Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۴۵) راستوں سے تکلیفوں کو دور کرنا

حدیث:۱
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بَیْنَمَا رَجُلٌ یَمْشِیْ فِی الطَّرِیْقِ اِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ فَاَخَّرَہٗ فَشَکَرَ اللہُ لَہٗ فَغَفَرَ لَہٗ (2)
                     (ترمذی،ج۲،ص۱۷)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے راوی ہیں کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ اس درمیان میں کہ ایک آدمی راستے میں چل رہا تھا اس نے ایک کانٹے کی شاخ کو پایا تو اس کو راستے سے ہٹا دیا تو اللہ تعالیٰ نے خوش ہو کر اس کو بخش دیا۔
حدیث:۲
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَۃٍ عَلٰی ظَھْرِ طَرِیْقٍ فَقَالَ لَاُنَحِّیَنَّ ھٰذَا عَنْ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنَ لَا یُؤْذِیْھِمْ فَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ۔متفق علیہ(1)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۸)
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی ایک درخت کی ٹہنی کے پاس گزرا جو راستہ کی پشت پر تھی تو اُس نے کہا کہ میں ضرور ضرور اس ٹہنی کو مسلمانوں کے راستے سے ہٹادوں گا تاکہ یہ مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچائے تو وہ آدمی جنت میں داخل کردیا گیا۔ اِس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
حدیث:۳
     عَنْ اَبِیْ بَرْزَۃَ قَالَ قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللہِ عَلِّمْنِیْ شَیْئًا اَنْتَفِعُ بِہٖ قَالَ اِعْزِلِ الْاَذٰی عَنْ طَرِیْقِ الْمُسْلِمِیْنَ(2)  (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۸۶)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت ابوبرزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی!عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیجئے کہ میں اس سے نفع پاؤں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تکلیف کی چیز کو مسلمانو ں کے راستے سے ہٹاتے رہو۔

تشریحات و فوائد

    ہر وہ تکلیف دہ چیز مثلاً کانٹا، شیشہ، ٹھوکر کی چیزیں جس سے چلنے والوں کو ایذا پہنچنے کا اندیشہ ہو اس کو راستوں سے ہٹا دینا بہت معمولی کام ہے لیکن یہ عمل اللہ تعالیٰ کو اِس قدر پسند ہے کہ وہ اس کی جزا میں اپنے فضل و کرم سے جنت عطا فرمادیتا ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    آج کل کے مسلمان اس عمل صالح کی عظمت اوراِس کے اجروثواب سے بالکل ہی غافل ہیں۔بلکہ اُلٹے راستوں میں تکلیف کی چیزیں ڈال دیاکرتے ہیں۔ مثلاًعام طورپرلوگ کیلاکھاکراُس کاچھلکاریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرپھینک دیا کرتے ہیں۔گاڑی آنے پرمسافربدحواس ہوکرٹرین میں چڑھنے کے لئے دوڑتے او ر کیلے کے چھلکوں پرپاؤں پڑجانے سے پھسل کرگرجاتے ہیں اوربعض شدیدزخمی ہوجاتے ہیں اسی طرح ہڈیاں اورشیشے کے ٹکڑے عام طورپرلوگ راستوں میں ڈال دیاکرتے ہیں۔اِن حرکتوں سے مسلمان کو بچنا چاہیے بلکہ راستوں میں کوئی تکلیف دہ چیز اگر نظر پڑجائے تو اس کو راستوں سے ہٹا دینا چاہیے اِن شاء اللہ تعالیٰ اگر یہ عمل مقبول ہوگیا تو جنت ملے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم

error: Content is protected !!