Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

وصیت کرنے کی فضلیت:

(8)۔۔۔۔۔۔سرکارِمدینہ، راحت قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:”جو وصيت کر کے مرا وہ سنت پر مرا اور تقوی وشہادت پر مرا اور مغفرت يافتہ ہو کر مرا۔”
(سنن ابن ماجۃ،ابواب الوصایا،باب الحث علی الوصیۃ ،الحدیث:۲۷۰۱،ص۲۶۳۹)
 (9)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے:”محروم ہے وہ شخص جو وصيت سے محروم ہو۔”  (المرجع السابق، الحدیث: ۲۷۰۰، ص ۲۶۳۹)
 (10)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”وصيت ترک کر دينا دنيا ميں رسوائی اور آخرت ميں عذاب اور تباہی کا باعث ہے۔”
   ( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۵۴۲۳، ج۴، ص ۱۲۲)
    اگريہ حديث مبارک درجہ صحت تک پہنچ جائے تو اس سے يہ فائدہ حاصل ہو گا کہ وصيت ترک کرنا کبيرہ گناہ ہے اور يہ حديثِ پاک اس شخص پر محمول ہو گی جو جانتا ہے کہ وصيت نہ کرنا اس کے مال پر ظالموں کے قابض ہونے اور ورثاء سے چھن جانے کا سبب بنے گا۔ 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(11)۔۔۔۔۔۔نبی کريم،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”آدمی کا اپنی صحت اور زندگی ميں ايک درہم صدقہ کرنا موت کے وقت 100درہم خرچ کرنے سے بہتر ہے۔”
 (سنن ابی داؤد،کتاب الوصایا ، باب ماجاء فی کراھیۃ الاضرار فی الوصیۃ،الحدیث:۲۸۶۶،ص۱۴۳۷)
error: Content is protected !!