قیامت کا خوف دلانے پر بے ہوش ہوگئے

قیامت کا خوف دلانے پر بے ہوش ہوگئے

سیِّدُنا مِسْعَر بِن کِدامعلیہ رَحمَۃُ اللّٰہ السلام سے روایت ہے: ایک روز ہم امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے ساتھ کہیں سے گزر رہے تھے کہ بے خیالی میں امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا مبارَک پاؤں ایک لڑکے کے پَیْر پر پڑ گیا، لڑکے کی چیخ نکل گئی اور اُس کے منہ سے بے ساختَہ نکلا: یَا شَیْخُ أَ لَاتَخَافُ الْقِصَاصَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ! ’’یعنی جناب ! کیا آپ قِیامت کے روز لئے جانے والے انتِقام خُداوندی سے نہیں ڈرتے ؟ ‘‘ یہ سنتے ہی امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم پر لرزہ طاری ہوگیا اور غش کھا کر زمین پر تشریف لائے، جب کچھ دیر کے بعد ہوش میں آئے تو میں نے عرض کی کہ ایک لڑکے کی بات سے آپ اس قَدَر کیوں گھبرا گئے؟ فرمایا: ’’کیا معلوم اُس کی آواز غیبی ہِدایت ہو۔‘‘ (اَ لْمَناقِب لِلْمُوَفَّق،۲ /۱۴۸)
عطاہو خوفِ خدا خدارا دو الفتِ مصطفٰے خدارا
کروں عمل سنّتوں پہ ہر دم ،امامِ اعظم ابوحنیفہ
(وسائلِ بخشش،ص۵۷۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *