Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

منکرینِ کرامات بھی مان گئے:

مغفرت کاپروانہ:

حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں:” میں نے ایک نوجوان کودیکھا جو کعبہ مکرمہ زادھا اللہ شرفاً وتعظیماً کے نزدیک کثرت سے رکوع و سجود کر رہا تھا۔میں نے اس کے پاس جا کر کہا: ”بلا شبہ تم کثرت سے نماز پڑھ رہے ہو۔” تو وہ کہنے لگا: ”میں اپنے اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے یہاں سے واپس جانے کے پروانے کا انتظار کر رہا ہوں۔”حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: ”میں نے دیکھا کہ اوپر سے کاغذکاایک ٹکڑا گراجس میں لکھاہوا تھا: ”یہ پیغام عزیز وغفار کی جانب سے اپنے سچے بندے کی طرف ہے، اب تواس حال میں لوٹ جا کہ تیرے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں۔”

منکرینِ کرامات بھی مان گئے:

حضرت سیِّدُنا جابر رحبی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں کہ” رحبہ کے اکثر لوگ کراماتِ اولیاء کے منکر تھے۔ ایک دن میں ایک درندے پر سوار ہو کر رحبہ میں داخل ہو گیا اور پوچھا: ”کہاں ہیں وہ لوگ جو اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی کرامات کو جھٹلاتے ہیں؟” آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” اس کے بعد وہ میرے بارے میں ایسی یاوَہ گوئیوں سے باز آگئے ۔”

کیکرکے درخت سے کھجوریں:

حضرت سیِّدُنا بکر بن عبدالرحمن علیہ رحمۃ اللہ الحنّان فرماتے ہیں کہ” ہم ایک جنگل میں حضرت سیِّدُنا ذوالنون مصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ محو ِسفرتھے ۔ہم نے کیکر کے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیااور کہا: ”یہ جگہ کتنی عمدہ ہے، کاش! اس درخت پر تروتازہ کھجوریں ہوتیں۔”حضرت سیِّدُناذوالنون مصری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مسکرانے اور پوچھنے لگے: ”کیاتروتازہ کھجوریں کھانا چاہتے ہو؟” اس کے ساتھ ہی آپ نے درخت کو حرکت دے کر کہا: ”میں تجھے اس ذات کی قسم دیتاہوں جس نے تجھے پیداکیااور تناور درخت بنایا! ہماری طرف تازہ کھجوریں پھینک۔”
پھر آپ نے اس درخت کو ہلایا تو اس سے واقعتاً تازہ کھجوریں گر نے لگیں۔ہم نے خوب سیر ہوکر کھائیں پھر ہم سو گئے اور بیدار ہو کر جب ہم نے دوبارہ درخت کو حرکت دی تو ہم پر کانٹے گرے۔”

error: Content is protected !!