فقرمیں چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے:

فقرمیں چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے:

منقول ہے کہ فقیر کے پاس فقرمیں کم از کم چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے: (۱)۔۔۔۔۔۔ ایسا علم جو اسے مزیَّن کردے (۲)۔۔۔۔۔۔ ایسا تقوی جو اس کی حفاظت کرے (۳)۔۔۔۔۔۔ ایسا یقین جو اُسے خوش اخلاق بنا دے اور(۴)۔۔۔۔۔۔ ایسا ذکر جو اسے مانوس کرے۔
حضرتِ سیِّدُنا ابوحفص رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ” کسی کا فقر اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتاجب تک کہ وہ لینے سے زیادہ دینے کومحبوب نہ رکھے اور سخاوت اس چیز کا نام نہیں کہ مال پانے والا نہ پانے والے کو دے۔” حضرتِ سیِّدُنا ابن جلال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”اگر عاجزی وانکساری قابلِ فخر شئے نہ ہوتی تو فقیر کو حکم دیاجاتاکہ وہ متکبرانہ چال چلے۔”

ایک قمیص دخولِ جنت کا سبب بنی :

ایک بزرگ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی اورکوئی کہنے والا کہہ رہاہے:”اے مالک بن دینار!اے محمد بن واسع(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما )! جنت میں داخل ہو جاؤ۔” میں دیکھنے لگا کہ دونوں میں سے کون پہلے جاتاہے تو حضرتِ سیِّدُنا محمد بن واسع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جنت میں پہلے داخل ہوئے۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تومجھے بتایا گیا: ”محمدبن واسع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس ایک قمیص تھی اور مالک بن دینارعلیہ رحمۃاللہ الغفار دو قمیصوں کے مالک تھے ۔”
حضرتِ سیِّدُنا یحیٰ بن معاذ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”کل میزان میں فقر وغنا نہیں رکھا جائے گابلکہ صبر وشکر رکھا جائے گا لہٰذا آؤ! ہم صبر وشکر کرنے والے بن جائیں۔”
اے پیارے اسلامی بھائی! جو شخص ان بزرگوں کے اوصاف اپنائے ہوئے ہو لیکن ان کی پیروی نہ کرے تو وہ ان سے محبت کرنے والا نہیں۔

فرشتے فقراء کے ہاتھوں پرپانی ڈالتے ہیں:

منقول ہے کہ ایک بزرگ کے ساتھ مسلمان صوفیاء و فقراء کا ایک گروہ تھا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان شق ہو گیااور حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل علیہ السلام اور ان کے ساتھ دیگر فرشتے سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ فرشتوں کے ہاتھوں میں تھال اورجگ تھے اور وہ فقراء کے ہاتھوں اور پاؤں پر پانی ڈال رہے تھے ۔ جب وہ میرے قریب آئے تومیں نے بھی اپناہاتھ دراز کیا تاکہ وہ پانی ڈالیں۔ انہوں نے مجھ پر اور میرے ساتھ موجود فقراء کے ہاتھوں پر پانی ڈالا۔
حضرتِ سیِّدُناسہل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”اگر کسی شخص میں صحیح طور پر صفتِ فقر صرف ایک ہی دن کے لئے پائی جائے۔ پھر وہ چوری یا کوئی اورجرم کرے تو پھر بھی مجھ پراس کی مدد کرنالازم ہے اگرچہ ایسا کرنے پر میرا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔”

وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ وَ سَلَّم تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!