شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی نابغۂ روزگار ہستی

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی 
نابغۂ روزگار ہستی

بقلم : قاضی برہان الدین احمد صدیقی (علیگ)

الہیٰ آں کہ نامش را بنام خویش ضم کردی
مرا سویش نمودی رہ چہا برمن کرم کردی
    (مولٰنا مرحوم)
مولٰنا انوار اللہ خاں بہادر نواب فضیلت جنگ علیہ الرحمہ اہلِ برادری میں ’’مولوی صاحب حضرت‘‘ سے مخاطب تھے۔ ان کی برادری میں قندھار کے فاروقی۔ احمد پور۔ اودگیر اور بیڑ کے قاضی بھی داخل تھے (اور ان میں اکثر حضرات فریدی تھے) ان میں خاص افراد اہل برادری تھے جو مولٰینا کے علمی۔ دینی مشاغل میں شریک ہوتے تھے۔ شب کے دس بجے سے محفل جس کو سبق کہا جاتا تھا منعقد ہوتی۔ قابل الذکر حضرات میں راقم الحروف کے حقیقی نانا حضرت معلی (مولٰینا مظفر الدین مددگار ٹپہ)قاضی شریف الدین صاحب۔ مولٰینا رکن الدین، برہان اللہ حسینی۔ حکیم محمود صمدانی۔ عبدالرحیم حاضر باش رہتے تھے۔ سبق شب کے دس بجے سے نمازِ تہجد تک ہوتا تھا۔ اس میں فتوحات مکیہ۔ قدوری۔ شرح جامی کا درس اور سلسلہ قادریہ کا ذکر ہوتا تھا۔ نمازِ فجر ادا فرماکر مولٰینا آرام فرماتے تھے۔ لیکن تعجب ہے کہ روز و شب بیداری، سرکاری فرائض، معین المہام امور مذہبی، صدر الصدور کے ادائی خدمات اور دیوڑھی اعلحضرت کی حاضری میں حارج نہیں ہوتی تھی۔ مدرسہ نظامیہ کی نگرانی بھی فرماتے تھے۔
مجھے اپنے نانا حضرت معلی مرحوم کے ساتھ اکثر تقاریب سرکاری میں شرکت اور مولٰینا کے پاس حاضر ہونے کا اتفاق ہوا ہے۔ چنانچہ میری تسمیہ خوانی مولوی صاحب حضرت کے ہاتھوں نواب فیروز یارجنگ کی دیوڑھی میں انجام پائی۔ حضرت معلی کو مولوی صاحب حضرت سے بیعت حاصل تھی اور حضرت مرحوم، مولوی صاحب حضرت کے خاص مریدوں اور دوستوں میں تھے۔ اسی لئے پورا رمضان حضرت معلی کا اپنے پیرو مرشد کے پاس مندوزی کی دیوڑھی واقع شکر کو ٹھا میں گذر تا تھا۔ مولوی صاحب حضرت اوپر کے حصہ میں رہتے تھے۔ اور حضرت قبلہ نیچے کے حصہ میں مقیم رہتے تھے۔ رمضان میں خاص چہل پہل اور رونق رہتی تھی۔ روزانہ پانچ چھ سو روزہ داروں کی ضیافت کا انتظام ہوتا تھا۔ دو بجے دن سے تندور سلگتا تھا اور نان کی روٹیاں تیار کی جاتیں۔ روزانہ ہر روزہ دار کے لئے نان کی روٹی۔ قورمہ اور کھیر کا انتظام کیا جاتا تھا۔ داخلہ کے لئے ٹکٹ (پاس) دیئے جاتے تھے۔ اور یہ پاس پورے رمضان کا ہوتا تھا۔ ان دنوں بخارا کے غریب مسلمان ہزاروں کی تعداد میں ہندوستان ہجرت کر کے آئے ہوئے تھے۔ اور حیدرآباد میں بھی ان کی خاصی تعداد در آمد ہوئی تھی۔ ان کے لانبے۔ موٹے۔ کثیف چوغہ۔ سرخ سفید رنگ اور ان چوغوں میں سے میل کی کثیف بوکراہیت پیدا کرتی تھی مگر مولوی صاحب حضرت کے دسترخوان پر ان کی خاصی تعداد رہتی تھی۔ اور مولٰینا ان کے درمیان بلاتکلف تشریف رکھتے تھے۔ اور خاصہ تناول فرماتے تھے۔ حضور نظام کا استاد، حکومت کا وزیر، مسلمانوں کا صدر الصدور اسی کثیف اور میلے ماحول میں بلا تکلف بیٹھ کر تناول وطعام فرمایا کرتے تھے۔ شاید ہی کوئی ایسی مثال اس صدی میں پیش کی جاسکتی ہے۔ حضرت کی سالی صاحبہ جو زنانہ انتظام کی نگران کار تھیں آپ کے لئے کوئی اچھی چیز تیار کرکے روانہ کرتیں۔ مگر مولٰینا اس کو بھی تقسیم فرمادیتے۔ مولوی عبدالرشید صاحب مرحوم، مولٰینا کے خانگی حساب کے محاسب تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ ماہ رمضان میں تقریبا چار ہزار خرچ ہوجاتے تھے۔ جس کا تکمیلہ دوسرے شہور کے خرچ کو گھٹا کر کیا جاتا تھا۔ دسترخوان پر ایک ہی وضع کی رکابیاں۔ کٹورے ہوتے تھے۔ میں نے کئی ہزار انامل کی رکابیاں دیکھی ہیں۔ برادری کے اکثر حضرت پورا رمضان یہیں گذارتے اور مرید تو حاضرہی رہتے تھے۔ ان کے لئے افطار وسحر ہر دو وقت کا انتظام ہوتا تھا۔
میری دادی دولت بی صاحبہ حضرت کی مرید تھیں۔ اکثر اپنے پیرومرشد کے پاس رہتی تھیں چنانچہ وہ اپنے پوتوں کے سامنے جب کبھی اپنے فرزندوں جن میں حکیم اسعد الدین صاحب سابق ناظر الاطباء بھی داخل ہیں خفا ہوتیں قدیم دکنی زبان میں یہ گیت گاتیں۔ ’’مرگئے انوار اللہ۔ بجھ گیا میرا چولھا‘‘۔ ان کے بچے فورا ان کا حق مادری گذارتے۔
مولٰنا کے پاس نماز تراویح پابندی سے ہوتی۔ اگر چہ مولٰینا خود حافظ قرآن تھے۔ مگر تراویح میں مولٰینا کے اہلِ برادری کے ایک بزرگ حافظ شاکر اللہ صاحب صدیقی عرف بغدادی صاحب قرآن مجید سناتے۔ ۲۶ کو ختم ہوتا اور اہل برادری عید کے اہتمام کیلئے اپنے اپنے گھر واپس ہوجاتے۔
اسی ایک رمضان کا ذکر ہے۔ میری عمر نو یادس سال کی ہوگی کہ فٹ بال میں میرے بائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ حضرت معلی کو معلوم ہوا۔ انہوں نے مجھے اور میری والدہ کو مولوی صاحب حضرت کے پاس دیوڑھی مندوزی طلب فرمالیا۔ مولٰینا مرحوم کے پاس حکیم محمد قاسم صاحب فروکش تھے جن کا دعوی تھا کہ ہڈی بلابیانڈیز کے جڑی بوٹی سے جڑجاتی ہے۔ مولٰینا مرحوم اس کا تذکرہ مدارالمہام (وزیر اعظم) وقت نواب سالارجنگ سوم (نواب یوسف علی خاں) سے فرمایا۔ نواب مدار المہام کو اس پر یقین نہیں آرہا تھا۔
اتفاق سے میرے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی اور مولٰینا مرحوم حکیم سے میرا علاج شروع ہوا۔ چند دنوں کے بعد مولٰینا مرحوم نے مجھے بمعہ حکیم صاحب دو گھوڑوں کی بدوم گاڑی میں دیوان کی دیوڑھی روانہ کی گئی۔ نواب مدار المہام نے حکیم صاحب کو تین سو تنخواہ کردیا۔
عید کی نماز ادا فرماکر مولوی صاحب حضرت کنگ کوٹھی مبارک سے واپسی میں حضرت معلی کے مکان موقوعہ عثمان شاہی تشریف لاتے۔ بعد ضیافت تھوڑی دیر سماع ہوتا۔ محمد علی خاں قوال اپنے مخصوص انداز میں مولٰینا مرحوم کی فارسی غزل گا تے اور محفل پر ایک خاص کیفیت چھاجاتی ۔ ایک شعر مقطع کا مجھے اب تک یا د ہے۔
حال چہ گوئم انوؔرا تاچہ نمود لطفہا
بد درخویشتن مرا عکس جمال یارمن
یہ ہے حیدرآباد کے ایک وزیر اور قندھار کے عالم باعمل کی زندگی کا ایک پہلو جو میرے قلب پر نقش کا لحجر ہے۔
٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *