Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ہے پاک رتبہ فکر سے اس بے نیاز کا

ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دَخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا

شہ رَگ سے کیوں وِصال ہے آنکھوں سے کیوں حجاب
کیا کام اس جگہ خردِ ہرزہ تاز کا

لب بند اور دل میں ہیں جلوے بھرے ہوئے
اللّٰہ رے جگر ترے آگاہِ راز کا

غش آگیا کلیم سے مشتاقِ دِید کو
جلوہ بھی بے نیاز ہے اُس بے نیاز کا

ہر شے سے ہیں عیاں مِرے صانع کی صنعتیں
عالم سب آئنوں میں ہے آئینہ ساز کا

اَفلاک و اَرض سب ترے فرماں پذیر ہیں
حاکم ہے تو جہاں کے نشیب و فراز کا

اس بے کسی میں دِل کو مِرے ٹیک لگ گئی
شہرہ سنا جو رحمت بے کس نواز کا

مانندِ شمع تیری طرف لو لگی رہے
دے لطف میری جان کو سوز و گداز کا

تو بے حساب بخش کہ ہیں بے شمار جرم
دیتا ہوں واسطہ تجھے شاہِ حجاز کا

بندے پہ تیرے نفسِ لیں ہوگیا محیط
اللّٰہ کر علاج مری حرص و آز کا

کیوں کر نہ میرے کام بنیں غیب سے حسنؔ
بندہ بھی ہوں تو کیسے بڑے کارساز کا

بیر حدیبیہ اورلشکر اسلام
یومِ حدیبیہ میں بیر حدیبیہ کا سارا پانی لشکر اسلام نے (جو چودہ سو تھے ) نکال لیا اور کنواں خالی ہوگیا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا اور وضو کر کے ایک کلی کوئیں میں ڈال دی اور فرمایا کہ ذرا ٹھہرو، اس کوئیں میں اس قدر پانی جمع ہوگیا کہ حدیبیہ میں قریباً بیس روز قیام رہا، تمام فوج اور ان کے اُونٹ اسی سے سیر اب ہوتے رہے ۔
(السنن الکبری للبیہقی، ۹ / ۳۳۷، الحدیث : ۱۸۸۱۵، دارالکتب العلمیۃ بیروت و بخاری، ۳ / ۶۹، الحدیث : ۴۱۵۱، دارالکتب العلمیۃ بیروت )

error: Content is protected !!