Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

تنبیہ2:

    گذشتہ صفحات میں اللہ عزوجل کا یہ فرمان گزر چکا ہے:
اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ
ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔(پ 5 ،النسآء : 48)
یہ آیت کریمہ اللہ عزوجل کے اس فرمان کے عموم کی تخصیص کرتی ہے:
یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿53﴾
ترجمہ کنزالایمان:اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتاہے بے شک وہی بخشنے والامہربان ہے۔(پ24، الزمر:53)

اہلِ سنت وجماعت کاعقیدہ

    ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ اہلسنت وجماعت کا یہ عقیدہ بالکل حق ہے کہ”فاسق مؤمن کی میت مشیّت کے تابع ہے، اگر اللہ عزوجل چاہے تو اسے اپنی مشیت کے مطابق عذاب دے گا اور پھر بالآخر اسے معاف فرما کر جہنم سے نکال دے گا، اس وقت وہ جہنم میں جلنے کی وجہ سے سیاہ ہو چکا ہو گا، پھروہ بندہ نہرِ حیات میں غوطہ لگائے گا تو اسے ایک عظیم حسن وجمال اور تازگی حاصل ہو گی پھر اللہ عزوجل اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور اس نے اس بندے کے سابقہ ایمان اور اس کے اعمال صالحہ کے مطابق اس کے لئے جو انعامات تیار کئے ہوں گے وہ اسے عطا فرمائے گا جیسا کہ یہ بات بخاری وغیرہ کی صحیح احادیث سے ثابت ہے اور اگر اللہ عزوجل چاہے تو اس بندے کو ابتداءًً ہی معاف فرما کر اس پرنرمی فرمائے اور اس کے مخالفین کو اس سے راضی فرما دے اور پھر نجات پانے والو ں کے ساتھ اسے بھی جنت میں داخل فرما دے۔”

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

خوارج کاعقیدہ:

    خوارج کایہ عقیدہ ہے :” گناہ کبیرہ کا مرتکب کافر ہے۔”

معتزلہ کاعقیدہ:

معتزلہ کا عقیدہ یہ ہے :”مرتکب کبیرہ حتمی طور پر ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہے گا اور اسے معاف کرنا جائز نہیں جیسا کہ مطیع کو عذاب دینا جائز نہیں۔”

خوارج ومعتزلہ کا رد:

    یہ ان لوگو ں کے اللہ عزوجل پر لگائے گئے جھوٹے الزامات میں سے ہے، جبکہ اللہ عزوجل منکروں اورظالموں کے ان باطل اقوال وعقائد سے بلند وبالا ہے۔ اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانِ عالیشان کہ:

وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَلَعَنَہٗ وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿93﴾

ترجمہ کنزالایمان: اورجوکوئی مسلمان کو جان بوجھ کرقتل کرے تواس کابدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اوراللہ نے اس پر غضب کیااور اس پرلعنت کی اوراسکے لئے تیار رکھا بڑا عذاب۔(پ5، النساء:93)
    یاتو مؤمن کے قتل کو حلا ل سمجھنے والے پر محمول ہے کیونکہ مومن کے قتل کو حلال سمجھنا کفر ہے، تو اس صورت میں خلود سے مراد تأبید یعنی ہمیشگی ہے جیسا کہ دیگر کفار وغیرہ پر ہے، نصوصِ شرعیہ اور لغت اس بات پر گواہ ہیں کہ خلود تأبید کو مستلزم نہیں یعنی خلود کا مطلب صرف تأبید ہی نہیں ہوتا لہٰذا اس صورت میں آیتِ کریمہ کامطلب یہ ہو گا کہ اگر اللہ عزوجل اسے عذاب دے گا تو اس کی جزاء یہ ہو گی جو آیت کریمہ میں بیان ہوئی ورنہ اللہ عزوجل اسے معاف فرما دے گا جیساکہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان میں ہے کہ:

وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ

ترجمہ کنزالایمان:اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔(پ 5، النسآء : 48)
اور اس فرمانِ مبارک سے پتہ چلتا ہے کہ:

اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ

ترجمہ کنزالایمان:بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔(پ 24، الزمر: 53)
    جنہوں نے یہ بات کہی ہے :”قاتل کی توبہ مقبول نہیں۔” تو اس سے ان کی مراد قتل سے باز رکھنا اور نفرت دلانا ہے، ورنہ قرآن وسنت کی نصوص اس معاملہ میں بالکل صریح ہیں :”جس طرح کافر کی توبہ مقبول ہے اسی طرح قاتل کی توبہ بھی مقبول ہے بلکہ قاتل کی توبہ تو بدرجۂ اَوْلیٰ مقبول ہے۔”

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

مُرجِیہ کا عقیدہ:

    ان کاعقیدہ یہ ہے :”جس طرح کافر کو کوئی نیکی فائدہ نہیں دیتی اسی طرح مومن کو کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا۔”
    یہ بھی ان(بد مذہبوں) کے اللہ عزوجل پر باندھے جانے والے بہتانوں میں سے ہے۔ لہٰذا ہرمسلمان پر واجب ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھے :”گناہ گار مؤمنین کی ایک جماعت جہنم میں داخل ہو گی۔” کیونکہ اس کا انکار کفر ہے اس لئے کہ یہ انکار ان صریح نصوصِ قطعیہ کو جھٹلانا ہے جو اس بات پر دلا لت کرتی ہیں۔

error: Content is protected !!