Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جس کے پاس بہت سا جہیز ہو!

    عورت کو ماں باپ کے یہاں سے جو جہیز ملتا ہے اس کی مالک عورت ہی ہے، اس میں2 طرح کی چیزیں ہوتی ہیں ایک:حاجت کی جیسے خانہ داری کے سامان، پہننے کے کپڑے، استعمال کے برتن اس قسم کی چیزیں کتنی ہی قیمت کی ہوں ان
کی وجہ سے عورت غنی نہیں، دوسری: وہ چیزیں جو حاجتِ اصلیہ سے زائد ہیں زینت کے لیے دی جاتی ہیں جیسے زیور اور حاجت کے علاوہ اسباب اور برتن اور آنے جانے کے بیش قیمت بھاری جوڑے، ان چیزوں کی قیمت اگر بقدر نصاب ہے عورت غنی ہے زکوٰۃ نہیں لے سکتی۔
 (ردالمحتار، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، مطلب في جہاز المرأۃ ہل تصیر بہ غنیۃ، ج۳، ص۳۴۷)
جس کے پاس موتی جواہر ہوں!
    موتی وغیرہ جواہر جس کے پاس ہوں اور تجارت کے لیے نہ ہوں تو ان کی زکوٰۃ واجب نہیں، مگر جب نصاب کی قیمت کے ہوں تو زکوٰۃ لے نہیں سکتا۔
 (ماخوذ از بہارِ شریعت ،ج۱،حصہ۵،مسئلہ۳۷ص۹۳۰)
جس کے پاس سردیوں کے بیش قیمت کپڑے ہوں!
    سردیوں کے کپڑے جن کی گرمیوں میں حاجت نہیں پڑتی حاجت اصلیہ میں ہیں، وہ کپڑے اگرچہ بیش قیمت ہوں زکوٰۃ لے سکتا ہے۔  (ماخوذ از بہارِ شریعت ،ج۱،حصہ۵،مسئلہ۳۵ص۹۳۰)
جس کے پاس بہت بڑا مکان ہو!
     جس کے پاس رہنے کا مکان حاجت سے زیادہ ہو یعنی پورے مکان میں اس کی سکونت(یعنی رہائش) نہیں یہ شخص زکوٰۃ لے سکتا ہے۔
 (ردالمحتار، کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج۳، ص۳۴۷)
error: Content is protected !!