Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

گناہوں کاکفارہ اورحج مبرورکاانعام:

50)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”عمرہ اگلے عمرے تک کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے اور حجِ مبرور کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہيں۔”
 (صحیح مسلم،کتاب الحج،باب فضل الحج والعمرۃ، الحدیث:۳۲۸۹،ص۹۰۳)
 (51)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حضرت سیدنا عمرو بن العاص سے ارشاد فرمایا:”اے عمرو (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! کيا تمہيں معلوم نہيں کہ اسلام لانا پچھلے گناہوں کو مٹا ديتا ہے، ہجرت بھی ماقبل گناہوں کو مٹا ديتی ہے اور حج بھی پچھلے گناہوں کو مٹا ديتا ہے۔”
    ( صحیح مسلم ،کتا ب الایمان، باب کون الاسلام۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۳۲۱، ص۶۹۸)
 (52)۔۔۔۔۔۔ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میں حاضر ہو کر عرض کی:”ميں کمزور اور بزدل ہوں (یعنی میں جہاد کے قابل نہیں،مجھے کیا کرنا چاہے؟)۔”توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”پھر ايسے جہاد کی طرف آجاؤ جس ميں کانٹا چبھنے کا بھی انديشہ نہيں، حج جہاد سے بھی افضل ہے، اور حجِ مبرورسَن رسيدہ لوگوں، کمزوروں اور عورتوں کا جہاد ہے۔”
 (المعجم الکبیر، الحدیث:۲۹۱۰،ج۳،ص۱۳۵)
(سنن النسائی،کتاب مناسک الحج،باب فضل الحج،الحدیث:۲۶۲۹/۲۶۲۷،ص۲۲۵۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (53)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”حج اور عمرہ دونوں اعمال میں سے افضل ترین عمل ہيں مگر جو ان کی مثل حجِ مبروریاعمرہ کرے۔”
 (المسندللامام احمدبن حنبل،الحدیث:۱۷۰۲۴،ج۶، ص۵۸)
 (54)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”حجِ مبرور کی جزاء صرف جنت ہی ہے۔” عرض کی گئی:”اس کی نیکی کياہے؟”توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”کھانا کھلانا اور اچھا کلام کرنا۔”
 ( صحیح مسلم ،کتا ب الحج ، باب فضل الحج والعمرۃ ، الحدیث: ۳۲۸۹ ، ص۹۰۳)
(المستدرک ،کتاب المناسک ، باب بر الحج اطعام وطیب الکلام ، الحدیث: ۱۸۲۱ ، ج۲ ، ص ۱۴۸)
    غور کيا جائے تو اس حدیثِ پاک ميں بيان کردہ حجِ مبرور کی تفسير گذشتہ تفسير کے منافی نہيں۔
(55)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”حج اور عمرہ پے در پے کیا کرو کيونکہ يہ فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کر ديتے ہيں جس طرح بھٹی سونے، چاندی اور لوہے کے ميل کچیل يازنگ کونکال ديتی ہے۔”
 (جامع الترمذی ،ابواب الحج ، باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرہ ،الحدیث: ۸۱۰، ص ۱۷۲۷)
 (56)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”حجِ مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہيں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ( جامع الترمذی ،ابواب الحج ، باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرہ ،الحدیث: ۸۱۰، ص ۱۷۲۷)
 (57)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جو مکہ مکرمہ سے حج کے لئے پيدل چلا يہاں تک کہ واپس مکہ مکرمہ لوٹ آياتو اللہ عزوجل اس کے ہر قدم پر اس کے لئے 700نيکياں لکھے گا، ان ميں سے ہرنيکی حرم کی نيکيوں کی طرح ہوگی۔”عرض کی گئی :”حرم کی نيکياں کياہيں؟”توآپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”ہر نيکی ایک لاکھ(1,00,000)نيکيوں کے برابرہے۔”
 (المستدرک،کتاب المناسک ،باب فضیلۃ الحج ماشیا، الحدیث:۱۷۳۵،ج۲،ص۱۱۴)
error: Content is protected !!