Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مبارک دریا”نیل” کا ذکرِخیر

مبارک دریا”نیل” کا ذکرِخیر

حمد ِ باری تعالیٰ:

سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے جس نے ظالموں کو ہلاک کیا۔ بندوں کو ستانے والوں کا رعب و دبدبہ خاک میں ملادیا۔اس نے دانے کو پھاڑ کر اس سے گندم کو اُگایا۔اس نے خشک وترگھاس اُگایااورجانوروں کے لئے مقررفرمایا۔اور(اس کا فرمانِ عالیشان ہے) وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِہۡرًا ؕ ترجمۂ کنز الایمان: اور وہی ہے جس نے پانی سے بنایاآدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقررکی۔”۔۔۔۔۔۔ساری کائنات اس کے فضل کے گن گارہی ہے۔(پ۱۹،الفرقان:۵۴)پس یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ زبانیں اس کے شکرمیں اس کے ذکر سے ترہیں۔ اور(فرمانِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ ہے) ”فَسَلَکَہٗ یَنَابِیۡعَ فِی الْاَرْضِ ترجمۂ کنز الایمان:پھر اس سے زمین میں چشمے بنائے۔”(پ۲۳،الزمر:۲۱)۔۔۔۔۔۔ اور انہیں اپنی حکمت کے مطابق لمبائی اورچوڑائی میں تقسیم فرمادیاتو ان سے نہریں بہہ نکلیں اور کچے تالابوں سے پانی زور و جوش کے ساتھ نکلنے لگا۔ اور اُس نے تمہارے لئے ”دریائے نیل” کو ایک بڑی نشانی بنایا۔اس کی مضبوطی تعجب خیز ، بہاؤ خوشگوار اور خوشبو نہایت پاکیزہ ہے ۔ عظمت و شان کاحامل ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے اپنی قدرت وحکمت کے عجائب وغرائب پر دلیل بنایا ہے۔
پاک ہے وہ ذات جس نے اس دریاکو مصر کے ساتھ خاص فرمایا۔یہ عظیم دریابڑاتعجب خیزہے کہ گرمیوں میں بھر جاتا ہے ، سردیوں میں اُتر جاتا ہے، جب دوسرے پانی رک جاتے ہیں تو یہ بہنے لگتا ہے اور جب سردی ظاہر ہونے لگتی ہے تو یہ دریاحاجات و مقاصدبرَلاتا ہے۔ دلوں کو فرحت و مسرت سے لبریز کر تا ہے۔پس جب کسی لمبی جدائی کے سبب اس میں اضطراب و بے قراری پیدا ہوتی ہے توغیرت کی زیادتی والے کی طرح اس کی بھی خواہش بڑھ جاتی ہے اور خشکی و تری کی خوشیوں کی مثل موجیں مارتاہے۔تو غورکروکہ موجیں مارنے کے ایام میں اس کی مقدارکی حالت کیسی ہوگی ۔اس کا بند دہانہ(دَ۔ہا۔نَہ) کھلنے سے قبل ہی کوئی تدبیر کرلو ۔ کیونکہ یہ جب بھی کوئی لمبا سانس لیتا ہے تو لمبائی وچوڑائی میں گڑھوں کو بھر دیتا ہے۔شہروں کواندرباہر، چہار طرف سے گھیر لیتا ہے۔ہربندے کواس کے اثرات پہنچتے ہيں۔تو اس سے نکلنے والی چھوٹی نہرٹوٹنے سے کتنے تکبرٹوٹ جاتے ہیں۔اوریہ دریااپنی روانی سے تمہارے غم دورکردیتاہے اوراپنے بہاؤ سے تمہارا گرم کلیجہ ٹھنڈا کردیتا ہے۔
جب باغات خالی ہو جاتے ہیں اورکنوئیں کثرت کے بعد کمی کی شکایت کرتے ہیں اور ان کی پیاس اطراف میں نرمی وسختی سے ہنگامہ کرتی ہے تو توبہ کرنے پرفریاد رس کرم فرماتا ہے۔(اور ارشادباری تعالیٰ ہے) ”اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ؕ﴿۶﴾ (پ۳0،الم

نشرح:۶) ترجمۂ کنز الایمان:بے شک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔”۔۔۔۔۔۔اوراس نے اپنی طرف رجوع کرنے والے پرنرم چلنے والی ہواؤں کے ساتھ اپنی عطا و بخشش بھیجی۔چنانچہ، زمین خشک ہو جانے کے بعدتر و تازہ اور سر سبزو شاداب ہوگئی۔اوراس نے اپنی مفلسی وناداری کے بعد سبز حلے پالئے (یعنی سبزہ زارہوگئی)۔
پاک ہے وہ ذات جس کی قدرت کی مثال نہیں ۔اس کی حکمت کاکوئی مقابل نہیں ۔اس کی نعمت کا شمار نہیں۔وہ گنہگاروں کو بہت زیادہ معاف فرمانے والااور فرمانبرداروں کو بہت زیادہ اجر و ثواب عطا فرمانے والاہے۔اس کی بارگاہ سے منہ موڑنے والا نقصان و خسارہ ہی اٹھاتاہے اوراس کے در سے پھرنے والااپنے شیریں مشروب کوبھی کڑوا پاتاہے۔تو اے سرکشی ونافرمانی کی چراگاہ میں بھٹکنے والے !بے شک تو نے بہت بری بات کاارتکاب کیا۔اوراے کفر وبے دینی کے بیابان میں سرگرداں! بے شک تو ایسی بات پراڑاہوا ہے جس کی تجھے خبرنہیں۔کیا تجھے ہلاکت کاڈر نہیں؟( سُن!وہ کیافرمارہاہے:) ” وَ مَکَرُوۡا مَکْرًا وَّ مَکَرْنَا مَکْرًا وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوۡنَ ﴿۵۰﴾ ترجمۂ کنز الایمان:اور انہوں نے اپنا سا مکر کیا اور ہم نے اپنی خفیہ تدبیرفرمائی اور وہ غافل رہے۔”(پ۱۹،النمل:۵0) قسم بخدا! اس نے تیرے لئے ہدایت کاراستہ بالکل واضح فرمادیا ہے تو اب کسی گنہگار کو عذر کی گنجائش نہیں ۔ اوراس نے یہ بات قرآن حکیم میں واضح فرمادی ہے: ”وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ ترجمۂ کنز الایمان:اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔”(پ۲۲،فاطر:۱۸) (۱)۔۔۔۔۔۔عارفین(اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ)کی خوبی وکمال، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاومہربانی ہے کہ وہ اپنے مالک ومولی عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے لئے دنیا کی فریب کاریوں سے بیدارو ہوشیار رہے اور انہوں نے اپنے اوقات(یعنی رات دِن) کواس کی تسبیح وذکر میں فنا کر ڈالا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے دلوں کواپنی محبت میں گرما کر انگارہ کردیا۔اور ان پراپنی محبت کے جاموں سے باربارشرابِ محبت کوگھمایا۔پس جب ساقی نے شرابِ محبت کو گھما دیا اور گانے والوں نے ذکر ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ کے نغمات گائے تو عارفین (اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ)ان آوازوں کی طرف مائل ہوگئے کہ کوئی طرب و مدہوشی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کویادکررہاہے ۔
تو اے سننے والے !نگاہِ فکر سے دیکھ کہ مخلوق کے عام نفع کے لئے قدرت نے کس طرح دریائے نیل کومصرکے بالائی شہروں سے گزارا ۔ یہ تمام اشیاء سے زیادہ تعجب خیز اور انوکھا ہے، اس کا منظر حسین تراور عمدہ ترین ہے اور اس کا پانی سب پانیوں
سے زیادہ ٹھنڈا اور میٹھا ہے ۔پاکی ہے اسے جس نے اس کے ذریعے خیالات کوپختہ کیا،آنکھوں کوقراربخشااور ارواح کے لئے حیات کا سامان کیا۔پس یہ قدرتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے پھیل گیا۔پودوں اوردرختوں کواگانے کے لئے جہتوں اوراطراف میں بہنے لگا۔ اور اس کے انعام کے دریاسے اکرام کی نہروں کی طرف چلنے لگا۔(چنانچہ،وہ فرماتاہے:) ” ہُوَالَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً لَّکُمۡ مِّنْہُ شَرَابٌ وَّمِنْہُ شَجَرٌ فِیۡہِ تُسِیۡمُوۡنَ ﴿۱۰﴾یُنۡۢبِتُ لَکُمۡ بِہِ الزَّرْعَ وَالزَّیۡتُوۡنَ وَ النَّخِیۡلَ وَ الۡاَعْنَابَ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۱﴾ ترجمۂ کنز الایمان:وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اس سے تمہارا پینا ہے اور اس سے درخت ہیں جن سے چراتے ہو اس پانی سے تمہارے لئے کھیتی اگاتا ہے اورزیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل بے شک اس میں نشانی ہے دھیان کرنے والوں کو۔”(پ۱۴،النحل:۱0،۱۱)
تووہی ذات ہے جس نے اس دریاکواپنی حکمت سے جاری اوراپنی قدرت سے ظاہرفرمایا۔ اس نے بندوں کے گمانوں کو ناکام نہیں کیا۔اوراس نے حقوق وحدودکی پاسداری کے سبب اس کی چمکتی موجوں کوحسنِ نظام وقانون کے تحت رکاوٹ کے خاتمے اوراس کا دہانہ(دَ۔ہا۔نَہ) کھولنے کی اجازت دے دی ۔اور اس نے رکاوٹ کوتوڑکرہرغمگین کے دل کوجوڑدیا۔اوراس دریا کی برکتیں کچے تالابوں اورنہروں کوعام ملنے لگیں۔اوروہ بحکمِ الہٰی شہروں کی طرف بہنے لگا۔پس پیاسے اس سے سیراب ہونے لگے اورپیٹ اسے دیکھ کر بھرنے لگے۔(چنانچہ ،ارشادباری تعالیٰ ہے:)’ اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوۡقُ الْمَآءَ اِلَی الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا تَاۡکُلُ مِنْہُ اَنْعَامُہُمْ وَ اَنۡفُسُہُمْ ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوۡنَ ﴿ؓ۲۷﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور کیا نہیں دیکھتے کہ ہم پانی بھیجتے ہیں خشک زمین کی طرف پھر اس سے کھیتی نکالتے ہیں کہ اس میں سے ان کے چوپائے اور وہ خود کھاتے ہیں تو کیا انہیں سوجھتا نہیں۔”(پ۲۱،السجدہ:۲۷)

1۔۔۔۔۔۔مفسرشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل، سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ”معنٰی یہ ہیں کہ روزِ قیامت ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بار ہوگا، جو اُس نے کئے ہیں اور کوئی جان کِسی دوسرے کے عوض نہ پکڑی جائے گی ۔ البتہ! جو گمراہ کرنے والے ہیں ان کے گمراہ کرنے سے جو لوگ گمراہ ہوئے ،ان کی تمام گمراہیوں کا بار ان گمراہوں پر بھی ہوگا اور اُن گمراہ کرنے والوں پر بھی جیسا کہ کلامِ کریم میں ارشا دہوا: ”وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالاً مَعَ اَثْقَالِھِمْ۔ اور درحقیقت یہ اُن کی اپنی کمائی ہے دوسرے کی نہیں۔”(العنکبوت:۱۳)

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!