Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مؤمن اور مسلم میں فرق:

(11)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”مؤمن وہ ہے جس سے لوگ بے خوف رہيں اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہيں اور مہاجر وہ ہے جو برائی کو چھوڑ دے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت ميں ميری جان ہے! جس کے شر سے اس کا پڑوسی بے خوف نہ ہووہ بندہ جنت ميں داخل نہ ہو گا۔”
    (المرجع السابق، الحدیث: ۱۲۵۶۲ ، ج۴ ، ص ۳۰۸)
(12)۔۔۔۔۔۔سرکار ابد قرار، شافعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اللہ عزوجل نےتمہارے درميان تمہارے اخلاق اس طرح تقسيم کئے ہيں جس طرح تمہارے درميان تمہارا رزق تقسيم فرمايا ہے اور اللہ عزوجل دنيا تو اسے بھی عطا فرماتا ہے جس سے محبت فرماتا ہے اور جس سے محبت نہيں فرماتا اسے بھی عطا فرماتا ہے مگر دين صرف اسی کو عطا فرماتا ہے جس سے محبت فرماتا ہے، لہذا اللہ عزوجل نےجسے دين عطا فرمايابے شک اسے اپنا محبوب بنالیا، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے دستِ قدرت ميں ميری جان ہے! بندہ اس وقت تک مسلمان نہيں ہو سکتا جب تک کہ اس کا دل اور زبان مسلمان نہ ہو جائے اور وہ اس وقت تک مؤمن نہيں ہو سکتا جب تک کہ اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو جا ئے۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    راوی کہتے ہيں ، ميں نے عرض کی:”اس کے شر سے کيا مراد ہے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”بدديانتی اور ظلم، نیز جو بندہ حرام مال کمائے پھر اس ميں سے خرچ کرےتو اس ميں برکت نہ ہو گی اور اگر صدقہ کریگا تو وہ قبول نہ ہو گا اور اگر اسے چھوڑ کر مر جائے گا تو وہ اس کے لئے جہنم کا زادِ راہ ہو گا، اللہ عزوجل برائی کو برائی کے ذریعے نہيں مٹاتا البتہ اچھائی کے ذریعے برائی کو ضرور مٹا ديتا ہے، بيشک برائی برائی کو نہيں مٹاتی۔”  ( المرجع السابق، مسند عبداللہ بن مسعود ، الحدیث:۳۶۷۲،ج۲ ،ص۳۳)
(13)۔۔۔۔۔۔شاہِ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے اپنے پڑوسی کو ايذاء دی بيشک اس نے مجھے ايذاء دی اور جس نے مجھے ايذاء دی اس نے اللہ عزوجل کو ايذاء دی، نیز جس نے اپنے پڑوسی سے جھگڑا کيا اس نے مجھ سے جھگڑا کیا اور جس نے مجھ سے لڑائی کی بيشک اس نے اللہ عزوجل سے لڑائی کی۔” (کنز العمال ،کتاب الصحبۃ،الحدیث: ۲۴۹۲۲ ، ج۹ ، ص ۲۵)
(14)۔۔۔۔۔۔رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ايک غزوہ پرتشریف لے گئے اور ارشاد فرمايا:”آج وہ شخص ہمارے ساتھ نہ بیٹھے جس نے اپنے پڑوسی کو ايذاء دی ہو۔” تو ايک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی:”ميں نے اپنے پڑوسی کی ديوار کے نيچے پيشاب کيا تھا۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”آج تم ہمارے ساتھ نہ بیٹھو۔” ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۹۴۷۹ ، ج۶، ص ۴۸۱)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(15)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم يہ دعا مانگا کرتےتھے: ”اَللّٰھُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُبِکَ مِنْ جَارِالسُّوْءِ فِیْ دَارِالْمُقَامَۃِ (یعنی اے اللہ عزوجل!ميں اس پڑاؤميں برے پڑوسی سے پناہ چاہتاہوں)کيونکہ صحراء کا پڑوسی ايک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتارہتاہے۔”
( المستدرک ،کتاب الدعاء التکبیر۔۔۔۔۔۔الخ ، باب التعوذ من جار ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۱۹۹۴ ، ج۲ ، ص ۲۲۱)
(16)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”قيامت کے دن سب سے پہلے(آپس ميں جھگڑنے والے) دو پڑوسیوں کاجھگڑاپيش کيا جائے گا۔”
( المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عقبۃبن عامرالجھنی، الحدیث: ۱۷۳۷۷ ، ج۶، ص ۱۳۴ )
error: Content is protected !!