(3)

(فتح الباری لابن حجرالعسقلانی شرح صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب فضل الصوم،تحت الحدیث۱۸۹۴،ج۵،ص۹۲)

………………………

1۔۔۔۔۔۔شیخِ طریقت، امیرِ اہلست حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ”سُبحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! رَمَضانُ الْمبارَک میں رَحمتوں کی چَھمَاچَھم بارِشیں اور گناہِ صغیرہ کے کَفّارے کاسامان ہوجاتا ہے۔ گناہِ کبیرہ توبہ سے مُعاف ہوتے ہیں۔ توبہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جوگناہ ہوا خاص اُس گناہ کا ذِکْر کرکے دل کی بَیزاری اور آئندہ اُس سے بچنے کا عہدکرکے توبہ کرے۔ مَثَلاًجھوٹ بولا، تو بارگاہِ خُداوندی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کرے، یا اللہ عزَّوَجَلَّ! میں نے جویہ جھوٹ بولا اِس سے توبہ کرتا ہوں اور آئندہ نہیں بولوں گا۔ توبہ کے دَوران دل میں جھوٹ سے نفرت ہو اور” آئِندہ نہیں بولوں گا” کہتے وَقت دل میں یہ ارادہ بھی ہو کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں ایسا ہی کرو ں گاجبھی توبہ ہے۔ اگر بندے کی حق تلفی کی ہے تو توبہ کے ساتھ ساتھ اُس بندے سے مُعاف کروانا بھی ضَروری ہے۔” (فیضانِ سنت، باب فیضانِ رمضان، ج اول، ص۸۵۵)

2۔۔۔۔۔۔شیخِ طریقت، امیرِ اہلست حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:میٹھے ميٹھے اسلامی بھائیو! آجکل تَو مُعامَلہ ہی اُلٹا ہو گیا ہے یعنی اگر کوئی کسی سے لڑ بھی پڑتا ہے تو گَرَج کر یُوں گویا ہوتا ہے،”چُپ ہوجا! ورنہ یاد رکھنا! میں روزے سے ہوں اورروزہ تجھ ہی سے کھولوں گا۔” یعنی تجھے کھاجاؤں گا۔(مَعاذاللہ عَزَّوَجَلَّ) توبہ! تَوبہ! اِس قِسم کی بات ہر گز زَبان سے نہ نکلنی چاہیئے بلکہ عاجِزی کا مُظاہَرہ کرنا چاہیئے۔” (فیضانِ سنت، باب فیضانِ رمضان، ج اول، ص۹۶۸)

3۔۔۔۔۔۔صدر الشریعہ، بدر الطریقہ ،مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: ”احتلام ہوا یا غیبت کی تو روزہ نہ گیا اگرچہ غیبت بہت سخت کبیرہ ہے قرآن مجید میں غیبت کرنے کی نسبت فرمایا: ”جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا۔” (پ۲۶، الحجرات:۱۲)اور حدیث میں فرمایا: ”غیبت زنا سے بھی سخت تر ہے۔” (المعجم الاوسط، الحدیث ۶۵۹0،ج۵،ص۶۳) اگرچہ غیبت کی وجہ سے روزہ کی نورانیت جاتی رہتی ہے۔” (بہارِ شریعت،حصہ۵، ص۱۱۹)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *