تذکرۂ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ

تذکرۂ امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ
حمد ِ باری تعالیٰ:

تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے راہِ سلوک پر چلنے والے ہر شخص کے لئے اپنی معرفت کے راستے واضح فرمائے۔ وہ عظمت وکبریائی اور اقتدار میں یکتا ہے۔وہ ایسا معبود ِبرحق ہے جس کا کوئی وزیر ہے نہ بیوی اور نہ ہی کوئی شریک۔ وہ بے نیاز ہے۔ جسم و جوہر اور عرض سے پاک ہے۔ اس کے لئے فنا ہے نہ موت۔ جو ہوچکا یاآئندہ ہو گا اور جو بات سینے میں ہے اور جو تیرے لئے لکھ دیا گیاہے وہ سب کو جانتا ہے۔ وہ ایسا بصیر ہے کہ انتہائی سیاہ رات میں رحم کی تاریکی میں بچے کی غذا دیکھ لیتا ہے۔ وہ ایسا سمیع ہے جو ہر ایک کی پکار بھی سنتا ہے اور الفاظ واقوال ادا کرتے وقت جو ہونٹ ہلتے ہیں اس کو بھی سنتا ہے۔ خیر وشر اسی کے ارادہ کے تابع ہے۔ وہ عرش پر اپنی شان کے مطابق متمکِّن ہے جیسا کہ اس نے خود فرمایا، نہ کہ جیسے تیرے دل میں کھٹکے۔ اس کے لئے اترنا، چڑھنا اورحرکت کرنا نہیں اور جو دل میں گمان گزرتاہے وہ اس سے پاک ہے۔ یہ مسلمانوں کا اعتقاد ہے۔ اسی پر امامِ اعظم ابو حنیفہ ،امام احمد ،امام شافعی اور امام مالک رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین متفق ہیں ۔
اے بندۂ خطاکار! اُٹھ اور اپنے مالکِ حقیقی کے حضور جبینِ نیاز جھکا دے اور اپنی محتاجی میں اس کی طرف متوجہ ہو اور اس کی بارگاہ میں اپنی بگڑی ہوئی حالت سنوارنے کی درخواست کر کہ وہ تیری حالت خوب جانتاہے۔ تنگی وخوشحالی میں اس کی تعریف کر اور مصیبت وکشادگی میں اس کا شکر ادا کر۔ اور اس بات کی گواہی دے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ عزت والا اور ہمیشہ رہنے والا ہے اور یہ بھی گواہی دے کہ حضرت سیِّدُنا محمدِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خاص بندے اور رسول ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے آل و اصحاب رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پراپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ (آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!