عیدُ الفطر کے مستحبات:

عیدُ الفطر کے مستحبات:

عید الفطر کے دن مستحب ہے کہ بندہ غسل کرے، مسواک کرے، اچھے کپڑے پہنے اور صدقۂ فطر اداکرے اور پھر کچھ کھا کر پیدل عید گاہ کا رُخ کرے، سوار ہو کر نہ جائے، البتہ! کوئی عذر ہو تو سوار ہو کر جا سکتا ہے،اور عید گاہ کی طرف ایک راستے سے جائے اور دوسرے سے واپس آئے، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ملائکہ کو بھیجتا ہے، وہ راستوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پاس سے گزرنے والے ہر شخص کا نام لکھتے ہیں،اس لئے ایک راستے سے جانااور دوسرے سے واپس آنامستحب ہے۔
حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبئ کریم، ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم عید کے دن ایک راستے سے جاتے اوردوسرے سے واپس آتے تھے ۔

(جامع الترمذی ،ابواب العیدین ،باب ماجاء فی خروج النبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۵۴۱، ص ۱۶۹۸)

حضرت سیِّدُنا بُرَیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے پیارے حبیب ، حبیب ِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم عید الفطر کے دن جب تک کچھ کھا نہ لیتے (عیدگاہ کی طرف ) نہ نکلتے، اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کچھ نہ کھاتے۔

(المرجع السابق،الحدیث۵۴۲)

حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبئ پاک، صاحب ِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم عید الفطر کے دن عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے چند کھجوریں تناول فرماتے تھے۔ (المرجع السابق،الحدیث۵۴۳)

حضرت سیِّدُنا اُمِّ عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کے حکم سے عیدین میں کنواریاں، بالغات، پردے والیاں اور حیض والیاں (نمازِعید کے لئے)نکلتی تھیں، اور حیض والیاں عید گاہ سے الگ ہوتیں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوتیں۔ اُن میں سے کسی ایک نے عرض کی: ”یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو؟” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:” اُس کی بہن اپنی چادر اس کو اُدھار دے دے۔” (المرجع السابق،الحدیث ۵۳۹)

اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم ہمارے زمانے کی عورتوں کی نئی نئی باتیں ملاحظہ فرماتے توان کو مسجد میں جانے سے منع فرما دیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا۔” حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ”میں آج کے دَور میں عیدین میں عورتوں کے نکلنے کو ناپسند جانتا ہوں۔”

(جامع الترمذی ،ابواب العیدین ،باب ماجاء فی خروج النبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۵۴0، ص ۱۶۹۸)

اگر کوئی عورت (نمازِعید کے لئے) نکلنے پر بَضِد ہو تو اُس کا شوہر اُسے پھٹے پرانے کپڑوں میں نکلنے کی اجازت دے اور وہ زینت بھی نہ کرے ۔ اگر وہ اس طرح نکلنے سے انکار کرے تو شوہر اُسے نکلنے سے منع کر دے ۔
حضرت سیِّدُنا ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کا فرمانِ فَرْحت نشان ہے: ”جس نے عیدین (یعنی عید الفطر وعید الاضحی) میں شب بیداری کی تو اس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن لوگوں کے دل مر جائیں گے۔”

(سنن ابن ماجۃ،ابواب الصیام ،باب فیمن قام لیلتی العید ین،الحدیث ۱۷۸۲، ص۲۵۸۳)

حضرت سیِّدُنا اِبنِ عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے، شہنشاہِ خوش خِصال، پیکر ِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُود و نَوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ حقیقت نشان ہے:”سب سے زیادہ عظمت والی راتیں عید الاضحی اور عید الفطر کی راتیں ہیں۔”
رحمت والی چارراتیں:
حضرت سیِّدُنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پَرْوَرْدْگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے: ”چارراتوں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر بہت زیادہ رحمت نازل فرماتا ہے:رجبُ المرجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات،عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات۔”

(شعب الایمان للبیھقی،باب الصیام فی لیلۃ العید ویومھما ، الحدیث۳۷۱۳،ج۳،ص۳۴۲، بتغیرٍ)

 

1 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ”مسئلہ : توبہ ہر ایک گناہ سے واجب ہے اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی و معصیت سے باز آئے اور جو گناہ اس سے صادر ہوا اس پر نادم ہو اور ہمیشہ گناہ سے مُجتَنِب رہنے کا پختہ ارادہ کرے اور اگر گناہ میں کسِی بندے کی حق تلفی بھی تھی تو اس حق سے بطریقِ شرعی عہدہ برآہو۔”
2 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ”حضرتِ کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :”تو ریت میں سب سے اوّل یہی آیت ہے۔ اس آیت میں بندوں کو شانِ استغناء کے ساتھ حمد کی تعلیم فرمائی گئی اور پیدائشِ آسمان وزمین کا ذکر اس لئے ہے کہ ان میں ناظرین کے لئے بہت عجائب ِ قدرت وغرائب ِحکمت اور عبرتیں ومنافع ہيں۔یعنی ہر ایک اندھیری اور روشنی خواہ وہ اندھیری شب کی ہو یا کُفر کی یا جہل کی یا جہنّم کی اورروشنی خواہ دن کی ہو یا ایمان و ہدایت و علم و جنت کی۔ ظلمات کوجمع اور نورکو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!