Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

۔۔۔۔۔۔ عطف بحرف (معطوف)اور عطف بیان ۔۔۔۔۔۔

معطوف کی تعریف:
    معطوف وہ تابع ہے جو حرف عطف کے بعد واقع ہو اور تابع ومتبوع دونوں مقصود بالنسبۃہوں۔ تابع کو معطوف اور متبوع کو معطوف علیہ کہتے ہیں ، جیسے جَاءَ نِیْ زَیْدٌ وَعَمْرٌو۔ میں زَیْدٌ معطوف علیہ اور عَمْرٌو معطوف ہے۔
نوٹ:
    تابع اور متبوع دونوں مقصود بالنسبۃ تو ہونگے لیکن ضروری نہیں کہ دونوں کی طرف نسبت کی نوعیت بھی ایک ہو جیسے جَاءَ نِیْ زَیْدٌ لاَ عَمْرٌو، یہاں زَیْدٌ کی طرف آنے کی اور عَمْرٌو کی طرف نہ آنے کی نسبت کی گئی ہے۔ اور یہاں یہ مقصود بھی تھا کہ زَیْدٌ کی طرف آنے کی نسبت کی جائے اور عَمْرٌو سے اسکی نفی کی جائے لہذا یہ دونوں مقصود بالنسبۃ ہوئے اگرچہ نسبت کی نوعیت مختلف ہے۔ 
حرف عطف دس ہیں :
    ۱۔ واؤ     ۲۔ فاء    ۳۔ ثم    ۴۔ حتٰی     ۵۔ او ۶۔اما ۷۔ ام ۸۔ لا ۹۔ بل ۱۰ ۔لٰکن ۔
معطوف کے چندضروری قواعد:
    ٭۔۔۔۔۔۔اسم کاعطف اسم پر،فعل کا فعل، حرف کا حرف،مفرد کا مفرد، جملے کاجملے ، نیز عامل کا عامل ، اور معمول کا معمول پر ہوتا ہے۔
    ٭۔۔۔۔۔۔جملہ اسمیہ کا عطف جملہ اسمیہ پر اور فعلیہ کا فعلیہ پر مناسب ہوتا ہے لیکن برعکس بھی جائز ہے۔ جیسے جَاءَ زَیْدٌ وَ عَلِیٌّ ذَھَبَ۔
    ٭۔۔۔۔۔۔اسم ظاہر کا عطف اسم ظاہر یااسم ضمیر پر اور اسم ضمیر کا عطف اسم ضمیر یا اسم ظاہر پر جائزہے۔ جیسے جَاءَ زَیْدٌ وَعَمْرٌو، جَاءَ زَیْدٌ وَأَنْتَ ، مَاجَاءَ نِیْ اِلاَّ أَنْتَ وَعَلِیٌّ اور أَنَا وَأَنْتَ صَدِیْقَانِ۔
    ٭۔۔۔۔۔۔بسا اوقات جملے کے شروع میں واقع ہونے والی واؤ عطف کی غرض سے نہیں آتی بلکہ استیناف کیلئے آتی ہے ۔ جیسے وَقَالُوْا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا اس وقت اسے واؤ مستانفہ ااورجملے کو جملہ مستانفہ کہتے ہیں ۔ 
    ٭۔۔۔۔۔۔ضمیر مرفوع متصل بارز یا مستتر پر عطف کرنا ہوتو پہلے ضمیر مرفوع منفصل کے ساتھ اسکی تاکید لا نا ضروری ہے۔ جیسے نَجَوْتُمْ اَنْتُمْ وَ مَن مَّعَکُمْ  (تم نے اور تمھارے ساتھیوں نے نجات پائی)
اسْکُنْ اَنۡتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ  ۔
    ٭۔۔۔۔۔۔ضمیر مجرور پر عطف کرناہو توعموما حرف جر کا اعادہ کیا جاتاہے۔ جیسے مَرَرْتُ بِہٖ وَبِزَیْدٍ اور بعض اوقات اعادہ نہیں کیا جاتا ،جیسے قرآن پاک میں وَکُفْرٌ بِہٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ آیا ہے۔ 
فائدہ :
    بعض عبارتوں میں عطف کی یہ نشانیاں ہوتی ہیں ۔ عط عط یا عف عف ۔
عطف بیان کی تعریف: 
    وہ تابع ہے جو صفت تو نہ ہو لیکن صفت کی طرح اپنے متبوع کو واضح کرے یہ اپنے
متبوع سے زیادہ مشہور ہوتا ہے۔ جیسے أَقْسَمَ با اللہِ أَبُوْ حَفْصِ عُمَرُ۔ اس مثال میں عمرتابع ہے جس نے متبوع ابوحفص کوواضح کیا۔ اور قَالَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ أَبُوْھُرَیْرَۃَ، تابع کو عطف بیان اور متبوع کومبیَّن کہتے ہیں ۔
عطف بیان کے چند ضروری قواعد:
    ٭۔۔۔۔۔۔اگر کنیت اور علم ایک ساتھ آجائیں توان میں سے مشہور کو عطف بیان بنائیں جیسے مذکورہ بالا مثالوں میں پہلی میں عُمَرُ اور دوسری میں أَبُوْھُرَیْرَۃَ عطف بیان ہیں۔ 
    ٭۔۔۔۔۔۔اگر متبوع معرفہ ہو تو عطف بیان اسکی وضاحت کرتاہے جیسے مذکورہ مثالیں اورنکرہ ہو تو اسکی تخصیص کا فائدہ دیتاہے۔ جیسے وَیُسْقٰی مِنْ مَّاءٍ صَدِیدٍ۔ اس مثال میں صدید عطف بیان نے ماء متبوع کی تخصیص کی۔
    ٭۔۔۔۔۔۔عطف بیان تخصیص اور ازالہ وہم کیلئے بھی آتاہے جیسے أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اور اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ47﴾رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ  ۔
ضاحت:
    طَعَامُ مَسٰکِیْنَ نے کفارہ کی اقسام میں طعام کو خاص کردیا ہے اور لفظ رَبِّ مُوْسیٰ وَھَارُوْنَ نے فرعون پر ایمان لانے اور اسکے دعوائے ربوبیت کا ازالہ کیا ہے۔
error: Content is protected !!