Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر209: گناہ کے کام ميں مال خرچ کرنا

اگرچہ ايک فلس (یعنی درہم کاچھٹاحصہ)ہی کيوں نہ ہوخواہ وہ گناہ کبیرہ ہویاصغيرہ۔
    اسے بھی کبيرہ گناہوں ميں شمار کياگيا ہے جس پر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا کلام دلالت کرتاہے کيونکہ انہوں نے اسے اس نادانی اور فضول خرچی ميں شمارکيا ہے جو مال میں تصرف کرنے سے روکنے کا سبب ہے، اور اس بات کی بھی تصريح کی ہے:”جس کو تصرف سے روک ديا جائے اس کی نہ تو گواہی صحيح ہوتی ہے اور نہ ہی ولايت جيسے اپنی بيٹی کا نکاح کرنا۔”
    شہادت اور ولايت سے اُسے روک دینا اس کے فاسق ہونے کی خبر ديتا ہے اور جس نے اسے فسق قرار ديا اس کے نزديک يہ بھی کبيرہ گناہ ہے، معنوی طور پر اس کی توجيہ يہ ہے کہ نفس کے نزديک مال سے زيادہ عزيز کوئی چيز نہيں اور جب اسے گناہوں ميں خرچ کرنا آسان ہو جائےتو يہ گناہوں کی محبت ميں مکمل طور پر اِنہماک پر دلالت کرتاہے اور اس ميں کوئی شک نہيں کہ اس انہماک سے عظيم مفاسد پيدا ہوتے ہيں لہذا يہ معنوی طور پر بھی کبيرہ گناہ ہے۔
error: Content is protected !!