Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

اِقرارکا بیان

کبيرہ نمبر220:             جھوٹااقرارکرنا
یعنی وارث یا کسی اجنبی کے لئے قرض یا کسی مال کا جھوٹا اقرار کرنا۔
 (1)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”وصيت ميں نقصان دينا کبيرہ گناہوں ميں سے ہے۔”
       ( سنن الدار قطنی ، کتاب الوصایا ، الحدیث: ۴۲۴۹ ، ج۴ ، ص ۱۷۸)
 (2)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارعزوجل صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:”ایک آدمی 70سال تک نيک عمل کرتاہے پھر جب وصيت کرتا ہے تو اپنی وصيت ميں ظلم کر بيٹھتا ہے اس طرح اس کا خاتمہ برے عمل پر ہوتا ہے اور وہ جہنم ميں داخل ہو جاتا ہے اور ايک آدمی 70سال تک برے لوگوں جیسے عمل کرتا ہے مگراپنی وصيت ميں عدل سے کام ليتا ہے،پس اس کا خاتمہ اچھے عمل پر ہوتا ہے تو وہ جنت ميں داخل ہو جاتا ہے۔” پھر حضرت سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرمانے لگے اگر چاہو تو يہ آيت مبارکہ پڑھ لو:
تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیۡمُ ﴿13﴾وَمَنۡ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪ وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪14﴾


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الايمان:يہ اللہ کی حديں ہيں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں ميں لے جائے گا جن کے نيچے نہريں رواں ہميشہ ان ميں رہيں گے اور يہی ہے بڑی کاميابی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ ميں داخل کریگا جس ميں ہميشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے۔(پ4، النساء:13۔14)
( سنن ابن ماجۃ ،ابواب الوصایا ، باب الحیف فی الوصیۃ ، الحدیث: ۲۷۰۴ ، ص۲۶۳۹)
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے:”مرد يا عورت اللہ عزوجل کی فرمانبرداری کے کام کرتے ہيں پھر جب ان پر نزع کا عالم طاری ہوتا ہے تو وہ دونوں وصيت ميں ورثاء کو نقصان پہنچا کر اپنے لئے جہنم واجب کر ليتے ہيں۔” پھر حضرت سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے يہ آيت مبارکہ پڑھی:
مِّنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوۡصُوۡنَ بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ؕ وَ اِنۡ کَانَ رَجُلٌ یُّوۡرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَ ۃٌ وَّلَہٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنۡ کَانُوۡۤا اَکْثَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَہُمْ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوۡصٰی بِہَاۤ اَوْدَیۡنٍ ۙ غَیۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِیَّۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿ؕ12﴾تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ ؕ وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیۡ مِنۡ تَحْتِہَا الۡاَنْہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیۡمُ ﴿13﴾
ترجمۂ کنز الايمان: ميت کی وصيت اور دين نکال کر جس ميں اس نے نقصان نہ پہنچايا ہو يہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔يہ اللہ کی حديں ہيں اور جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں ميں لے جائے گا جن کے نيچے نہريں رواں ہميشہ ان ميں رہيں گے اور يہی ہے بڑی کاميابی۔(پ4، النساء:12۔13)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( جامع الترمذی ، ابواب الوصایا ، باب ماجاء فی الضرار فی الوصیۃ ، الحدیث: ۲۱۱۷، ص۱۸۶۳)

تنبیہ:

    وصيت ميں ورثاء کو نقصان پہنچانے کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کرنے کی وجہ کثير علمائے عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کی تصريح ہے، اس ميں سے کچھ تو ميں نے ذکر کر ديا اور عنقريب وصيت کے باب ميں اس آیتِ کریمہ پرمکمل کلام ہو گا جس کی طرف حضرت سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشارہ فرمايا ہے۔
error: Content is protected !!