Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ایثار علی النفس

ایثار علی النفس
بزرگانِ دین کے اخلاق میں سے ایثار بھی ہے ۔ وہ اپنے نفس پر غیروں کو ترجیح دیا کرتے تھے، اگرچہ ان کو خود تکلیف ہو مگر وہ دوسروں کو راحت پہنچانے کی سعی کیا کرتے تھے ۔
رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانہ میں ایک انصاری ایک مہمان کواپنے گھر لے گیا ۔ اس کے گھر میں صرف ایک آدمی کا کھانا تھا ۔ اس نے وہ کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیا اوراپنی بی بی کو اشارہ کیا کہ وہ چراغ بجھادے ۔ اس نے بجھادیا مہمان کے ساتھ وہ انصاری آپ بیٹھ گئے اور منہ کے ساتھ چپ چپ کرتے رہے جس سے

مہمان نے سمجھا کہ آپ بھی کھا رہے ہیں وہ سب کھانا اسی مہمان کو کھلادیا خود بمعہ بی بی اور عیال بھوکے سورہے اس پریہ آیت نازل ہوئی
وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (پ۲۸، الحشر:۹)
ترجمہ کنزالایمان : اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو
(تفسیر ابن کثیر، ج۸، ص۱۰۰)
اسی طرح ایک بکری کی سری ایک صحابی کے پاس صدقہ آئی تو آپ نے فرمایا کہ فلاں صحابی مجھ سے زیادہ غریب ہے اس کو دے دو ۔ چنانچہ اس کے پاس لے گئے ۔ اس نے دوسرے کے پاس بھیج دی ۔ اس دوسرے نے آگے تیسرے کے پاس یہاں تک کہ پھرتے پھرتے پھر پہلے کے پاس آگئی ۔(المستدرک للحاکم، تفسیر سورۃ الحشر، قصۃ ایثار الصحابۃ، الحدیث۳۸۵۲، ج۳، ص۲۹۹)
صحابہ کرام میں تو یہاں تک ایثار تھا کہ انہوں نے اپنے بھائی مہاجرین کو اپنی سب جائداد نصف نصف تقسیم کردی ۔ بلکہ جس کے پاس دو بیویاں تھیں انہوں نے ایک کو طلاق دے کر اپنے بھائی مہاجرکے نکاح میں دے دی ۔ اللہ اکبر ! یہ اخوت وہمدردی جس کی نظیر آج دنیا میں نظر نہیں آتی ۔
جنگ یرموک میں ایک زخمی نے پانی مانگا ایک شخص پلانے کو آگے ہوا تو ایک دوسرے زخمی کی آواز آئی کہ ہائے پانی ۔ زخمی نے کہا کہ اس بھائی کو پہلے پانی پلادو ۔ وہ شخص آگے لے کر گیا تو ایک اور نے آواز دی کہ پانی ! اس نے بھی کہا کہ اس کو پہلے پانی پلاؤ ۔ پھر آگے گیا تو ایک اور آواز آئی اس نے کہا کہ اس کو پانی پلاؤ جب وہ اس کے پاس پہنچا تو وہ شہید ہوگیا تھا ۔ پھر دوسرے کے پاس آیا تو وہ بھی شہید ہوگیا تھا ۔
اسی طرح سب کے سب شہید ہوگئے ۔مگرکسی نے پانی نہ پیا ۔ اپنی جان کی پروانہ کی سب نے دوسرے بھائی کے لئے ایثار کیا ۔
(تفسیر ابن کثیر، سورۃ الحشر، تحت الآیۃ ۹، ج۸، ص۱۰۰)
اسی طرح چند درویش جاسوسی کی تہمت میں پکڑے گئے سرکاری حکم ہوا کہ ان کو قتل کیا جائے جب قتل کرنے لگے تو ہر ایک نے یہی تقاضا کیا کہ پہلے مجھے قتل کیا جائے تاکہ ایک دو دم زندگی کے دوسرا بھائی حاصل کرے اور میں اس سے پہلے مارا جاؤں ۔ بادشاہ نے یہ ایثار دیکھا ، سب کو رہا کردیا ۔
وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(۸) (پ۲۹، الدھر:۸)
ترجمہ کنزالایمان :اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو۔
کی تفسیر میں حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور صاحبزادگان کا تین دن روزہ رکھنا اور بوقت افطار مسکین کا سوال کرنا ، دوسرے روز کسی یتیم کا سوال کرنا، تیسرے روز کسی قیدی کا اور آپ کا اپنی بھوک اوراپنے عیال کی بھوک کی پروانہ کرنااور سائلین کو دے دینا اعلیٰ درجہ کا ایثار ہے ۔ (تفسیر کبیر، ج۱۰، ص۷۴۶ملخصًا)
اللہ تَعَالٰی مسلمانوں کو توفیق دے ۔

error: Content is protected !!