Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

خونخواردرندوں کی وادی

خونخواردرندوں کی وادی

اس حکایت کے راوی حضرت سیدنا جعفر السائح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں ، وہ فرماتے ہیں:”حضرت سیدنا عامر بن عبدقیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے زمانے کے عابدوں میں سب سے افضل تھے۔ انہوں نے اپنے اُوپر یہ بات لازم کرلی تھی کہ میں روزانہ ایک ہزار نوافل پڑھوں گا۔ چنانچہ وہ اشراق سے لے کر عصر تک نوافل میں مشغول رہتے پھر جب گھر آتے تو ان کے پنڈلیاں اور قدم متورّم(یعنی سوجھے ہوئے)ہوتے، ایسا لگتا جیسے ابھی پھٹ جائیں گے۔ اتنی عبادت کے باوجودآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عاجزی کایہ عالم تھا کہ اپنے نفس کومخاطب کرکے کہتے:”اے برائیوں پر ابھارنے والے نفس! توعبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے، خداعزوجل کی قسم !میں اتنے نیک اعمال کرو ں گا کہ تجھے ایک پل بھی سکون میسر نہ ہوگا اور تو بستر سے بالکل دور رہے گا، میں تجھے ہر وقت مصروف عمل رکھوں گا ۔”
ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک ایسی وادی میں تشریف لے گئے جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ خونخوار درندوں کی آماجگاہ ہے۔ اس وادی میں ” حَمَمَہ” نامی ایک حبشی عبادت گزار بھی رہتا تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی وہاں رہنے لگے ۔ دونوں بزرگ اس ایک وادی میں رہتے لیکن ایک دوسرے سے ملاقات نہ کرتے ۔ حضرت سیدنا عامر بن عبد قیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وادی کی ایک سمت میں رہتے اور حممہ عابد دوسری سمت میں رہتا۔ان دونوں کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ جب فر ض نماز وں سے فارغ ہوجاتے تو نوافل پڑھنا شروع کردیتے۔ اسی طر ح ان دونوں بزرگوں کو اس ایک ہی وادی میں چالیس دن اور چالیس راتیں گزر گئیں ۔

چالیس دن کے بعد حضرت سیدنا عامر بن عبد قیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حممہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس گئے ، سلام کیا اور پوچھا : ”اے اللہ عزوجل کے بندے! اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے،تو کون ہے ؟” تو وہ کہنے لگا:” تم مجھے چھوڑ دو اور میرے بارے میں فکرمند نہ ہو۔ ” حضرت سیدنا عامر بن عبد قیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :”میں تجھے قسم دیتا ہوں، تم مجھے اپنے بارے میں بتاؤ کہ تم کون ہو ؟” وہ کہنے لگا:” میرا نام حممہ ہے۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اگرتو وہی حممہ ہے جس کے بارے میں مجھے خبردی گئی ہے تو پھر دنیا میں سب سے بڑا عبادت گزار تو ہی ہے، آخر تمہارے اندر وہ کونسی خوبی ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ مرتبہ ملا ہے؟”
حممہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عاجزی کرتے ہوئے کہا: ”میں تو بہت زیادہ سست اور کوتاہ ہوں(یعنی مجھ میں ایسی کوئی فضیلت والی بات نہیں)ہاں !میری یہ خواہش ہے کہ اگر فر ض نمازوں کی وجہ سے مجھے قیام وسجود نہ کرنا پڑتا تو میں اپنی ساری زندگی رکوع میں ہی گزارتا اور اپنا چہرہ کبھی بھی اوپر نہ اٹھاتایہاں تک کہ میر ی زندگی تمام ہوجاتی اور اسی حالت میں اپنے خالق حقیقی عزوجل سے جاملتا، لیکن کیا کر وں فرائض کی وجہ سے مجھے قیام وغیرہ کرنا پڑتا ہے۔ اچھا! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے بارے میں بتائیں کہ” آپ کون ہیں؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” میرا نام عامر بن عبد قیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہے۔”توحممہرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا :” اگرآپ وہی عا مر بن عبدقیس ہیں جن کے بارے میں مجھے خبر ملی ہے ،توپھر لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار آپ ہی ہیں، آپ بتائیں کہ آپ کے اندر ایسی کونسی خوبی ہے جس کی وجہ سے آپ کویہ مرتبہ ملا ؟”
توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی عاجزی کرتے ہوئے فرمانے لگے :” میں تو بہت سست اور کوتا ہ ہوں ہاں! ایک بات ہے کہ میرے دل میں اللہ عزوجل کی ہیبت اور رُعب گَھر کر گیا ہے،اب اس پاک پروردگار عزوجل کے علاوہ مجھے کسی چیز سے خوف نہیں آتا، میں صرف اسی وَحدَہٗ لَا شَرِیک ذات سے ڈرتاہوں، اس کے علاوہ کسی اورسے نہیں ڈرتا۔” ابھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہ بات کہہ ہی رہے تھے کہ اچانک بہت سے درندوں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو چارو ں طر ف سے گھیر لیا اور ایک خونخوار درندے نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پیچھے سے آپ پر چھلانگ لگا کر آ پ ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کندھوں پر سوار ہو گیا لیکن قربان جائیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی دلیری پر کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کی طرف کوئی تو جہ نہ فرمائی اوربالکل خوفزدہ نہ ہوئے، بس قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کرتے رہے :

ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوۡعٌ ۙ لَّہُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُوۡدٌ ﴿103﴾

ترجمہ کنزالایمان:وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اوروہ دن حاضری کاہے ۔ (پ12،ھود :103)
کچھ دیر بعد درند ہ آپ کو نقصان پہنچائے بغیر وہاں سے چلا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر حممہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ

علیہ سے پوچھا :” جو منظر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دیکھا کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوئے؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباًارشاد فرمایا:” مجھے اس سے حیا آتی ہے کہ میں اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اور سے ڈروں۔ ”
پھر حممہرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا :” کیا کرو ں مجھے اس پیٹ کی آزمائش میں مبتلا کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے کھانا وغیرہ کھانا پڑتا ہے اورپھر بول وبراز کی حاجت ہوتی ہے ۔ اگر یہ معاملات نہ ہوتے تو خدا عزو جل کی قسم! میرا رب عزوجل مجھے ہمیشہ رکوع وسجود کی حالت میں دیکھتا ۔حممہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ دن رات میں آٹھ سو رکعت نوافل پڑھتے۔پھر بھی اپنے نفس کو ڈانٹتے ہوئے کہتے :میں تو بہت سست اور کوتا ہ ہوں ، میں بہت سست اور کوتا ہ ہو ں ،کچھ بھی عبادت نہ کرسکا۔
(میٹھے اسلامی بھائیو!سبحان اللہ عزوجل! عمل ہو تو ایسا اور عاجزی اور خوفِ خدا عزوجل ہوتو ایسا کہ روزانہ ہزار ہزار رکعت پڑھیں ، جسم کو لمحہ بھر بھی آرام نہ دیں ،ہر وقت عبادت میں مشغول رہیں اور بتقضائے بشریت جو وقت بقد رِ ضرورت کھانے وغیرہ میں گزر جائے اس پر بھی افسوس کریں کہ کاش! ہمیں کھانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی تاکہ جو وقت یہاں گزرتا ہے وہ بھی عبادت ہی میں گزرتا۔ ایسی عظیم عبادت کے با وجودعاجزی کرتے ہوئے اپنے آپ کو سست اور کوتا ہ سمجھنا ان عظیم ہستیوں ہی کاحصہ تھا۔ اور ایک ہماری حالت ہے کہ اوّلاً تو عمل کرتے ہی نہیں، اگر کبھی دوچار نوافل پڑھ بھی لیں تو اپنے آپ کو اولیاء کی صف میں شمار کرنے لگتے ہیں اور اپنے آپ کو بڑا متقی اور عبادت گزار تصور کرنے لگتے ہیں اور اگر کہیں عاجزی کرتے ہیں تو وہ بھی جھوٹی عاجزی جس کی دل تصدیق نہیں کر رہا ہوتا ۔اللہ عزوجل ہمارے حالِ زار پر رحم فرمائے اور ان عظیم بزرگو ں کی عبادت اور سچی عاجزی کے صدقے ہمیں بھی کثرتِ عبادت اور سچی عاجزی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان بزرگو ں کے صدقے ہم بروں کوبھی بھلابنائے ۔آمین)
؎ہر بھلے کی بھلائی کا صدقہ
اس برُے کو بھی کر بھلا یا رب عزوجل
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

error: Content is protected !!