Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ریاکاری کے احکام

    ریاکاری کی مذمت میں وارد احادیثِ مبارکہ سے یہ اَحکام مستنبط ہوتے ہیں: 
٭۔۔۔۔۔۔جب صرف مخلوق کی خوشنودی کے ارادے سے عمل کیا جائے تو یہ ریاء ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔ شرک کرنے کے بارے میں وارداحادیثِ مبارکہ ریاء اور ثواب کے قصد کے برابر ہونے یا ثواب پر ریا کی نیت کے غالب ہونے پر محمول ہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔اگر ثواب کے مقابلے میں ریاکاری کی نیت کمزور ہو تونماز فاسد نہیں ہو گی، لیکن اگر ریاکاری کی نیت نماز میں تکبیرِ تحریمہ سے لے کر سلام تک رہی تو بالاتفاق اس کی نماز نہیں ہوئی اور ایسی نماز کا کوئی اعتبار نہیں۔
٭۔۔۔۔۔۔اگر نماز کے دوران یہ شخص ریاکاری سے باز آ گیا اور توبہ کر لی تو ایک گروہ کہتا ہے :”یہ عبادت ادا نہیں ہوئی لہٰذا وہ اسے دوبارہ پڑھے گا۔” اور دوسرا کہتا ہے :”تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ اس کی ساری نماز باطل ہو گئی لہٰذا وہ تحریمہ پر بناء رکھتے ہوئے نماز ادا کریگا۔” جبکہ ایک گروہ کے نزدیک يہ ہے :”اس پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی اور جہاں وہ ہے وہیں سے اپنا عمل پورا کریگاکیونکہ اعمال کا دارو مدار ان کے انجام پر ہوتا ہے جیسے اگر کوئی اخلاص کے ساتھ عمل شروع کرے اور اس کے عمل کا انجام ریاکاری پر ہو تو اس کا عمل فاسد ہو جائے گا۔” آخری دو اقوال فقہی قیاس سے خارج ہیں، بالخصوص ان میں سے پہلا قول تو ہر گز قرینِ قیاس نہیں کیونکہ جب عمل کا اِختتام اخلاص پر ہو تو وہ اس وجہ سے صحیح ہو گا کہ ریاکاری تو صرف نیت کو خراب کرتی ہے نہ کہ عمل کو۔ اور فقہی قیاس کے مطابق صحیح بات یہ ہے کہ عمل کی ابتداء کا سبب ریاکاری ہو نہ کہ ثواب کی طلب اور حکمِ شریعت کی بجا آوری تو اس کی ابتداء ہی درست نہ ہو گی لہٰذا بعد کا عمل بھی درست نہ ہو گا کیونکہ اس کی نیت ہی پختہ نہ رہی جو کہ شرط تھی اور لوگوں کی وجہ سے حرام ہو چکی تھی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ کسی کے کپڑے نجس ہوں اور وہ تنہائی میں نماز پڑھے تو اس کے باوجود وہ نماز سرے سے نہیں ہو گی۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

٭۔۔۔۔۔۔لیکن اگر معاملہ یوں ہو کہ لوگوں کی عدم موجودگی میں صحیح طریقے سے نماز پڑھے مگر اپنی تعریف کی رغبت بھی ہو تو اس صورت میں عمل کا باعث دو سبب ہوں گے، ایک یہ کہ اگر ریا نفل نماز میں ہو گی تو اس ریاکاری کے باعث گنہگار ہو گا اور دوسرا یہ کہ ثواب کی نیت بھی ہو تو اس کے باعث اَجر پائے گا، 

اللہ عزوجل کا فرمانِ عالیشان ہے :
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿7﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿8﴾
ترجمۂ کنز الایمان: تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرہ برائی کرے اسے دیکھے گا۔(پ30، الزلزا ل:7۔8)
    لہٰذا اسے اپنے صحیح ارادے کے مطابق ثواب ملے گا اور غلط ارادے کے مطابق سزا ہو گی، نیز ان میں سے ایک سبب دوسرے کو فاسد نہیں کریگا۔ نفل نماز صدقہ کی طرح ہی ہوتی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ اس کی نماز فاسد اور اِقتداء باطل ہے۔ اگرچہ یہ بات ظاہر بھی ہو جائے کہ اس کا مقصود ریاء اور حسنِ قراء ت کا اظہار ہے تو چونکہ مسلمان سے اچھا گمان ہی رکھنا چاہے کہ نفل سے ثواب ہی کی نیت کی ہوگی، لہٰذا اس کے اس قصد کی وجہ سے اس کی نماز اور اقتداء درست ہو جائے گی، لیکن اگر اس کی نیت میں کوئی اور قصد بھی شامل ہو جائے تو اس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو گا۔ 
٭۔۔۔۔۔۔یہ دونوں سبب (یعنی ریا اور ثواب کی اُمید) اگر فرض نماز کی ادائیگی کاباعث ہوں اور ان کی اپنی الگ کوئی مستقل حیثیت نہ ہو تو وہ فرض بندے سے ساقط ہی نہ ہو گا، لیکن اگر دونوں میں سے ہر ایک سبب الگ مستقل حیثیت میں ادائیگی کا باعث ہو مثلاً اگر ریا کا باعث بننے والا سبب نہ پایا جائے تو فرض ادا ہو جائے گا، لیکن اگر ثواب کا باعث بننے والا سبب نہ پایا جائے تو فرض نماز ریاکاری کی وجہ سے نئے سرے سے ادا کی جائے گی۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس صورت کاحکم محلِ نظر ہے یعنی اس اعتبار سے کہ فرض وہ ہوتا ہے جس کی ادائیگی محض اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ہو اور یہاں ایسی عبادت نہیں پائی گئی۔ اور اس اعتبار سے کہ فرض اس شرعی حکم کی بجا آوری کا نام ہے جو کہ خود ایک مستقل ادائیگی کا باعث ہوتی ہے جوکہ یہاں پائی گئی ہے، لہٰذاکسی دوسرے ارادے کا اس میں شامل ہو جانا فرض کی ادائیگی کو ساقط نہیں کر سکتا، جیسا کہ کوئی شخص غصب کی گئی زمین میں نماز پڑھے۔ 
٭۔۔۔۔۔۔اگر ریاکاری اصلِ نماز میں نہ ہو بلکہ اس کی خاطر جلدی کرنے میں ہو تو ایسی صورت میں بالاتفاق اس کی نماز درست ہو گی کیونکہ یہ ریا اصلِ نماز میں نہیں بلکہ اسے جلدی یا دیر سے ادا کرنے میں ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔نیز فقط لوگوں کے اس کے نیک اعمال سے آگاہ ہو جانے پراُس کا خوش ہونا جبکہ اس کا اثر عمل میں نہ ہو تو فقہی لحاظ سے یہ عمل بھی ادا ہو گا، فاسد نہیں ہوگا۔
    یہ ایسے مسائل ہیں کہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ اس اعتبار سے ان میں بحث ہی نہیں کرتے اورجو لوگ ان میں بحث کرتے ہیں وہ فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے قوانین کا لحاظ نہیں کرتے کیونکہ وہ بندوں کے دلوں کی صفائی اور ان کی ان عبادات میں خلوص پیدا کرنے کے اِنتہائی حریص ہوتے ہیں جو (عبادات) دل میں پیدا ہونے والے ان خطرات و خدشات اور وسوسوں سے فاسد ہو جاتی ہیں، لہٰذا ان مسائل پر ہماری بحث بھی اسی حرص کا نتیجہ ہے ،اور حقیقی علم اللہ عزوجل ہی کے پاس ہے۔
error: Content is protected !!