Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پانی کا بیان

   جن جن پانیوں سے وضو جائز ہے ان سے غسل بھی جائز ہے اور جن جن پانیوں سے وضو ناجائز ہے ان سے غسل بھی ناجائز ہے۔
کن کن پانیوں سے وضو جائز ہے؟:۔بارش’ ندی’ نالے’ چشمے’ کنویں’ تالاب’ سمندر’ برف’ اولے کے پانیوں سے وضو اور غسل جائز ہے۔ بشرطیکہ یہ سب پانی پاک ہوں۔    (درمختار،کتاب الطہارۃ، باب المیاہ،ج۱،ص۳۵۷۔۳۵۸)
کن پانیوں سے وضو جائز نہیں؟:۔پھلوں اور درختوں کا نچوڑا ہوا پانی یا وہ پانی جس میں کوئی پاک چیز مل گئی اور پانی کا نام بدل گیا جیسے پانی میں شکر مل گئی اور وہ شربت
کہلانے لگا یا پانی میں چند مسالے مل گئے اور وہ شور با کہلانے لگا۔ یابڑے حوض اور تالاب میں کوئی ناپاک چیز اس قدر زیادہ پڑ گئی کہ پانی کا رنگ یا بو یا مزہ بدل گیا یا چھوٹے حوض یا بالٹی یا گھڑے میں کوئی ناپاک چیز پڑ گئی یا کوئی ایسا جانورگرکر مرگیا جس کے بدن میں بہتا ہوا خون ہوتا ہے۔ اگرچہ پانی کا رنگ یا بویا مزہ نہ بدلہ ہو یا وہ پانی جو وضو یا غسل کا دھوون ہوان سب پانیوں سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی فی مالایجوز بہ الوضوء،ج۱،ص۲۱)
مسئلہ:۔پانی میں اگر کوئی ایسا جانور مرگیا ہو جس میں بہتا ہوا خون نہیں ہوتا جیسے مکھی’ مچھر’ بھڑ’شہد کی مکھی’ بچھو’ برساتی کیڑے مکوڑے تو ان جانوروں کے مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا اور اس پانی سے وضو اور غسل کرنا جائز ہے۔
(درمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب:فی مسألۃالوضوء من الفساقی،ج۱،ص۳۶۵/ الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی فی مالایجوز بہ الوضوء،ج۱،ص۲۴)
مسئلہ:۔اگر پانی میں تھوڑا سا صابون مل گیا جس سے پانی کا رنگ بدل گیا تو اس پانی سے وضو اور غسل جائز ہے لیکن اگر اس قدر زیادہ صابون پانی میں گھول دیا گیا کہ پانی ستو کی طرح گاڑھا ہو گیا تو اس پانی سے وضو اور غسل کرنا جائز نہیں ہوگا۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۲۱)
مسئلہ:۔جو جانور پانی ہی میں پیدا ہوتے ہیں اور پانی ہی میں زندگی بسر کرتے ہیں جیسے مچھلیاں اور پانی کے مینڈک وغیرہ ان کے پانی میں مرجانے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا بلکہ اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۲۴)
مسئلہ:۔دس ہاتھ لمبا دس ہاتھ چوڑا جو حوض ہو اسے دہ دردہ اور بڑا حوض کہتے ہیں یوں ہی بیس ہاتھ لمبا پانچ ہاتھ عرض کل لمبائی چوڑائی سو ہاتھ ہو اور اگر گول ہو تو اس کی گولائی ساڑھے پینتیس ہاتھ ہو۔ اور اگر لمبائی چوڑائی سو ہاتھ نہ ہو تو اس کو چھوٹا حوض کہتے ہیں اگرچہ کتنا ہی گہرا ہو بڑے حوض میں اگر نجاست پڑ گئی تو اس وقت تک پاک مانا جائے گا جب تک اس نجاست کے اثر سے اس کے پانی کا رنگ و بو یا مزہ نہ بدل جائے اور چھوٹا حوض ایک قطرہ نجاست پڑ جانے سے بھی ناپاک ہو جائے گا۔    (بہارشریعت،ح۲،ص۴۶۔۴۷)
مسئلہ:۔جو پانی وضو یا غسل کرنے میں بدن سے گرا وہ پاک ہے مگر اس سے وضو اور غسل جائز نہیں۔ یوں ہی اگر بے وضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پورایا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وضو میں دھویا جاتا ہو بقصدیا بلا قصد دہ دردہ سے کم پانی میں بے دھوئے پڑ جائے تو وہ پانی وضو اور غسل کے لائق نہ رہا اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جسم کا کوئی بے دھلا ہوا حصہ پانی سے چھو جائے تو پانی وضو اور غسل کے کام کا نہ رہا اگر دھلا ہوا ہاتھ یا بدن کا کوئی حصہ پانی میں پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۲۲۔۲۳)
مسئلہ:۔اگر ہاتھ دھلا ہوا ہے۔ مگر پھر دھونے کی نیت سے پانی میں ہاتھ ڈالا۔ اور یہ دھونا ثواب کا کام ہو جیسے کھانے کے لیے یاوضو کے لیے تو یہ پانی مستعمل ہوگیا یعنی وضو کے قابل نہ رہا اور اس کا پینا بھی مکروہ ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱، ص۲۳۔۲۵ / بہارشریعت،ج۱،ح۲،ص۴۷)
    اس مسئلہ کا خاص طور پر دھیان رکھنا چاہے عوام تو عوام بعض خواص بھی اس مسئلہ
سے غافل ہیں۔
مسئلہ:۔اتنے زور سے بہتا ہوا پانی کہ اگر اس میں تنکا ڈالا جائے تو اس کو بہالے جائے نجاست کے پڑنے سے ناپاک نہیں ہوگا لیکن اتنی زیادہ نجاست پڑجائے کہ وہ نجاست پانی کے رنگ یا بو یا مزہ بدل دے تو اس صورت میں بہتا ہوا پانی بھی ناپاک ہوجائے گا اور یہ پانی اس وقت پاک ہوگا کہ پانی کا بہاؤ ساری نجاست کو بہالے جائے اور پانی کا رنگ اور بو’ مزہ ٹھیک ہوجائے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۱۷۔۱۸)
مسئلہ:۔تالاب اور دس ہاتھ لمبا دس ہاتھ چوڑا حوض بھی بہتے ہوئے پانی کے حکم میں ہے کہ یہ بھی تھوڑی سی نجاست پڑ جانے سے ناپاک نہیں ہوگا لیکن جب اس میں اتنی نجاست پڑجائے کہ پانی کا رنگ یا بو یا مزہ بدل جائے تو ناپاک ہوجائے گا۔(بہار شریعت،ج۱،ح ۲،ص۴۷)
مسئلہ:۔ناپاک پانی کو خود بھی استعمال کرنا حرام ہے اور جانوروں کو بھی پلانا ناجائز ہے ہاں گارے وغیرہ کے کام میں لا سکتے ہیں مگر اس گارے مٹی کو مسجد میں لگانا جائز نہیں۔
مسئلہ:۔ناپاک پانی بدن یا کپڑے یا جس چیز میں بھی لگ جائے وہ ناپاک ہو جائے گا۔ اس کو جب تک پاک پانی سے دھو کر پاک نہ کرلیں۔ پاک نہیں ہوگا۔
مسئلہ:۔پانی میں بلا دھلا ہوا ہاتھ پڑ گیا اور کسی طرح مستعمل ہو گیا اور یہ چاہیں کہ یہ کام کا ہو جائے تو اچھا پانی اس سے زیادہ اس میں ملا دیں نیز اس کا طریقہ یہ بھی ہے کہ ایک طرف سے پانی ڈالیں کہ دوسری طرف سے بہہ جائے۔ سب کام کا ہو جائے گا یوں ہی ناپاک پانی کو بھی پاک کرسکتے ہیں۔ (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ، الباب الثالث فی المیاہ، الفصل الثانی ،ج۱،ص۱۷)
مسئلہ:۔نابالغ کا بھرا ہوا پانی کہ شرعاً اس کی ملک ہو جائے اسے پینا یا وضو یا غسل یا کسی کام میں لانا اس کے ماں باپ یا جس کا وہ نوکر ہے اس کے سوا کسی کو جائز نہیں اگرچہ وہ اجازت بھی دے دے۔ اگر اس سے وضو کرلیا تو وضو ہو جائے گا اور گنہگار ہو گا۔ یہاں سے معلمین کو سبق لینا چاہے کہ وہ اکثر نا بالغ بچوں سے پانی بھروا کر اپنے کام میں لایا کرتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہے کہ نابالغ کا ہبہ صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح کسی بالغ کا بھرا ہوا پانی بھی بغیر اس کی اجازت کے خرچ کرنا حرام ہے۔  (بہار شریعت،ج۱،ح۲،ص۵۰/فتاوی رضویہ،ج۲،ص۴۹۴)
error: Content is protected !!