Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر189: ماں اورنا سمجھ بچے کے درميان جدائی ڈالنا

یعنی بچے کو بیچ کراس کی ماں اور اس بچے کے درميان جدائی ڈالنا کبیرہ گناہ ہے لیکن اگریہ جدائی آزادی یا وقف سے ہو توکبیرہ نہیں
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے،ميں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو يہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”جس نے ماں اور اس کے بچے کے درميان جدائی ڈالی اللہ عزوجل قيامت کے دن اس کے اور اس کے پياروں( جن سے وہ محبت کرتا ہے)کے درميان جدائی ڈالے گا۔”
(جامع الترمذی ،ابواب السیر ،باب فی کراھیۃ التفریق بین السبی، الحدیث: ۱۵۶۶ ، ص ۱۸۱۳)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:”جس نے ماں اوراس کے بیٹے یادو بھائیوں کے درميان جدائی ڈالی اللہ کے رسول عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس پر لعنت فرمائی۔”
( سنن ابن ماجہ ،ابواب التجارات ،باب النہی عن التفریق بین السبی ،الحدیث: ۲۲۵۰ ، ص ۲۶۱۱ )
(3)۔۔۔۔۔۔دار قطنی کی ايک روايت ميں ہے:”جس نے تفريق کی وہ ملعون ہے۔”
( سنن الدار قطنی ، کتاب البیوع ، الحدیث: ۳۰۲۵ ، ج ۳ ، ص ۸۱)
    سیدنا ابو بکر بن عياش رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:”يہ روايت مبہم ہے اوريہ حکم ہمارے نزديک قيدی اور والد کے درميان ہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تنبیہ:

    ان احادیثِ مبارکہ کی بناء پر اسے کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے، اگرفرض کر ليا جائے کہ اس ميں پہلی روايت ہی صحيح ہے تو اس ميں بھی شديد وعيد پائی جاتی ہے کيونکہ اس دن انسان اور اس کے پياروں کے درميان جدائی ڈالنا نفس پر بہت گراں گزرے گا۔
    مَیں(مصنف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کہتاہوں : جس طرح کہ وہ اس سے مذکورہ تفريق کی حرمت مراد ليتے ہيں، کيونکہ انہوں نے اس سے وعيد سمجھی، اسی طرح ہم بھی اس سے اس کا کبيرہ ہونا مرادليتے ہيں کيونکہ جب وعيد کا مفہوم مسلّم ہو تو وہی وعيد، جس پر اس کا ظاہر دلالت کرتا ہے، شديد وعيد ہو جائے گی۔
اعتراض: اس ميں وعيد کی کيا وجہ ہے؟حالانکہ اللہ عزوجل ارشادفرماتا ہے:
یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیۡہِ ﴿ۙ34﴾وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ ﴿ۙ35﴾وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیۡہِ ﴿ؕ36﴾لِکُلِّ امْرِیًٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاۡنٌ یُّغْنِیۡہِ ﴿ؕ37﴾وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ ﴿ۙ38﴾
ترجمۂ کنز الايمان:اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی اورماں اور باپ اور جورو اور بيٹوں سے ان ميں سے ہر ايک کو اس دن ايک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے۔(پ30، عبس:34تا38)
    اس آيت کا ظاہر تقاضا کرتا ہے کہ يہ معاملہ ہر ايک کے لئے ہو گا تو اس سے وعيد کيسے سمجھی جاسکتی ہے؟
جواب:حديث پاک اس کے وعيد ہونے کے بارے ميں نص ہے اور جس طرح يہ حديث پاک ہے کہ،


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(4)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے دنيا ميں ريشم پہنا وہ آخرت ميں نہ پہن سکے گا اور جس نے دنياميں شراب پی وہ پوری سزاپاتے ہوئے آخرت ميں نہ پی سکے گا۔”
( المستدرک ،کتاب الاشربہ ، باب من لبس الحریر ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۷۲۹۸، ج۵ ، ص ۱۹۵،بدون ” جزاء وفاقا ”)
    قيامت کے دن سے مراد جنت ہے اور آيت مبارکہ ميں ميدانِ محشر ميں لوگوں کی حالت کی نقشہ کشی کی گئی ہے جبکہ حديث پاک ميں جنت کے بارے ميں بتايا گيا ہے جس طرح ريشم کے بارے میں وارد حديث پاک کی وجہ سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے ريشم پہننے کو حرام قرار ديا اسی طرح ہم جدائی کے بارے ميں وارد حديث پاک سے يہ مراد ليتے ہيں کہ يہ کبيرہ گناہ ہے کيونکہ ان دونوں ميں سے ہر ايک عمل پر اس کے مطابق جزاء ہے۔
    نیزجس طرح ريشم کی حديث پاک اس فرمان عاليشان سے مخَصَّص (یعنی جسے کسی دلیل سے خاص کيا گيا ہو) ہے:
 وَلِبَاسُہُمْ فِیۡہَا حَرِیۡرٌ ﴿23﴾
ترجمۂ کنز الايمان:اور وہاں اُن کی پوشاک ريشم ہے۔(پ17، الحج:23)
    اسی طرح جدائی والی حديث پاک اس آيت مبارکہ سے مخصص ہے:
وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنز الايمان: اور جو ايمان لائے اور ان کی اولاد نے ايمان کے ساتھ ان کی پيروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملا دی۔(پ27، الطور:21)
    جدائی کی حرمت کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ لونڈی اور اس بچے کے درميان ہو جو چھوٹا يا مجنون ہونے کی وجہ سے ناسمجھ ہو مثلاً(بچہ)ايسے شخص کو بيچناجو اسے آزاد نہ کرے يا تقسيم کر دے يا فسخ کر دے، اگرچہ اس کی ماں راضی ہی ہو کيونکہ بچے کا بھی کچھ حق ہے اور يہ تصرف باطل ہو جائے گا اور باپ،دادا،دادی اورنانا،نانی ماں کی عدم موجودگی میں ماں کی طرح ہی ہوتے ہيں اگرچہ دور کا رشتہ ہی ہو۔
    باپ ياداداکے ساتھ بچے کوبيچنا جائزہے اور اسی طرح جب وہ تميزاورسمجھ والاہويعنی اکيلاکھاپی ليتاہو اوراستنجاء کرليتا ہو اور اس ميں عمرکی کوئی قيدنہيں کبھی تو5سال ميں يہ چيزحاصل ہو جاتی ہے اور کبھی 7سال سے بھی مؤخر ہوجاتی ہے اور(تمیزنہ ہونے کی صورت میں)جدائی ڈالنا مکروہ ہے اگرچہ بلوغت کے بعد ہی ہو اوراسی طرح اگر ان دونوں(يعنی ماں،باپ)ميں سے کوئی آزادبھی ہو توجدائی ڈالنامکروہ ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    لونڈی اور اس کے ناسمجھ بچے کے درميان اور بيوی اور اس کے بچے کے درميان سفرکے ذريعے جدائی ڈالنا بھی حرام ہے البتہ!طلاق يافتہ عورت اور اس کے بچے کے درميان جدائی ڈال سکتے ہيں۔اسی طرح جانور کے بچے کو بيچنا اگروہ(ماں کے) دودھ کا محتاج نہ ہويامحتاج توہوليکن ذبح کرنے کے لئے خريدا توايسی بيع جائزہے اور اگر وہ دودھ کا محتاج ہواورخريدنے والے کاذبح کرنے کا ارادہ بھی نہ ہوتواسے خريدنا حرام ہے اور ايسی بيع باطل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!