Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قضائے حاجت کرتے وقت باتیں کرنا

قضائے حاجت کرتے وقت باتیں کرنا

قضائے حاجت کے وقت اور بیت الخلاء میں باتیں کرنا مکروہ تحریمی ہے ،لہذا اس سے بھی بچا جائے ۔(حدیقہ ندیہ،ج۲، ص۳۱۱)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مکی مدنی سلطان رحمتِ عالمیان انے ارشاد فرمایا: ”جب دو شخص قضائے حاجت کو جائیں تو پردہ کرلیں اورباتیں نہ کريں کیونکہ ایسے موقع پر باتیں کرنا اللہ کو سخت ناپسندہے ۔”
(تاریخ بغداد ، رقم الحدیث۶۵۷۴،ج۱۲،ص۱۲۲)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

لوگوں کے بُرے نام رکھنا

اصل نام سے ہٹ کر کسی کا ایسا ویسا نام (مثلاً لمبو، ٹھنگو،کالو وغیرہ)رکھنا بھی ہمارے معاشرے میں بہت معمولی تصور کیا جاتا ہے حالانکہ اس سے سامنے والے کو تکلیف پہنچتی ہے اور یہ ممنوع ہے۔ہاں! اگر سامنے والے کو واقعتا اذیت نہ پہنچے اور اس میں اس کی تحقیر بھی نہ ہو اور وہ اسی نام سے معروف ہو تو حرج نہیں لیکن پھر بھی اصل نام سے پکارنا ہی مناسب ہے ۔
رب تعالیٰ فرماتاہے :

وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمَانِ ۚ

ترجمۂ کنزالایمان : اورایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی بُرا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا۔(پ۲۶، الحجرات : ۱۱)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!