Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبیرہ نمبر66 درہم و دینار میں ملاوٹ کرنا

 یعنی درہم ودینارکوایسی ملاوٹ شدہ کیفیت پر ڈھالنا کہ اگر لوگ اس پر مطلع ہو جائیں تو اسے ہر گز قبول نہ کریں، اسے کبیرہ گناہوں میں ذکر کرنا بالکل ظاہر ہے اگرچہ میں نے کسی کو اس کی صراحت کرتے ہوئے نہیں پایا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آئندہ”کتاب البیع” میں بیان ہونے والی ملاوٹ کے دلائل اسے بھی شامل ہیں اور اس میں باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانا بھی پایا جاتا ہے، کیونکہ کیمیاگری میں زیادہ انہماک رکھنے والے لوگ اسے اچھا نہیں جانتے اور یہ لوگ صرف درہم کو رنگتے ہیں یا مشتبہ بنا دیتے ہیں یا لوگوں کو دھوکے میں ڈالنے والی کوئی اور ملاوٹ کر دیتے ہیں اور باطل طریقے سے ان کامال کھاتے ہیں ۔ 
    اسی لئے آپ انہیں پائیں گے کہ اللہ عزوجل نے ان سے برکت ختم فرما کر انہیں ہلاکت میں مبتلا فرما دیا ہے، پس نہ ان کے عیوب کو چھپایا جاتا ہے،نہ ان کی تعریف کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کو کسی جگہ قرار آتا ہے بلکہ ان پر ذلت ورسوائی طاری رہتی ہے۔ اس طرح وہ اس بد ترین وصف کے مرتکب ہو کر جنت سے محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ دنیا کی محبت اور اسے باطل طریقے سے حاصل کرنے میں مخلص ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکا دینے اور ان کے اموال ناحق طریقے سے کھانے اور ضائع کرنے پر راضی ہوتے ہیں۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اللہ عزوجل انہیں حق کی پیروی کرنے، اپنے راستے پر چلنے اور باطل سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے، خصوصاً اس بدترین پیشے سے وابستہ لوگوں کو جنہوں نے اس کے حصول کے لئے حیلوں کا سہارا لیا ہے حالانکہ اس کے باوجود ان کے فقر میں کمی واقع نہیں ہوتی اور انہیں اس سے ذلت وقہر ہی چکھنے کو ملتا ہے، اللہ عزوجل ہمیں اور انہیں اپنی اطاعت کی توفیق نصیب فرمائے۔ 
آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم 
error: Content is protected !!