روزے کا ثواب دیدارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ہے :

روزے کا ثواب دیدارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ہے :

حضرتِ سیِّدُناابوسلیمان دارانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ایک مرتبہ گرمیوں میں روزہ رکھا پھر سوگئے۔ خواب میں ایک شخص کو دیکھا جو یہ کہہ رہا تھا: ”اے ابوسلیمان دارانی(رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ)! کیا آپ آج کے روزے کا ثواب ایک ہزار دینارکے عوض بیچتے ہیں؟” آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً فرمایا: ”میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت کی قسم! میں نہیں بیچتا۔” پھر پوچھا گیا: ”کس چیزکے عوض بیچیں گے؟” آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”میں یہ ثواب دُنیاومافیہا (یعنی دُنیا اور جو کچھ اس میں ہے) کے بدلے بھی نہیں بیچتا۔ البتہ! اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے دیدارکے عوض بیچ دوں گا۔” آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے کہا گیا: ”پھرروزہ رکھئے! إنْ شَآءَ اللہ عزَّوَجَلَّ! عنقریب آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا دیدار کریں گے۔”
اللہ عزَّوَجَلَّ نے آسمانی کتابوں میں ارشاد فرمایا: ”اے میرے بندے! میری ملاقات کے لئے تیار ہو جا، عنقریب تومجھ سے ملے گا۔ اور میری بندگی بجا لاکیونکہ میں ہی تیرا مالک ہوں، وہ شخص مجھے کس آنکھ سے دیکھے گا جس نے میری نافرمانی کی؟ یاوہ شخص کس منہ سے ملے گا جو میری عظمتِ شان کو بھول چکاہے؟ وہ بندہ خسارے میں ہے جسے میں اپنے دیدارسے محروم کر دوں گا۔جب سچائی کے پیکر میرے قریب ہوں گے اوربدبخت میری بارگاہ سے دھتکار دئیے جائیں گے، پھرمیں حجاب اُٹھا کر اُن پرہیزگاروں پرتجلِّی فرماؤں گا جو مجھے محبوب رکھتے ہیں۔ اے میرے بندے! میرے دروازے پرکھڑا ہو جاکہ میں کریم ہوں اور میری پناہ مانگ کہ میرا راستہ ہی سیدھا ہے۔”
پیارے اسلامی بھائیو! رمضان شریف کا یہ مبارک مہینہ اب تم سے لوٹنا چاہتا ہے اورکوچ کا ارادہ کئے ہوئے ہے، یہ اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں تمہارے حق میں یاتمہارے خلاف ان اعما ل کی گواہی دے گا جو تم نے کئے یا چھوڑ دیئے، اگراس مہینے سے تمہارے دل آباد ہوگئے اور گناہوں کے اثرات ختم ہوگئے تویہ تمہارا کتنا اچھا مہمان ہے؟ توکیا تم نے اس کا حق ضائع کر دیا یا اس کی ایسی عزت کی جو تم پر واجب تھی؟ شاید! توبہ کرنے والے کویہ سال دوبارہ نہ ملے اوراگر موت نے غافل کو مہلت نہ دی تو وہ
اس وقت نادِم ہوگا جب ندامت کوئی فائدہ نہ دے گی، اورجب قیا مت کے دن اس کے قدم ڈگمگا جائیں گے تو اپنے گناہوں پر افسوس کریگا۔
یقینا مقدَّر کا سکندر ہے وہ شخص جس نے بقیہ زندگی کو غنیمت جا ن کرنیکیوں میں جلدی کی اور بدبخت ہے وہ شخص جس نے اپنی زندگی غفلت میں گزار دی، اس شخص کو بھلائی کیونکر نہ ملے گی جو لیلۃ القدر میں قیام کرتا ہے ؟ کیا یہ قبولیت کی رات نہیں؟ پس اے غافل! توکیوں غفلت میں ہے؟ کیا یہ قدرکی را ت نہیں؟ تو کب تک نیندمیں پڑا رہے گا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!