Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

انبیاء کرام علیہم السلام واولیاء کی مبارک زند گیاں

انبیاء کرام علیہم السلام واولیاء کی مبارک زند گیاں

حمد ِباری تعالیٰ:

سب تعریفیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے ساری کائنات کو پید افرمایااورمختلف چیزوں کو مختلف صورتیں عطا فرمائیں۔ انسان کوپانی سے بنایااور اسے قوتِ سماعت وبصارت عطا کی اور اپنی قدر ت سے تقدیر کو مقرر فرمایا اور اپنی حکمت سے اپنی نشانیوں سے عبرتیں ظاہر فرمائیں اورنیک عمل کرنے والوں کو اعمال کا قابلِ فخر لباس پہنایا جو اس کی بارگاہ میں خشوع وخضوع اور شکستہ دِلی کے ساتھ کھڑ اہوا اللہ عزَّوَجَلَّ نے اس کے دل کو جوڑ دیا، جس نے اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور محتاجی میں اس کی طرف رجوع کیا اس نے اسے اپنے فضل سے مالامال کردیا۔
پاک ہے وہ ذات جس کی قدرت سے نہ کوئی آگے بڑھ سکتا ہے، نہ ہی اس کی وحدانیت کے قریب پہنچ سکتا ہے،وہ سمیع وبصیر ہے جو سنتااور دیکھتا ہے، اس نے پانی کی طرف نظر فرمائی تو وہ اس کی ہیبت و جلال سے پتھر بن گیا، پتھروں کی طرف نظر فرمائی تو وہ اس کی رحمت سے سیلاب کی طرح بہنے لگے۔اس نے نیلگوں اسمان کو بغیر ستونوں کے بلند کیااور اس میں سورج، چاند کو بنایا اور اسے چمکتے ہوئے ستاروں سے سجایااوروہ چمک دار ستارے موتیوں کے مشابہ ہیں، اور اپنی رحمت سے ہوائیں بھیجیں، اور ستارے کو رات کے وقت چلنے کا حکم دیاتو وہ چلنے لگا، اور بادل کوبارش برسانے کا حکم دیا، اور آسمانی قلعہ کی حفاظت پر شہابِ ثاقب کو مامور فرمایالہٰذا اب چوری چھپے سننے والے شیاطین کچھ نہیں سن سکتے۔ انسانی فکراس ذات کونہ سمجھ سکی اورناکام ہو کر واپس لوٹ آئی اور چٹیل میدان میں حیران وپریشان بھٹکنے لگی، جس نے اس کا انکار کیا اور سرکشی کی اُسے اس نے عذاب میں مبتلا فرما دیا، اور جس نے اس کی طرف رجوع کیا،اس کی وحدانیت کا اعتراف کیا ، عاجزی کی اور تکبر نہ کیاتو اس نے اسے اپنا قرب عطا فرما دیا۔ نافرمانوں کو سزا دینے سے پہلے عبرت کے لئے کڑک بھیجی ،اوربارش کی خوشخبری دیتے ہوئے بجلی چمکائی اوراپنی قدرت کی تیز ہواؤں سے بادل کوگرج عطا فرمائی، اپنے کرم کے خزانوں سے اپنی نعمت کی ٹھنڈی ہوائیں چلائیں تواہلِ معرفت نے اس سے مشک وعنبر کو سونگھ لیااور انہیں نیکی اور برائی کا خفیہ راز معلوم ہو گیا۔
پھر حضرتِ سیِّدُنا ابو یزید علیہ رحمۃ اللہ المجید کو نصرتِ خداوندی کی وہ دولتِ سرمدی عطا ہوئی کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے تقویٰ کی بدولت دنیا کو تابع کر لیا۔حضرتِ سیِّدُنا شبلی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے محبت کی دلہنوں کے لئے آراستہ وپیراستہ رات گزاری تو محبتِ الٰہی میں دیوانے اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔ اور حضرتِ سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے خلاف چڑھائی کی اور عبادتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لئے تیار ہو گئے اور حسرت کے عالم میں روتے روتے تمام رات بسرکر دی ۔
جب اللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے ولی حضرتِ سیِّدُنا ذوالنون مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی پر اپنا پوشیدہ راز ظاہر کیا تو وہ محبت الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں دیوانہ وار پھرنے لگے۔ اورحضرتِ سیِّدُنا منصور حلاج علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا خالص جام پیا تو ان کی زباں پر ”اَنَا لَاَحَقُّ’ ‘ جاری ہو گیا۔(۱) جب اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے محبت کا مزہ چکھ لیا تو ان پر شوقِ دیدار کی ہوائیں چلنے لگ گئیں، اور انہیں خبر دی گئی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان پرنگاہِ کرم اور دِلکش تجلِّی فرمارہا ہے۔ یہ سن کر اُمید رکھنے والوں نے تاریک رات میں عاجزی وانکساری کرتے ہوئے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اورمُجرم نے عذر پیش کرتے ہوئے حقیر دل کے ساتھ اپنا سر جھکا لیا اورگنہگار پیشانیوں سے پکڑے جانے والے دن سے خوف زدہ ہو گیا اور اللہ تعالیٰ سے حیا اور خوف کرتے ہوئے نگاہیں نیچے کر لیں، اپنے گناہوں پر گریہ وزاری کرنے لگا اوراپنے عیبوں پر رونے دھونے اور آہ وبکا کرنے میں راتیں کاٹ دیں۔
1۔۔۔۔۔۔عوام میں مشہور ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا حسین بن منصور حلاّج علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے ”اَنَا الْحَقُ”(یعنی میں حق ہوں) کہا تھا اس کا رد کرتے ہوئے اعلیٰحضرت، امام اہلسنت، مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ شریف میں تحریر فرماتے ہيں:”حضرت سیدی حسین بن منصور حلاّج قدس سرہ، جن کو عوام ”منصور”کہتے ہیں، منصور اِن کے والد کانام تھا، اوران کااسم گرامی حسین۔(آپ )اکابر اہلِ حال سے تھے، ان کی ایک بہن ان سے بدَرَجَہا مرتبۂ ولایت ومعرِفت میں زائدتھیں۔ وہ آخرشب کوجنگل تشریف لے جاتیں اوریادِالٰہی( عَزَّوَجَلَّ)میں مصروف ہوتیں۔ ایک دن ان کی آنکھ کھلی، بہن کونہ پایا، گھرمیں ہر جگہ تلاش کیا، پتانہ چلا، اُن کووسوسہ گزرا، دوسری شب میں قصداً سوتے میں جان ڈال کرجاگتے رہے۔ وہ اپنے وقت پراُٹھ کرچلیں، یہ آہستہ آہستہ پیچھے ہولئے، دیکھتے رہے۔ آسمان سے سونے کی زنجیر میں یاقوت کاجام اُترا اوران کے دہن مبارک(یعنی مُنہ شریف)کے برابرآ لگا، انہوں نے پینا شروع کیا، اِن سے صبرنہ ہو سکا کہ یہ جنت کی نعمت نہ ملے ۔بے اختیارکہہ اُٹھے کہ بہن! تمہیں اﷲ ( عَزَّوَجَلَّ)کی قسم کہ تھوڑا میرے لئے چھوڑدو، انہوں نے ایک جُرعَہ (یعنی ایک گھونٹ) چھوڑ دیا، انہوں نے پیا، اس کے پیتے ہی ہرجڑی بوٹی، ہردرودیوارسے ان کو یہ آواز آنے لگی کہ کون اس کازیادہ مستحق ہے کہ ہماری راہ میں قتل کیاجائے۔ انہوں نے کہنا شروع کیا، ”اَنَا لَاَحَقُّ” بیشک میں سب سے زیادہ اس کا سزاوار(یعنی حق دار)ہوں۔” لوگوں کے سننے میں آیا، ”اَنَا الْحَقُّ”(یعنی میں حق ہوں) وہ (لوگ)دعوۂ خدائی سمجھے، اور یہ(یعنی خدائی کادعوی) کفرہے۔ اور مسلمان ہوکر جوکفرکرے مرتدہے اورمرتد کی سزاقتل ہے۔” (صحیح البخاری،کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم،ص۵۷۷ ،حدیث نمبر ۶۹۲۲پر ہے کہ) رسول اللہ( عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) فرماتے ہیں: ”مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہ، فَاقْتُلُوْہ، ترجمہ :جواپنادین بدل دے اسے قتل کرو۔” (فتاوی رضویہ ،ج۲۶، ص۴00)

error: Content is protected !!