Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر93: قبروں کو سجدہ گاہ بنا نا کبيرہ نمبر94: قبروں پر چراغ جلانا ۱؎ کبيرہ نمبر95: قبروں کوبت بنا لينا کبيرہ نمبر96: قبروں کا طواف کرنا۲؎ کبيرہ نمبر97: قبروں کو ہاتھ سے چھونا یا چومنا کبيرہ نمبر98: قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا

(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وصال(ظاہری) سے پانچ راتيں پہلے مجھے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ملاقات کاشرف حاصل ہواتو ميں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”ايسا کوئی نبی نہيں گزرا جس کی اُمت ميں سے اس کا کوئی خليل نہ ہو اور ميرا خليل ابو بکر بن ابی قحافہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہے، اللہ عزوجل نے تمہارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنا خليل بنايا ہے، سن لو! تم سے پچھلی اُمتوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کوسجدہ گاہ بنالیاتھامیں تمہیں اس سے منع کرتاہوں” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے تین مرتبہ عرض کی :”اے اللہ عزوجل! ميں نے تيرا پیغام پہنچا ديا۔” پھر تین مرتبہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے عرض کی :”اے اللہ عزوجل! گواہ ہو جا۔”  ( المعجم الکبیر،الحدیث ۸۹ ،ج۱۹ص ۴۱)
 (2)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”نہ تو کسی قبر کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو نہ ہی کسی قبر کے اوپر نماز پڑھو۔”
       ( المعجم الکبیر ، الحدیث ۱۲۰۵۱ ،ج۱۱ ، ص ۲۹۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (3)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے قبروں کی زيارت کرنے والی عورتوں، انہیں سجدہ گاہ بنانے اور ان پر چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔”
 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الجنائز ، باب فی زیارۃ النساء القبور ، الحدیث ۳۲۳۶ ، ص۱۴۶۶ )
 (4)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سن لو! تم سے پہلے لوگ اپنے نبيوں کی قبروں کوسجدہ گاہ بنا ليتے تھے ميں تمہيں ايسا کرنے سے منع کرتا ہوں۔”
 ( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب النھی عن بناء المسجد علی القبور ، الحدیث:۱۱۸۸، ص۷۶۰)
 (5)۔۔۔۔۔۔حضورنبی کریم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشادفرماتے ہیں:”لوگوں ميں سب سے بدتر وہ ہيں جن پر ان کی زندگی ميں قيامت قائم ہو گی اور یہ وہ لوگ ہيں جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا ليتے ہيں۔”
 (المسند للامام احمد بن حنبل،مسند عبداللہ بن مسعود، الحدیث:۴۳۴۲،ج۲،ص۱۷۴)
 (6)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”حمام اور قبرستان کے علاوہ ساری زمين مسجد ہے۔”
 (سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ،باب فی المواضع التی لا تجوز فیھا الصلاۃ ،الحدیث۴۹۲،ص۱۲۵۹)
 (7)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل يہود کو ہلاک فرمائے انہوں نے اپنے انبياء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا ليا۔”
( صحیح البخاری ،کتاب الصلاۃ ، باب ( ۵۵) ، الحدیث ۴۳۷ ، ص ۳۷)
 (8)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل يہود و نصارٰی پر لعنت فرمائے انہوں نے اپنے انبياء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا ليا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( صحیح مسلم ،کتاب المساجد ، باب النھی عن بناء المسجد علی القبور ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث ۱۱۸۶ ، ص۷۶۰)
 (9)۔۔۔۔۔۔(حضرت سیدتنا اُم حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور اُم المؤمنین حضرت سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حبشہ کی ہجرت سے واپسی کے بعد جب حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں عیسائیوں کے عبادت خانوں میں تصاویر کی موجودگی کا تذکرہ کیا جو انہوں نے وہاں ملاحظہ فرمائی تھیں تو) آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”یقینا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان ميں سے کوئی نيک شخص مر جاتا تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے اور اس ميں اس کی تصویريں بنا دیتے ،یہی لوگ قيامت کے دن اللہ عزوجل کی بدترين مخلوق ہوں گے۔”
 ( صحیح البخاری،کتاب الصلاۃ،باب ہل تنبش قبورمشرکی الجاھلیۃ ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۴۲۷،ص۳۶)
 (10)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے منع فرمايا ہے۔”
 ( صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ،باب مایکرہ للمصلی ومالایکرہ ،الحدیث ۲۳۱۷ ، ج۴ ، ص ۳۴)
 (11)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، باِذنِ پروردگارعزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”سب سے بدتر لوگ وہ ہيں جن کی زندگی ميں ہی ان پر قيامت قائم ہو گی اور ان سے مراد وہ لوگ ہيں جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا ليتے ہيں۔”  (المعجم الکبیر ، الحدیث ۱۰۴۱۳ ، ج۱۰ ، ص۱۸۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (12)۔۔۔۔۔۔سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”سن لو! تم سے قبل لوگ اپنے انبياء (علی نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام)اور نيک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا ليتے تھے، تم قبروں کو ہر گز سجدہ گاہ نہ بنانا، ميں تمہيں ايسا کرنے سے منع کرتا ہوں۔”
 (کنزالعمال،کتاب الفضائل،باب ذکر الصحابۃ وفضلہم رضی اللہ تعالی عنہم،الحدیث:۳۲۵۵۷،ج۱۱،ص۲۴۹)
 (13)۔۔۔۔۔۔شاہ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”بے شک لوگوں ميں سب سے بدتروہ لوگ ہيں جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا ليتے ہيں۔”
 ( المصنف عبدالرزاق ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی القبور ،الحدیث ۱۵۸۸ ، ج ۱ ،ص ۳۰۷)
 (14)۔۔۔۔۔۔رسول انور، صاحب کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”بنی اسرائيل اپنے انبياء کرام علی نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا ليتے تھے اسی لئے اللہ عزوجل نے ان پر لعنت فرمائی۔”
 ( المصنف عبدالرزاق ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ علی القبور ،الحدیث ۱۵۹۳ ، ج ۱ ، ص ۳۰۸)

تنبیہ:

    علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام کی وجہ سے ان 6کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا گيا ہے، شايد انہوں نے ميری بيان کردہ انہی احادیثِ مبارکہ سے استدلال کيا ہے، ان ميں سے قبر کو سجدہ گاہ بنا لينے کے کبيرہ گناہ ہونے پر استدلال کرنا تو بالکل واضح ہے کيونکہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انبياء کرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لينے والوں پر لعنت فرمائی اور نيک لوگوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں کو قيامت کے دن اللہ عزوجل کے نزديک بدترين مخلوق قرار ديا، اور اس ميں ہمارے لئے وعیدہے جيسا کہ ايک روايت ميں ہے کہ”وہ ان کو اس کام سے ڈرائيں جو وہ کرتے تھے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    يعنی اپنی اُمت کو يہ کہہ کر ڈرائيں کہ اگر انہوں نے ايسا کيا تو ان لوگوں کی طرح ملعون ہو جائيں گے، قبر کو سجدہ گاہ بنانے سے مراد قبر کی طرف رخ کر کے يا قبر کے اوپر نماز پڑھنا ہے، اس صورت ميں ”قبر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے” کے الفاظ مکرر ہوں گے مگر جبکہ قبر کو سجدہ گاہ بنانے سے فقط قبر کے اوپر نماز پڑھنا مراد ليا جائے تو تکرار نہ ہو گا، ہاں البتہ يہ استدلال اسی وقت درست ہو سکتا ہے جب کہ وہ قبر کسی معّظَّم ہستی مثلا ًنبی يا ولی کی ہو جيساکہ يہ روايت ا س کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ”جب ان ميں سے کوئی نيک شخص ہوتا۔”
    اسی لئے ہمارے اصحابِ شوافع رحمہم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمايا :”تبرک اور تعظيم کی نيت سے انبياء کرام علی نبیناوعلیہم الصلوٰۃ والسلام اور اوليا ء عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کی قبروں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا حرام ہے۔” انہوں نے يہاں 2شرطيں عائد کی ہیں:(۱)قبر کسی معظم ہستی کی ہو اور (۲)اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے سے تعظيم اور تبرک کا قصدہو۔ اس فعل کا کبيرہ گناہ ہونا مذکورہ احادیثِ مبارکہ کی روشنی ميں بالکل ظاہر ہے۔ گويا انہوں نے قبر کی ہر قسم کی تعظيم کو اسی پر قياس کيا ہے جيسے قبر کی تعظيم اور اس سے تبرک حاصل کرنے کے لئے چراغ جلانا اور قبر کے طواف کا بھی يہی حکم ہے اس لئے يہ قياس بعيد بھی معلوم نہيں ہوتا۔خصوصا ًايسی صورت ميں جبکہ مذکورہ احادیثِ مبارکہ ميں قبروں پر چراغ جلانے والوں پر کئی مرتبہ لعنت گزر چکی۔ لہٰذا ہمارے اصحابِ شوافع رحمہم اللہ تعالیٰ کے قول کو کراہت پر اس وقت محمول کيا جائے گا جبکہ قبر کی تعظيم اور اس سے تبرک حاصل کرنے کا قصد نہ کيا جائے۔
(15)۔۔۔۔۔۔قبروں کو بت بنا لينے سے رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ان الفاظ ميں ممانعت فرمائی ہے :”ميری قبر کو بت نہ بنا لينا کہ ميرے بعد اس کی پوجا ہونے لگے۔”
 ( التمھیدلابن عبدالبر ، الحدیث ۹۹/۲۹ ،ج۲ ، ص ۴۷۰ تا ۴۷۱بدون”یعبدبعدی”)
    يعنی اس کی ايسی تعظيم نہ کرنا جيسے دوسرے لوگ اپنے بتوں وغيرہ کی تعظيم کے لئے انہيں سجدہ وغيرہ کرتے ہيں، اگر امام صاحب کے قول ”اور انہيں بت بنا لينا”سے مراد يہی معنی ہو تو ان کا اس گناہ کوکبيرہ گناہ کہنا درست ہو سکتا ہے بلکہ شرط پائے جانے (یعنی عبادت کی نیت ہونے)کی صورت ميں کفر بھی ہو سکتا ہے۔اگر مراد يہ ہے کہ مطلق تعظيم، جس کی اجازت نہيں دی گئی،تو وہ کبيرہ گناہ ہے (اس کی وضاحت کے لئے اگلے صفحہ پرحاشیہ نمبر۱،ملاحظہ فرمائیں) البتہ اس ميں بُعد ہے۔ جبکہ بعض حنابلہ کہتے ہيں :”آدمی کا قبر کے تبرک کے ارادے سے قبر کے سامنے نماز پڑھنا اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم سے حقيقی دشمنی مول لينا ہے اور ايسا دين ايجاد کرنا ہے جس کی اللہ عزوجل نے اجازت نہيں دی کيونکہ اس نے تو اس سے منع فرمايا ہے پھر اس پر اجماع منعقد ہو گيا کہ سب سے بڑا حرام اور شرک کا سب سے بڑا سبب قبر کے سا منے نماز پڑھنا اور اسے مسجد بنا لينا يا اس پر عمارت بنا لينا ہے۔” ۲؎


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کراہت کا قول اس کے علاوہ دوسری صورت پر محمول ہے کيونکہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ سے اس بات کا گمان نہيں کيا جا سکتا کہ وہ کسی ايسے فعل کو جائز قرار ديں جس کے فاعل پر نبی کريم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا لعنت فرمانا تواتر سے ثابت ہو اس لئے قبروں پر بنی عمارتوں کو ڈھا دينا اور قبوں کو گرا دينا واجب ہے کيونکہ يہ مسجد ضرار سے زيادہ نقصان رساں ہيں۔ اس کی وجہ يہ ہے کہ اس کی بنياد نبی کريم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کی نافرمانی پر رکھی گئی ہے کيونکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے تو اس عمل سے منع فرمايا ہے اور بلند قبروں کو ڈھانے کا حکم فرمايا ہے(خیال رہے کہ یہاں قبروں سے یہودونصاریٰ کی قبریں مرادہیں نہ کہ مسلمانوں کی،تفصیل کے لئے دیکھیں:مراۃ المناجیح شرح مشکوٰ ہ المناجیح ،ج۲،ص۴۸۸)، اسی طرح قبر پر روشن ہر قنديل اور چراغ کو ہٹا دينا واجب ہے اور اسے وقف کرنا اور اس کی منت ماننا بھی درست نہيں۔”(قبروں پرچراغ جلانے کا تفصیلی حکم صفحہ نمبر۴۸۸۔۴۸۹پرحاشیہ میں دیکھیں)
۱؎حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ” شرح مشکوٰۃ المصابیح ”میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث پاک کے اس حصہ”اَنَّ النَّبِیَّ دَخَلَ قَبْرًالَیْلًافَاَسْرَجَ لَہٗ بِسِرَاجٍ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت قبرمیں تشریف لے گئے توآپ کے لئے چراغ جلایاگیا”کی شرح کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:”یعنی رات میں میت کودفن کیاتومیت کے لئے یاحضور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)کے لئے چراغ کی روشنی کی گئی ،اس سے دومسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ قبرپرآگ لے جانامنع ہے مگرچراغ لے جاناجائزکیونکہ یہ روشنی کے لئے ہے نہ کہ مشرکین سے مشابہت کے لئے، مشرکین میت کے ساتھ آگ لے جاتے ہیں اگ کی پوجاکرنے یامیت کوجلانے کے لئے لہٰذابزرگوں کے مزارکے پاس لوبان یااگربتی جلاناجائزہے تاکہ میت کوفرحت ہو اورزائرین کوراحت ،اسی لئے میت کے کفن کودھونی دیناسنت جسے فقہاء اِسْتِجْمَارکہتے ہیں،”دوسرے یہ کہ ضرورت کے وقت قبرپرچراغ جلاناجائزہے لہذاجن بزرگوں کے مزاروں پردن رات زائرین کاہجوم اورتلاوت قرآن کادَوررہتاہے وہاں ضروررَات کوروشنی کی جائے اس کاماخذیہ حدیث ہے ،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ انورپرہمیشہ سے اوراب ”نجدیوں”کے زمانہ میں اورزیادہ اعلیٰ درجہ کی روشنی ہوتی ہے خاص گنبدشریف پربیسیوں قمقمے نصب ہیں جن احادیث میں قبرپرچراغ جلانے سے ممانعت ہے وہاں بلاضرورت چراغ رکھ آنامرادہے کہ اس میں اسراف ہے ۔خیال رہے کہ بزرگوں کااحترام ظاہرکرنے کے لئے بھی روشنی کرسکتے ہیں جیسے کعبہ معظمہ کے ا حترام کے لئے اس پرغلاف رہتاہے اوردروازۂ کعبہ پربڑی قیمتی شمع کافوری جلائی جاتی ہے،رمضان میں مسجدوں کاچراغاں بھی یہیں سے لیاگیا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،ج۲،ص۴۹۲۔۴۹۳)
۲؎بلاشبہ غیرکعبہ معظمہ کاطواف تعظیمی ناجائزہے اورغیرخداکوسجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اوربوسئہ قبر(یعنی قبرکے چومنے)میں علماء کواختلاف ہے اوراحوط (یعنی زیادہ مناسب) منع ہے خصوصاًمزارات طیبہ اولیاءِ کرام کہ ہمارے علما نے تصریح فرمائی کہ کم ازکم چارہاتھ کے فاصلے سے کھڑاہویہی ادب ہے پھرتقبیل (یعنی چومنا) کیونکرمتصوَّر ہے۔  (فتاوی رضویہ،ج۲۲،ص۳۸۲)
……………….)
۱؎مجدداعظم سیدی اعلی حضرت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ اللہ الرحمن فتاوی رضویہ شریف میں سیدی امام عبدالغنی نابلسی علیہ رحمۃاللہ القوی کے حوالے سے قبوراولیاء کی تعظیم کے متعلق ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:”ان (اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ)کی روح کی تعظیم کی جاتی ہے اور لوگوں کو دکھایا جاتاہے کہ یہ مزارمحبوب کاہے اس سے تبرک وتوسل کروکہ تمہاری دعامستجاب ہو۔ (فتاوی رضویہ،ج۹،ص۴۹۶)
    پھرکچھ آگے انہی امام عبدالغنی نابلسی علیہ رحمۃاللہ القوی کے حوالے سے ارشادفرماتے ہیں کہ”تعظیمِ خشت وگل (یعنی اینٹوں اورمٹی کی تعظیم)نہیں بلکہ روحِ محبوب کی تعظیم مقصودہو جوبلاشبہ محمود(یعنی پسندیدہ)ہے اوراعمال کامدارنیت پرہے۔”(فتاوی رضویہ،ج۹،ص۴۹۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

۲؎حکیم الامت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃاللہ المنان اس حدیث پاک کہ” حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایاکہ اَنْ یُّبْنٰی عَلَیْہِ یعنی قبرپرکچھ بنایاجائے”کی شرح کرتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:”اس طرح کہ قبرپردیواربنائی جائے ،قبردیوارمیں آجائے یہ حرام ہے کہ اس میں قبرکی توہین ہے اسی لئے یہاں”عَلَیْہِ”(یعنی قبرکے اوپر)فرمایاگیا”حَوْلَہُ”(یعنی اردگرد)نہ فرمایا،یااس طرح کہ قبرکے آس پاس عمارت یاقبہّ بنایاجائے یہ عوام کی قبروں پرناجائزہے کیونکہ بے فائدہ ہے ،علماء ومشائخ کی قبروں پرجہاں زائرین کاہجوم رہتاہے جائزہے تاکہ لوگ اس کے سایہ میں اسانی سے فاتحہ پڑھ سکیں چنانچہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قبرانورپرعمارت اوّل(یعنی شروع) ہی سے تھی اورجب ولیدبن ملک کے زمانہ میں اس کی دیوارگرگئی توصحابہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) نے بنائی نیزحضرت عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے زینب بنت حجش(رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی قبرپر،حضرت عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)نے اپنے بھائی عبدالرحمن(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی قبرپر،محمدابن حنفیہ (رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)کی قبرپرقبےّ بنائے دیکھو”خلاصۃ الوفا”اور ”منتقی شرح مؤطا”مرقات نے اس مقام پراورشامی نے دفن میت کی بحث میں فرمایاکہ مشہورعلماء ومشایخ کی قبرپرقبے بناناجائزہے۔        (مراۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المناجیح ،ج۲،ص۴۸۹)
error: Content is protected !!