Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

صورپھونکنے کابیان

صورپھونکنے کابیان

( وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخْرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿68﴾

ترجمۂ کنزالایمان:اور صور پھونکا جائے گا ،تو بے ہوش ہو جائیں گے ، جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے
زمین میں،مگر جسے اللہ چاہے ،پھر وہ دوبارہ پھونکا جائے گاجبھی وہ دیکھتے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے۔(۱)(پ24،الزمر:68))

حمد ِ باری تعالیٰ:

سب خوبیاں اس ذات کے لئے ہیں وہم وگمان جس کا ادراک نہیں کر سکتے،نہ آنکھیں اس کااحاطہ کر سکتی ہے۔ نہ اسے آفات آتی ہیں نہ موت۔ اس نے کتاب کو نازل فرمایا،بادل برسایا، تر پھلوں کو خشک ٹہنیوں سے نکالااور انسان کو خشک بجتی مٹی سے پیدا کیاجو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی۔ وہ خود اپنی قدرتِ کاملہ کو یوں بیان فرماتا ہے: وَ اِذَا قَضٰۤی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۱۱۷﴾ ترجمۂ کنزالایمان:اور جب کسی بات کا حکم فرمائے تو اس سے یہی فرماتا ہے کہ ہو جا،وہ فوراًہوجاتی ہے۔(پ۱،البقرہ:۱۱۷)
اس کی قدرت سے سب کچھ پیدا ہوا۔ اس کی رحمت سے لگاتار نعمتیں ملیں۔ اس کی حکمت سے زمین وآسمان شق ہوئے۔ اس کی مشیّت وارادے سے سعادت و شقاوت لکھی گئی۔

قرآن پاک میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے: یُعَذِّبُ مَنۡ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُقْلَبُوۡنَ ﴿۲۱﴾ ترجمۂ کنزالایمان:عذاب دیتا ہے جسے چاہے اور رحم فرماتاہے جس پر چاہے اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے۔(پ۲0،العنکبوت:۲۱)
عقل مندوں کے سینوں کو شفا دیتااور اپنی پختہ تخلیقات سے ہر شک و شبہ دور کرتا ہے۔ چنانچہ، خود ارشاد فرماتا ہے: وَ مِنْ اٰیٰتِہٖۤ اَنْ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾ ترجمۂ کنزالایمان:اور اس کی نشانیوں سے ہے یہ کہ تمہیں پیدا کیا مٹی سے پھر جبھی تم انسان ہو دنیا میں پھیلے ہوئے۔ (پ۲۱،الروم:۲0)
اس نے اپنی حکمتِ کاملہ سے مختلف قسم کی اشیاء پیدا فرمائیں اور گذشتہ وآئندہ کی اشیاء کوایک اندازے سے رکھااور توبہ کرنے والے کے تمام گناہ معاف فرما دئیے۔ چنانچہ،ارشادفرماتاہے: ”وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَ یَعْفُوۡا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوۡنَ ﴿ۙ۲۵﴾ ترجمۂ کنزالایمان:اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور گناہوں سے درگزر فرماتاہے اور جانتاہے جو کچھ تم کرتے ہو۔”(۱)(پ۲۵،الشوریٰ:۲۵)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نئے نئے زمانے ایجادکرتاہے۔ ماں کے پیٹ میں مرد وں،عورتوں کی صورتیں بناتاہے۔ قبر والوں کو اٹھائے گا تو وہ زندہ ہو کراٹھ کھڑے ہوں گے ۔” چنانچہ،قرآن پاک میں ارشادفرماتاہے: وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَاِذَا ہُمۡ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّہِمْ یَنۡسِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور پھونکاجائے گا صور جبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلیں گے۔اور اپنی قدرت کی نشانی، سورج کے متعلق فرماتا ہے:(پ۲۳،یس:۵۱) وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ﴿۱۶﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور سورج کو چراغ (کیا) ۔(پ۲۹،نوح:۱۶)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بدلیوں سے زورکاپانی اُتارا اور اگر وہ چاہے تواُسے کھاری کر دے پھر اس کاشکرکیوں نہیں کرتے جو کریم ہے ،قدر فرمانے والا ہے ، مہربان ہے ، بخشنے والاہے ، اپنے فیصلوں میں ظلم و ستم سے پاک ہے، زمین وآسمان کا خالق ہے۔ خود قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوۡرَ ۬ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعْدِلُوۡنَ ﴿۱﴾ ترجمۂ کنز الایمان:جس نے آسمان اور زمین بنائے، اور اندھیریاں اور روشنی پیداکی، اس پر کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں۔(۲) (پ۷، الانعام:۱)

اللہ عَزَّوَجَلَّ طول و عرض میں پھیلی ہوئی تمام اشیاء کا بھی مالک ہے، اپنے بندوں کے فرائض وسنن قبول فرماتاہے ،سب کو اسی کی طرف لوٹنا اوراسی کی بارگاہ پیش ہونا ہے۔ چنانچہ، اپنی وسیع قدرت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :وَلَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قَانِتُوۡنَ ﴿۲۶﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور اسی کے ہیں جوکوئی آسمانوں اورزمین میں ہیں، سب اسی کے زیر حکم ہیں۔(پ۲۱،الروم:۲۶)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انسان کومضبوط ومستحکم پیدا فرمایا،اوراس میں طاقت و قوت کوودیعت فرمایا۔ جیساکہ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: وَ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنۡ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَہُوۡنَ ﴿۹۸﴾ ترجمۂ کنزالایمان:اور وہی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر کہیں تمہیں ٹھہرناہے اور کہیں امانت رہنابے شک ہم نے مفصل آیتیں بیان کردیں سمجھ والوں کے لئے۔(پ۷، الانعام: ۹۸)
اس نے راہِ ہدایت کو ظاہر فرمایااوراس کے تمام راستوں کو بیان فرمایا، اور اپنے بندوں پر اپنی پے در پے ملنے والی نعمتوں کی تکمیل فرمائی،اوروحدانیت کا اقرار کرنے والوں کے چہرے روشن فرمائے تو ان کے چہرے مسکراتے اور کھِلکِھلاتے ہیں۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ایسوں کی شان یوں بیان فرماتا ہے: لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىہُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ ہٰذَا یَوْمُکُمُ الَّذِیۡ کُنۡتُمْ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾ لَایُسْـَٔلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْـَٔلُوۡنَ ﴿۲۳﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اس سے نہیں پوچھاجاتاجووہ کرے اور اُن سب سے سوال ہو گا۔(پ۱۷،الانبیآء:۲۳)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تخلیقِ کائنات کی کاری گری کو مضبوط و مستحکم کیا، اپنی مخلوق کو وسیع رزق عطا فرما کر ان پراحسان و انعام فرمایا، اور ان کے مبہم رازوں کوجانتا ہے۔جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: لَا جَرَمَ اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَمَا یُعْلِنُوۡنَ ؕ ترجمۂ کنز الایمان:فی الحقیقت اللہ جانتاہے جوچھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔(پ۱۴، النحل: ۲۳) رَبُّ الْمَشْرِقَیۡنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیۡنِ ﴿ۚ۱۷﴾ ترجمۂ کنز الایمان:دونوں پورب کارب اور دونوں پچھم کارب۔(پ۲۷، الرحمن: ۱۷)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کائنات کو دو نوروں کے ساتھ منوَّر فرمایا یعنی ہر چیز کے دو جوڑے بنائے۔ چنانچہ،خود ارشاد فرماتا ہے: وَ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیۡنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۹﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اورہم نے ہر چیز کے دو جوڑے بنائے کہ تم دھیان کرو۔(پ۲۷،الذّٰرِیٰت: ۴۹)

1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ” یہ پہلے نفخہ کا بیان ہے ۔اس نفخہ سے جو بے ہوشی طاری ہوگی اس کا یہ اثر ہوگا کہ ملائکہ اور زمین والوں سے اس وقت جو لوگ زندہ ہوں گے، جن پر موت نہ آئی ہوگی، وہ اس سے مرجائیں گے اور جن پر موت وارد ہوچکی پھراللہ تعالیٰ نے انہیں حیات عنایت کی وہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں ۔جیسے کہ انبیاء و شہداء۔ ان پر اس نفخہ سے بے ہوشی کی سی کیفیّت طاری ہوگی اور جو لوگ قبروں میں مرے پڑے ہیں انہیں اس نفخہ کا شعور بھی نہ ہوگا۔(جمل وغیرہ)۔ اس استثناء میں کون کون داخل ہے۔ اس میں مفسِّرین کے بہت اقوال ہیں:” حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ نفخہ صعق سے تمام آسمان اور زمین والے مرجائیں گے سوائے جبرئیل و میکائیل و اسرافیل و ملک الموت کے۔ پھر اللہ تعالیٰ دونوں نفخوں کے درمیان جو چالیس برس کی مدت ہے، اس میں ان فرشتوں کو بھی موت دے گا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مستثنٰی شہداء ہیں جن کے لئے قرانِ مجید میں”بَلْ اَحْیَاءُ ”آیا ہے۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ وہ شہداء ہیں جو تلواریں حمائل کئے گردِ عرش حاضر ہوں گے۔ تیسرا قول حضرتِ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ” مستثنیٰ حضرتِ موسٰی علیہ السلام ہیں۔ چونکہ آپ طُور پر بے ہوش ہوچکے ہیں اس لئے اس نفخہ سے آپ بے ہوش نہ ہوں گے۔ بلکہ آپ متیقظ، ہوشیار ر ہیں گے۔ چوتھا قول یہ ہے کہ مستثنیٰ جنّت کی حوریں اور عرش و کرسی کے رہنے والے ہیں ۔ضحاک کا قول ہے کہ ”مستثنیٰ رضوان اور حوریں اور وہ فرشتے جو جہنّم پر مامور ہیں وہ اور جہنّم کے سانپ بچھو ہیں ۔ (تفسیر کبیر وجمل) ۔ یہ نفخہ ثانیہ ہے جس سے مردے زندہ کئے جائیں گے اپنی قبروں سے اور دیکھتے ہوئے کھڑے ہونے سے یا تو یہ مراد ہے کہ وہ حیرت میں آکر مبہوت کی طرح ہر طرف نگاہیں اُٹھا اُٹھا کر دیکھیں گے ۔یا یہ معنی ہیں کہ ”وہ یہ دیکھتے ہوں گے کہ اب انہیں کیا معاملہ پیش آئے گا اور مؤمنین کی قبروں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے سواریاں حاضر کی جائیں گی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے، ” یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا۔”

۔ واحد کے صیغہ سے ذکر فرمانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ باطل کی راہیں بہت کثیر ہیں اور راہِ حق صرف ایک دینِ اسلام۔یعنی باوجود ایسے دلائل پر مطلع ہونے اور ایسے نشان ہائے قدرت دیکھنے کے،دُوسروں کو حتّٰی کہ پتّھروں کو پُوجتے ہیں ۔باوجود یکہ اس کے مُقِرہیں کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔”

error: Content is protected !!