Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

برہمن اورعیسائی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے یانہیں؟

سوال:برہمن اورعیسائی لڑکی سے نکاح کرنا جائز ہے یانہیں؟۔

(نذیراحمدبیجاپور۔ہبلی)

جواب:
مشرکہ وکافرہ سے بدون ایمان ہرگزنکاح کرنا جائز نہیں اہل کتاب کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے بشرطیکہ عیسائی لڑکی اپنے مذہب اصلی پر قائم رہے۔ مگر اب یہ کہاں؟
 نکاح کرنے کی غرض وغایت یہ ہے کہ اولاد صالح پیدا کریںاور نبی کریمﷺ کی امت بڑھائیں ۔ اولاد اکثرماں کے ساتھ رہتی ہے جو طریقہ اورمذہب ماں کا ہوتا ہے، وہی طریقہ بچوں کو سکھاتی ہے۔ لہٰذا عیسائی لڑکی کے ساتھ نکاح مکروہ تحریمی ہے۔ کیوں کہ اولاد ضائع ہوجاتی ہے( فتح القدیر) یہی حکم ہے ہر بدمذہب کے ساتھ نکاح کرنے کا۔اگر بدمذہب لڑکی کی بدعت کفرتک پہنچ گئی تو اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہی نہیں اگر کفر تک نہ پہنچے تو نکاح کرنا جائز مگر مکروہ تحریمی ہے۔ کیوں کہ اولاد اپنی ماں کا مذہب اختیار کرتی ہے۔
error: Content is protected !!