Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبیرہ نمبر:60: نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاذ کرِمبارک سُن کر درودِ پاک نہ پڑھنا

 (1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”منبر انور کے قریب آجاؤ۔” تو ہم منبر شریف کے قریب حاضر ہو گئے، جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پہلے زینے پر قدم مبارک رکھا تو ارشاد فرمایا:”آمین۔”جب دوسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو ارشاد فرمایا:”آمین۔” اور جب تیسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو ارشاد فرمایا:”آمین۔” پھر جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم منبر شریف سے نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کی:”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آج ہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ایسی بات سنی ہے جو پہلے کبھی نہ سنی تھی۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” جبریلِ امین علیہ السلام میرے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی :”جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی وہ (اللہ عزوجل کی رحمت سے) دور ہو۔” تو میں نے کہا”آمین” جب میں نے دوسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو جبریلِ امین علیہ السلام نے عرض کی :”جس کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذکر ہوا اور اس نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود نہ پڑھا وہ بھی ( رحمتِ الٰہی عزوجل سے) دور ہو۔”تو میں نے کہا”آمین” پھر جب میں نے تیسرے زینے پر قدم مبارک رکھا تو جبریلِ امین علیہ السلام نے عرض کی:”جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھا پے میں پایا پھر انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کیا تو وہ بھی (اللہ عزوجل کی رحمت سے) دور ہو۔” تو میں نے کہا”آمین۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (المستدرک، کتاب البروالصلۃ ، باب لعن اللہ العاق لوالدیہ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۷۳۳۸،ج۵،ص۲۱۳)
 (2)۔۔۔۔۔۔سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے منبر انور پرقدم مبارک رنجہ فرمایا تو پہلے زینے پر قدم مبارک رکھتے وقت ارشاد فرمایا:”آمین۔” پھر جب دوسرے زینے کواپنے قدموں سے نوازا توفرمایا:”آمین۔” اور جب تیسرے زینے پر چڑھے تو ارشاد فرمایا: ”آمین۔” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” جبرائیل علیہ السلام نے میرے پاس آ کر عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! جس نے (ماہ)رمضان کو پایا اور اس کی مغفرت نہ ہوئی تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دور اور برباد فرمائے۔” تو میں نے آمین کہا۔” اور”جواپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے پھر بھی جہنم میں داخل ہو تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دورکرے۔” میں نے آمین کہا۔” اور”جس کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذکر ہو اور وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود نہ پڑھے تو اللہ عزوجل اسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے۔” تو میں نے کہاآمین۔”
 (صحیح ابن حبان، باب حق الوالدین، الحدیث:۴۱۰،ج۱،ص۳۱۵)
 (3)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم منبرِاقدس پر رونق افروزہوئے تو تین مرتبہ آمین کہا، پھر ارشاد فرمایا :”کیا تم جانتے ہو کہ میں نے آمین کیوں کہا؟” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”اللہ عزوجل اوراس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بہتر جانتے ہیں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” جبریل امین علیہ السلام نے میرے پاس آ کر دعا مانگی :”جس کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذکر ہو اور وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود پا ک نہ بھیجے تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دور فرمائے اور ہلاکت میں مبتلا فرمائے۔” میں نے آمین کہااور”جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پایا پھر ان کی خدمت نہ کر کے جہنم میں داخل ہوا اللہ عزوجل اسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے اور ہلاکت میں مبتلا فرمائے۔” میں نے کہاآمین۔ اور”جس نے رمضان کو پایا پھر بھی اس کی بخشش نہ ہوئی اور وہ جہنم میں داخل ہوا تو اللہ عزوجل اسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے اور ہلاکت میں مبتلا فرمائے۔” تو میں نے کہا آمین۔”  (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۲۵۱،ج۱۲،ص۶۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (4)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مسجد میں داخل ہو کر منبرِ انور پر رونق افروز ہوئے تو ارشاد فرمایا:”آمین !آمین! آمین! ”پھر جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لے جانے لگے تو عرض کی گئی”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! ہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ایسا کام کرتے دیکھا جو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے پہلے کبھی نہيں کيا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” جبریلِ امین علیہ السلام نے میرے سامنے ظاہر ہو کر عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! جس نے اپنے والدین کو پایا، پھر انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایا تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دوراورمزيددورفرمائے۔” میں نے آمین کہا، دوسرے زینے پر قدم مبارک رکھتے وقت جبریلِ امین علیہ السلام نے دعا مانگی :”جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کی مغفرت نہ کی گئی تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دور فرمائے،مزيد دور(اور محروم) فرمائے۔” تو میں نے آمین کہا، تیسرے زینے پر قدم مبارک رکھتے وقت جبریلِ امین علیہ السلام میرے سامنے ظاہر ہوئے اور دعا مانگی :”جس کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذکر ہو اور وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درودِ پاک نہ پڑھے تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دور فرمائے،مزيد دور فرمائے۔” تو میں نے کہاآمین۔”
 (مجمع الزوائد ، کتاب الادعیۃ،باب فیمن ذکر عندہ فلم یصل علیہ، الحدیث:۱۷۳۱۴،ج۱۰،ص۲۵۷)
 (5)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم منبرانور پر رونق افروز ہوئے تو فرمایا :”آمین! آمین! آمین!” عرض کی گئی :”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے منبرِ اقدس پر چڑھتے وقت آمین کہا؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :” جبریلِ امین علیہ السلام نے میرے پاس آ کر کہا:”جس نے رمضان کا مہینہ پایا پھر اس کی مغفرت نہ ہوئی اور وہ جہنم میں داخل ہوا تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دور فرمائے، یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آمین کہے۔” تو میں نے کہاآمین اور”جس نے اپنے والدین یا ان میں سے ایک کو پایا پھر ان کی خدمت نہ کی اور مر کر جہنم میں داخل ہوا تو اللہ عزوجل اسے اپنی رحمت سے دور فرمائے، یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آمین کہے، تو میں نے کہاآمین اور”جس کے سامنے آ پ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا ذکر ہو اور وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درودِ پاک نہ پڑھے اور مر کر جہنم میں داخل ہو جائے تو اللہ عزوجل اسے بھی اپنی رحمت سے دور فرمائے، یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! آمین کہے۔” تو میں نے کہاآمین۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(صحیح ابن حبان،کتاب الادعیۃ،باب فیمن ذکر رجاء دخول الجنان۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۹۰۴،ج۲،ص۱۳۱)
 (6)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جبریلِ امین علیہ السلام نے عرض کی: ”اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذکر ہو ا ور وہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درودِ پاک نہ پڑھے، اس کی ناک مٹی میں ملے جس پر رمضان کا مہینہ آیا پھر اس کی بخشش ہونے سے پہلے ہی گزر گیا اور اس کی ناک مٹی میں ملے جس نے اپنے بوڑھے والدین کو پایا اور انہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کیا۔”
 (جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب رغم انف رجل۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۵۴۵،ص۲۰۱۶)
(7)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس کے سامنے میرا ذکرہوا پھر اس نے مجھ پر درود پڑھنے میں کوتاہی کی تو بے شک وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔”
                       (المعجم الکبیر،الحدیث:۲۸۸۷،ج۳،ص۱۲۸)
 (8)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس کے سامنے میرا ذکر ہوا اور وہ مجھ پر درودِ پاک پڑھنا بھول گیا تو وہ جنت کا راستہ بھول گیا ۔”
(المصنف لابن ابی شیبۃ،کتاب الفضائل،باب مااعطی اللہ محمدًا،الحدیث:۱۵۵،ج۷،ص۴۴۳)
(9)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”جو مجھ پر درودِ پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔”
 (سنن ابن ماجہ ، ابواب اقامۃ الصلوۃ ،باب ماجاء فی التشھد،الحدیث:۹۰۸،ص۲۵۳۰)
 (10)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر ہوا پھر اس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا۔”
 (جامع الترمذی، ابواب الدعوات، باب رغم انف رجل۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۳۵۴۶،ص۲۰۱۶)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (11)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”کیا میں تمہیں لوگوں میں سب سے بڑے بخیل کے بارے میں نہ بتاؤں؟” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :”یا رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم! ضرور بتائیے۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”جس کے سامنے میرا ذکر ہو پھربھی مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھے تو وہ سب سے بڑا بخیل ہے۔”
(الترغیب والترہیب،کتاب الذکروالدعا،باب الترغیب فی اکثارالصلاۃ علی النبی ،الحدیث: ۲۶۱۳، ج۲ ،ص۲ ۳۳)
error: Content is protected !!