Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

چوتھی حدیثِ پاک کی چھٹی سند

    امام ابویعلٰی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی” مُسْنَد” میں فرماتے ہیں کہ محمد بن بکار ، ابو معشر سے ، وہ یعقوب بن زید بن طلحہ سے ، وہ زید بن اسلم سے اور وہ حضرت سيدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی  بارگاہ میں ایسے شخص کا تذکر ہ کیا گیا جو دشمن کو زخمی یا قتل کر کے اس پر غالب آجاتاتھا اور پوری طاقت صرف کرتاتھاتوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا :”میں اسے نہیں جانتا۔”صحابہ کرام علیہم الرضوان عرض کرنے لگے :”کیوں نہیں! اس میں یہ یہ خوبیاں بھی ہیں۔”
        آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میں اسے نہیں پہچانتا۔” اسی دوران وہ شخص بھی آگیاتوصحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی: ”یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! یہی ہے وہ شخص جس کا ہم تذکرہ کررہے تھے ۔” آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اسے توميں جانتاہوں یہ پہلاسینگ (يعنی شیطان کی رائے کاپابندشخص)ہے جومیں نے اپنی اُمت میں دیکھا، اس میں شیطانی بدبختی ہے ۔”جب وہ شخص قریب پہنچا اورسلام کیا تو لوگوں نے اس کے سلام کاجواب دیا پھرسیِّدُ المُبَلِّغِین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشادفرمایا:”میں تجھے اللہ عزوجل کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ جب تُو ہمارے سامنے ظاہرہوا تھا توکياتو نے اپنے دل میں کہا تھا کہ ان لوگوں میں کوئی بھی تجھ سے افضل نہیں ؟”اس نے کہا:”اللہ عزوجل کی قسم! ہاں، بات توایسی ہی ہے ۔”پھر وہ مسجد میں داخل ہو کر نمازپڑھنے لگا۔
    آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا:”اُٹھو اور اسے قتل کردو۔”حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسجد میں داخل ہوئے تو اسے نماز کی حالت میں پایاتواپنے دل میں کہنے لگے کہ نمازکی ایک حرمت اورحق ہے اس لئے مجھے حضورنبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت لینی چاہے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے تو نبئ کریم ،رؤف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے استفسارفرمایا:”کیا تم نے اسے قتل کردیا؟”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”نہیں، میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا توسوچا کہ نما ز کی ایک حرمت اورحق ہے،آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اگر چاہتے ہیں کہ(اسی حالت میں) اسے قتل کردوں تو میں اسے قتل کردیتا ہوں۔”آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”یہ تمہاراکام نہیں ،اے عمر!تم جاؤ اور اسے قتل کردو۔ ”
    حضرت سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو وہ سجدہ کی حالت میں تھا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کافی دیر اس کا انتظارکیا پھردل میں کہنے لگے کہ سجدہ کا بھی حق ہے مجھے رسولِ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کرلینی چاہے اس لئے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جومجھ سے بہترہیں انہوں نے بھی اجازت طلب کی۔”
    چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے۔حضورنبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے استفسارفرمایا:”کیا تم نے اسے قتل کردیا؟”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”نہیں ،مَیں نے اسے سجدہ کی حالت میں دیکھ کر سوچا کہ سجدہ کا بھی ایک حق ہے ، اگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم چاہتے ہیں کہ (اسی حالت) میں اسے قتل کردو ں تومیں اسے قتل کردیتا ہوں ۔”تو نبئ کریم، رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہارا کام نہیں ،اے علی!تم اُٹھو(چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں گئے) مگر اسے نہ پایا کیونکہ وہ مسجد سے جاچکا تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ ِرسالت میں حاضرہوئے۔تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے استفسارفرمایا:”کیا تم نے اسے قتل کردیا؟”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”نہیں ، توحضورپرنور، شافعِ یومُ النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے علی!اگر تم اسے قتل کردیتے تو میری اُمت میں سے کبھی دو آدمی بھی دجال کے معاملہ میں باہم اختلاف نہ کرتے۔”
 (مسند ابی یعلٰی،مسندانس بن مالک،الحدیث: ۳۶۵۶،ج۳، ص۰ ۲۹ /۹ ۲۸)
error: Content is protected !!