Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر112:ستاروں کے مؤثر ہونے کا اعتقاد رکھنا

یعنی بارش ہونے پر ستاروں کی تاثيرکا اعتقاد رکھتے ہوئے يہ کہناکہ فلاں ستارے کے فلاں برج ميں پہنچنے پر بارش ہوئی
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا زيد بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے بارش ہونے کے بعد ارشاد فرمايا :”کيا تم جا نتے ہو کہ تمہارے رب عزوجل نے کيا فرمايا ہے؟” صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:”اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہی بہتر جانتے ہيں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: (اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے کہ) ”ميرے کچھ بندے مؤمن اور کچھ کافر ہو گئے، جس نے يہ کہا :”ہم پر اللہ عزوجل کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی۔” وہ مجھ پر ايمان لايا اور ستاروں کی تاثير کا منکر ہوا اور جس نے يہ کہا کہ”ہم پر فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی۔” وہ ميرا منکر ہوا اور ستاروں کی تاثير پر ايمان لايا۔”
 ( صحیح البخاری ،کتا ب الاستسقاء ، باب قول اللہ تعالی”وتجعلون رزقکم انکم تکذبون”،الحدیث:۱۰۳۸،ص۸۱)

تنبیہ:

    علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام کی بناء پر اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے مگر يہ درست نہيں کيونکہ جو شخص مذکورہ اعتقاد رکھے وہ حقيقتاً کافر ہے، جبکہ ہماری کتاب ان کبيرہ گناہوں پر مشتمل ہے جو اسلام کو زائل نہيں کرتے،سیدنا امام شافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:”جو يہ کہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی اور اعتقاد يہ رکھے کہ اس ستارے نے بارش برسائی تو وہ کافر ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کا خون حلال ہے۔” اور اَلرَّوْضَہ ميں ہے اگر کوئی يہ اعتقاد رکھے کہ بارش حقيقت ميں ستارے نے برسائی تو يہ کفر ہے اور وہ شخص مرتد ہو گيا۔”    علاّمہ ابن عبد البر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ”اگر کوئی يہ اعتقاد رکھے کہ ستارے کو بارش برسانے کا سبب اللہ عزوجل نے بنايا ہے، ستارہ علمِ الٰہی اور تقدير کی بناء پر بارش برساتا ہے تو يہ اعتقاد اگرچہ مباح ہے مگر ايسا شخص اللہ عزوجل کی نعمت کا منکر اور اس کی حکمت کے لطائف سے جاہل ہے۔”۱؎


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۱؎ :صدر الشريعہ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عليہ رحمۃ اللہ القوی”بہارِشریعت” ميں فرماتے ہیں: ” نجوم کی اس قسم کی باتيں جن ميں ستاروں کی تاثيرات بتائی جاتی ہيں کہ فلاں ستارہ طلوع کریگا تو فلاں بات ہو گی يہ بھی خلافِ شرع ہے، اسی طرح نچھتّروں(یعنی ستاروں) کا حساب کہ فلاں نچھتر سے بارش ہو گی يہ بھی غلط ہے، حدیث ميں اس پر سختی سے انکار فرمايا۔”            (بہار شريعت ،ج۲،حصہ ۱۶،ص ۱۵۹)
error: Content is protected !!