Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر152: بيت الحرام کو حلال ٹہرانا

(1)۔۔۔۔۔۔ايک شخص نے نبی کريم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کی بارگاہ ميں عرض کی”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! کبيرہ گناہ کتنے ہيں؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”9ہيں: (۱)اللہ عزوجل کا شريک ٹھہرانا(۲)کسی مؤمن کو ناحق قتل کرنا(۳)جہاد کے دن ميدان سے فرار ہونا(۴)يتيم کا مال کھانا (۵)سود کھانا (۶)پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا (۷)مسلمان والدين کی نافرمانی کرنا (۸)جادو کرنا اور (۹)تمہارے قبلے یعنی بيت الحرام کے زندوں اور مردوں کو حلال ٹھہرانا۔”
( المستدرک،کتاب الایمان ،باب الکبائر تسع ، الحدیث: ۲۰۴ ، ج۱ ، ص ۲۳۳،بدون ”عمل السحر ”)
(المعجم الکبیر،الحدیث:۱۰۱،ج۱۷،ص۴۸)
(2)۔۔۔۔۔۔ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اکرم، شفيع معظَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا:”کبيرہ گناہ 9ہيں:(۱)ان ميں سب سے بڑا گناہ اللہ عزوجل کاشريک ٹھہراناہے اور(۲)کسی مؤمن کو (ناحق) قتل کرنا(۳)سودکھانا(۴)يتيم کا مال کھانا (۵)پاکدامن عورت پرزنا کی تہمت لگانا(۶)جہادکے دن ميدان سے فرارہونا(۷)مسلمان والدين کی نافرمانی کرنااور (۸)بيت الحرام کو حلال ٹھہرانابھی کبیرہ گناہ ہیں۔”(شایدیہاں کتابت کی غلطی کی وجہ سے ایک گناہ رہ گیا )


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( السنن الکبری للبیہقی،کتا ب الشہادات ، باب من تجوز شہادتہ ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث: ۲۰۷۵۲ ، ج۱۰ ، ص ۳۱۴)
error: Content is protected !!