Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حقیقت آپ کی حق جانتا ہے وہ وہم و فہم سے آقا وَرا ہے

حقیقت آپ کی حق جانتا ہے
وہ وہم و فہم سے آقا وَرا ہے
کچھ ایسا آپ کو حق نے کیا ہے
کہ خود وہ آپ کا طالب ہوا ہے
بلند اتنا تجھے حق نے کیا ہے
کہ عرشِ حق بھی تیرے زیر پا ہے
جو اَوروں کے علو کی اِنتہا ہے
وہ سرکاری علو کی اِبتدا ہے
خدا کی ذات تک تو ہی رَسا ہے
کسی کا بھی یہ عالی مرتبہ ہے
نہ ہے تم سا نہ کوئی ہوگا آگے
نہ اے آقا کوئی تم سا ہوا ہے
ملائک میں رُسل میں انبیا میں
کوئی عرشِ علا تک بھی گیا ہے

تَعَالَی اللّٰہ تیری شانِ عالی
جلالتِ شان کی کیا اِنتہا ہے
نکالی زَورَقِ خورشید ڈوبی
اِشارے سے قمر ٹکڑے کیا ہے
تمہیں ہو دوسرا میں سب سے بالا
بس اِک اللّٰہ ہی تم سے سوا ہے
تری صورت سے ہے حق آشکارا
خدا بھاتی تیری ہر ہر ادا ہے
نہیں ہوسکتا تجھ سے کوئی باہر
کہ تو ہی مبتدا و مُنْتَہا ہے
تو ہے نورِ خدا پھر سایہ کیسا
کہیں بھی نور کا سایہ پڑا ہے
تو ہے ظل خدا وَاللّٰہ بِاللّٰہ
کہیں سائے کا بھی سایہ پڑا ہے
زمیں پر تیرا سایہ کیسے پڑتا
ترا منسوب اَرفع دائما ہے

خدا کا فضلِ اَعظم آپ پر ہے
سکھا سب کچھ تمہیں حق نے دیا ہے
نہ منّت تم پہ اُستادوں کی رکھی
تمہارا اُمّی ہونا معجزہ ہے
ہتھیلی کی طرح پیشِ نظر ہے
ہوا جو ہوگا جو کچھ ہورہا ہے
نہ کوئی راز ہو پوشیدہ تم سے
نہ کوئی راز پوشیدہ رہا ہے
چھپا تم سے رہے کیونکر کوئی راز
خدا بھی تو نہیں تم سے چھپا ہے
مُسَلَّط غیب پر تو کیوں نہ ہوتا
نبی و مجتبیٰ و مرتضیٰ ہے
تری مرضی رضائے حق ہے مولیٰ
رضائے حق تری مرضی شہا ہے
گزر تیرا ہوا ہے جو گلی سے
تری خوشبو سے ہر ذَرَّہ بسا ہے

دُرودیں تم پہ حق کی ہوں ہمیشہ
ہماری حق سے ہر دم یہ دُعا ہے
دُرود اس پر ہو جس پر حق دُرودیں
بہر لحظہ بہ ہر دم بھیجتا ہے
سلام اس پر جو ہے مطلوب رب کا
سلام اس پر جو محبوبِ خدا ہے
سلام اس پر یہ بحر و بر ہیں جس کے
سلام اس پر جو شاہِ دَوسرا ہے
جس آقا کے ملائک ہیں سلامی
جو شاہِ کرسی و عرشِ علا ہے
خدا کی سلطنت کا جو ہے دولہا
سلام اس پر جو رحمت کا بنا ہے
جسے سنگ و شجر تسلیمیں کرتے
سلام اس پر جو ایسا بادشا ہے
سلام اس پر جو اَوَّل ہے رُسل کا
سلام اس پر جو ختم الانبیا ہے

سلام اَوَّل کا اَوَّل پر ہمیشہ
سلامِ باقی ہو جب تک بقا ہے
سلام آخر کا آخر پر ہو دائم
نہ بس عالم ہی تک جس کو فنا ہے
سلامِ ظاہر و باطن ہو اس پر
جو ظاہر ہو کے باطن ہوگیا ہے
سلام اے جانِ رحمت کانِ نعمت
سلام اے کہ وہ شانِ حق نما ہے
رہے جلوہ تمہارا دل کے اندر
مرے پیارے یہ دل کا مُدَّعا ہے
رہے پیش نظر وہ رُوئے اَنور
ترستی آنکھوں کی یہ اِلتجا ہے
شرابِ دِید سے دِل شاد کیجے
ہمارے دَرد کی یہ ہی دوا ہے
یہیں ہے بے ٹھکانوں کا ٹھکانہ
یہیں شاہ و گدا سب کا ٹھیا ہے

دمِ آخر تو آجا جانِ عیسیٰ
ہیں ساقط نبضیں گُھنگَر بولتا ہے
دمِ آخر چلے آؤ خدارا
دکھا دو مرنے والا جی رہا ہے
ترے قدموں میں جس کو موت آئے
حیاتِ جاوِدَاں اس کی قضا ہے
ہٹا دیجے رخِ اَنور سے گیسو
اندھیرا قبر کا کالی بلا ہے
سُنگھا دیجے ہمیں وہ زُلفِ مُشکیں
صفت میں جس کی وَاللَّیْلِ سَجٰیہے
دکھا دیجے شہا پُرنور چہرہ
صفت میں جسکی وَالشَّمْس اور ضُحٰی ہے
ترے قربان اے زُلفِ مُعَنْبَر
ہمارے سر ہجومِ بدبلا ہے
مرے سر سے بلائیں دُور فرما
بلاؤں میں یہ بندہ مبتلا ہے

نحیف و ناتواں سرکار ہم ہیں
بہت صبر آزما یہ اِبتلا ہے
پریشاں ہوں پریشانی کرو دُور
بلاؤں میں یہ بندہ مبتلا ہے
نہ کیجے دُور اپنے در سے ہم کو
پڑا رہنے دو جو در پر پڑا ہے
شہیدِ کربلا کا صدقہ دے دے
تو شاہا دافعِ کرب و بلا ہے
پریشاں ہوں پریشانی کرو دور
پریشاں سا پریشاں دل مرا ہے
پریشانی وطن کی یاد کرکے
پریشاں دل ابھی سے ہورہا ہے
پریشانی ہے ُگوناُگوں وطن میں
پریشاں ان کو فرما دو تو کیا ہے
یہاں کیوں کر نہ دل آرام پائے
جہاں آرامِ جان و دِل مرا ہے

میں گھر جاؤں تو ان میں گھر نہ جاؤں
یہاں بس یہ تفکر ہو رہا ہے
رُموزِ مصلحت سرکار جانیں
اگر واپس ہی فرمانا بھلا ہے
مگر اتنی گزارش کی اجازت
یہ بندہ دست بستہ چاہتا ہے
ہمیں پھر اپنے قدموں میں بلانا
یہی مولیٰ تعالیٰ سے دُعا ہے
کہ پھر سرکار کے قدموں میں لائے
یہیں پر مرنے جینے میں مزا ہے
قیامت ہے قیامت ہے قیامت
جدھر دیکھو ادھر محشر بپا ہے
زمیں تابنے کی ہے سورج سروں پر
تپش سے بھیجا سر میں کھولتا ہے
ذرا سا بھی نہیں سایہ کہیں پر
عرق اِتنا بہا دَریا بہا ہے

زبانیں سوکھی ہیں کانٹے جمے ہیں
عطش سے حال اَبتر ہو رہا ہے
کلیجے منہ کو آئے دَم گھٹے ہیں
اُلٹ کر دل گلے میں آرہا ہے
سراپا کوئی تو غرقِ عرق ہے
کسی کے منہ تک آکر رہ گیا ہے
تڑپتا ہے کوئی بے چین ہو کر
کوئی گِر کر زمیں پر لوٹتا ہے
مثالِ ماہیٔ بے آب کوئی
کوئی جل کر کبابِ سوختا ہے
عجب ہی َکسم مپرسی کا ہے عالم
جسے دیکھو بھڑکتا بھاگتا ہے
زَن و شو میں نہیں باقی تعارُف
نہ بھائی بھائی کو پہچانتا ہے

نہ کوئی آج حامی ہے نہ یاوَر
کہیں کس سے کہ ایسا ماجرا ہے
بُرے اَحوال ہیں اس روز اُف اُف
بہت اَہوالِ ِبہ کا سامنا ہے
کوئی ہانپے کوئی کانپے کراہے
کوئی روتا کوئی چلا رہا ہے
ہے داروگیر کا ہنگامہ برپا
بہت سخت آفتوں کا سامنا ہے
رُسل بھی نفسی نفسی کہہ رہے ہیں
حمایت کا کسے اب آسرا ہے
بندھے گی آس اپنی بعدِ ہر یاس
اسی سے جو ہمارا آسرا ہے
اسی کے پاس سب پہنچیں گے آخر
وہ جس کا نامِ نامی مصطفیٰ ہے

شفاعت کا اسی کے سر ہے سہرا
وہی اس بزم کا دولہا بنا ہے
چلو اے عاصیو کیوں ُکڑھ رہے ہو
وہ محبوبِ خدا جلوہ نما ہے
مَلُول اے غم زَدو تم کس لیے ہو
وہ پیارا مصطفیٰ جب غمزُدا ہے
سنیں گے سننے والے اِذْھَبُوْا کے
زبانِ پاک پر اِنِّیْ لَھَا ہے
مظالم کرلیں جتنے ہوویں ظالم
نہ کر غم نوریؔ اپنا بھی خدا ہے(1)

________________________________
1 – سامان بخشش کے نسخوں میں یہ مصرعہ یوں ہے: ’’ نہ کر غم نوریؔ کہ اپنا بھی خدا ہے ‘‘ فن عروض کے اعتبار سے یہ غیرموزون ہے جس کی وجہ یقینا کتابت کی غلطی ہے۔ صحیح مصرعہ یوں ہو سکتا ہے : ’’ نہ کر غم نوریؔ اپنا بھی خدا ہے ‘‘ لہٰذا ہم نے اسی طرح لکھا ہے۔ المدینۃ العلمیۃ

error: Content is protected !!