Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

والدین بچّوں کی خُوشی کا خیال رکھیں

والدین بچّوں کی خُوشی کا خیال رکھیں 

والدین کو بھی چاہئے کہ اَولاد کی پسند اور نا پسند کا خیال رکھیں اور جہاں وہ اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتے ہیں اگر وہاں اُن کی شادی کرنے میں کوئی شَرْعی ، خاندانی یا مُعاشَرَتی خرابی نہ ہو تو بلاوجہ اُنہیں اپنی مرضی کے مُطابق شادی کرنے پر مجبور نہ کریں بلکہ جہاں بچپن  سے جوانی تک اُن کی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھا ، اُن کے مستقبل کو بہتر بنانے کی مختلف تدابیر اختیار کیں ، اُنہیں ہر مشکل و پریشانی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی وہیں شادی کے معاملے میں بھی اُن کی خُوشی کا خیال رکھیں اور اُن کی خُوشی کے برخِلاف اپنی مرضی اُن پر مسلط کرکے ہرگز  ہرگز اُن کیلئے اِزْدِواجی زندگی کی ناہمواری و ناخُوشگواری کا باعث نہ بنیں ، کیونکہ جب بچّے عشقِ مجازی کی آفت میں مبُتلا ہوجاتے ہیں تو ایسی صورت میں والدین کا اُن کے ساتھ زور زبردستی کرنا یا تو اُن کو باغی بننے اور انتہائی قدم اُٹھانے پر مجبور کردیتا ہے یا پھر وہ اپنی مرضی سے چُھپ کر شادی کرنے کے بجائے مجبوراً اپنے والدین کی مرضی پر سمجھوتا کرلیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ لمحے بھر کا سمجھوتا عمر بھر کا پچھتاوا بن کر رہ جاتا ہے بلکہ بارہا خود والدین بھی اپنے کئے پر حسرت و ندامت میں مبُتلا ہوتے ہیں ۔ لہٰذا والدین کو چاہئے کہ اگر اُنہیں اپنے بچّوں کی ترجیحات اور کسی کے ساتھ ان کی قلبی وابستگی کا اندازہ ہو جائے تو خُدارا انتہائی حکمتِ عملی سے کام لیں بلکہ ہو سکے تو شادی کے معاملے میں اپنی اَولاد کی رِضامندی ضرور معلوم کرلیں ۔  
error: Content is protected !!