Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۵۱) صبر

حدیث:
     عَنْ عَلِیٍّ اَلصَّبْرُ ثَلٰثَۃٌ فَصَبْرٌ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ وَصَبْرٌ عَلَی الطَّاعَۃِ وَصَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ فَمَنْ صَبَرَ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ حَتّٰی یَرُدَّھَا بِحُسْنِ عَزَائِھَا کَتَبَ اللہُ لَہٗ ثَلٰثَمِائَۃِ دَرَجَۃً مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ صَبَرَ عَلَی الطَّاعَۃِ کَتَبَ اللہُ لَہُ سِتَّ مِائَۃِ دَرَجَۃً مَابَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ تُخُوْمِ الْاَرْضِ اِلٰی مُنْتَھٰی الْاَرْضِیْنَ وَمَنْ صَبَرَ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ کَتَبَ اللہُ لَہٗ تِسْعَ مِائَۃِ دَرَجَۃً مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ تُخُوْمِ الْاَرْضِ اِلٰی مُنْتَھٰی الْعَرْشِ مَرَّتَیْنِ(1)  (کنز العمال،ج۳،ص۱۵۷)
    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ صبر تین ہیں(۱)مصیبت پر صبر (۲)عبادت پر صبر(۳) گناہ سے صبر، توجومصیبت پرصبرکرے یہاں تک کہ مصیبت کواچھی تسلی سے دور کردے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے تین سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین و آسمان کے درمیان ہے اور جو عبادت پر صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے چھ سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا ہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ اور تمام زمینوں کے منتہیٰ کے درمیان فاصلہ ہے اور جو گناہ سے صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نو سو درجے لکھ دیتا ہے جس کے دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوتاہے جتنا کہ زمین کی نچلی کیچڑ وں اور عرش کے منتہیٰ کے درمیان کے دو گنے کے درمیان فاصلہ ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تشریحات وفوائد

صبر کے معنی ”حَبْسُ النَّفْسِ عَلَی الْمَکَارِہِ ” یعنی نفس کو تکلیفوں کے اوپر روکے رہنا اور کنٹرول میں رکھنا،اب غورکیجئے کہ صبرکی تینوں قسموں پریہ تعریف صادق آتی ہے۔  (۱) ”صَبْرٌ عَلَی الْمُصِیْبَۃِ ” ظاہر ہے کہ مصیبت کے وقت نفس میں بڑی بے چینی اور بے قراری پیدا ہوتی ہے اور بعض مرتبہ ایسی بوکھلاہٹ بلکہ جنون و دیوانگی کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ انسان رونے پیٹنے، بال نوچنے اور کپڑے پھاڑنے لگتا ہے اب اسی موقع پراپنے نفس کورونے پیٹنے اورجزع وفزع کی حرکتوں سے روکے رہنایہی”مصیبت پر صبر کرنا”ہے۔ 
 (۲) ”صَبْرٌ عَلَی الطَّاعَۃِ ” ظاہرہے کہ گرمیوں کا روزہ ہو اور آدمی پیاس کی شدت سے بے قرارہو اور سامنے ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھابرف کا شربت رکھا ہوا ہو نفس بار بار شربت کی طرف لپکتا ہے مگر روزہ دار نفس کو روکے ہوئے ہے جو نفس پر گراں اور شاق ہے یہی ”عبادت پر صبر کرنا” ہے۔  (۳)” صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ ” جوان آدمی ہے، شہوت کا غلبہ شباب پر ہے، زنا کاری کے لیے نفس بے قرار ہے اور کوئی حسین عورت اس کو بدکاری کی دعوت بھی دے رہی ہے مگر پرہیزگارمسلمان اپنے نفس کوروکے ہوئے ہے اورزناکاری سے بچاہواہے۔ یہی ” صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ ” یعنی ”گناہ سے صبر کرنا ”ہے۔ حدیث میں آپ نے پڑھ لیا کہ صبر کی ان تینوں قسموں کا بڑا درجہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اِنَّ اللہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(1) o یعنی صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی امداد و نصرت ہوتی ہے اور صابرین کا مددگار اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔
    سبحان اللہ!اس سے بڑھ کر صبر کا ثواب واجر کیا ہوگا؟ کہ خدا عزوجل صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
error: Content is protected !!