Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ذبح کے صحیح اورغلط طریقے

 جان لیجئے! خشکی کاحلال جانورجس پرقدرت حاصل ہواگرچہ جنگلی ہی کیوں نہ ہوکسی مسلمان یاذمی کے ذبح کرنے سے ہی حلال ہوسکتاہے توجس زندہ حالت میں ہڈی کے علاوہ کسی بھی تيزدھار آلے کے ساتھ شرعی طریقہ سے ذبح کیاگیا، اگرچہ دانت اور ناخن ہی سے ہو تووہ حلال ہے۔ لیکن اگر اس نے جانورکوگُدّی سے ذبح کياياگردن کی سطح سے يا اس کے کان ميں چھری داخل کی تو ذبح ہو جائے گا۔ ۱؎ بشرطیکہ گدی سے کاٹنے کی وجہ سے ذبيحہ کی حرکت سے مری(یعنی کھانے والی رگ) اوربعض رگيں بھی کٹ جائيں ليکن وہ گنہگار اور نافرمان ہو گااوراگر اسے(ذبح کے شرعی طریقہ کا)علم ہو اور اس کے باوجود جان بوجھ کر محض جانور کو 
شديدايذاء دينے کے لئے ايسا کرے توفاسق ہوجائے گا۔زندگی کے پائے جانے کے لئے غالب گمان ہی کافی ہے جيسا کہ ذبح 
کے بعد جانور شديد حرکت کرے اور اس کا خون بہنے لگے اوروہ اچھلنے لگے،اگر کھانے اور سانس والی رگوں ميں سے کوئی رگ کٹنے سے رہ گئی ۱؎ اوراب اس جانورکے سرکوچھری ياکسی دوسری چیزمثلاًبندوق کی گولی وغیرہ کے ذریعے جداکردیااگرچہ بعدمیں دونوں رگيں کاٹ دی جائيں، یاجس جانورمیں ذبح کی شرائط کوپورانہ کیاگیایہاں تک کہ جانورکی زندگی ختم ہوگئی یازندہ ہونے میں شک واقع ہوگیا،یا ذبح کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی انتڑياں بھی نکال دی گئيں اوروہ کسی تيز دھاربھاری شئے کے لگنے سے مر گيا جيسے تير کا چوڑائی میں لگنا اگرچہ وہ خون بھی بہادے،یاکسی حرام طريقے سے مرگيا جيسے تيرسے زخم لگااوروہ گزرتے ہوئے چوڑائی میں اس سے ٹکرایا،یاکسی حلال طریقے سے مرگیاجیسے تیرسے شدیدزخم لگااوروہ کسی تيزدھارچيزپرياپانی ميں گرکرمراگیا،توان سب صورتوں میں حرام ہوگا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اور اگر کسی درندے نے شکار کو زخم لگايا ياکسی بکری پر ديوار گر گئی يااس نے نقصان دہ گھاس کھا لی پس اس کو ذبح کياگيا تو وہ حلال نہيں، ہاں!اگرابتدائے ذبح میں اس میں زندگی ہو توحلال ہے،البتہ! اگر وہ جانور بيمار يا بھوکا تھا تو اسے ذبح کرنا جائز ہے اگرچہ اس ميں زندگی کی چند سانسيں ہی باقی ہوں کيونکہ يہاں ایسا کوئی سبب نہيں جس پر ہلاکت کاحکم لگایاجائے۔ ۲؎ 
۱؎ : صدرالشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہارِشریعت میں فرماتے ہیں:” ذبح ہراس چیزسے کر سکتے ہیں جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے یہ ضرورنہیں کہ چھری ہی سے ذبح کریں بلکہ کھپچی(يعنی بانس کے چرے ہوئے ٹکڑے)اوردھاردارپتھرسے بھی ذبح ہوسکتاہے صرف ناخن اوردانت سے ذبح نہیں کرسکتے جب کہ یہ اپنی جگہ پر قائم ہوں اور اگر ناخن کاٹ کر جداکرلیاہویادانت علیحدہ ہوگیاہوتواس سے اگرچہ ذبح ہو جائے گا مگر پھر بھی اس کی ممانعت ہے کہ جانور کو اس سے اذیت ہوگی۔اسی طرح کندچھری سے بھی ذبح کرنامکروہ ہے۔”    (بہارِشریعت،ج۲،حصہ۱۵،ص۷۴۔۷۵)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

٭۔۔۔۔۔۔۱؎ :احناف کے نزدیک:”ذِبح کی چاررگوں ميں سے تين کا کٹ جانا کافی ہے يعنی اس صورت ميں بھی جانور حلال ہو جائے گا۔کہ اکثر کے لئے وہی حکم ہے جو کل کے لئے ہے اور اگرچاروں میں سے ہرایک کا اکثرحصہ کٹ جائے گا جب بھی حلال ہو جائے گا اوراگرآدھی آدھی ہررگ کٹ گئی اورآدھی باقی ہے توحلال نہیں۔”        (بہارِشریعت،ج ۲،حصہ ۱۵،ص ۷۴)
٭۔۔۔۔۔۔ ۲؎: احناف کے نزدیک:”جس جانور کو ذبح کیا جائے وہ وقتِ ذبح زندہ ہو اگرچہ اس کی حیات کا تھوڑا ہی حصہ باقی رہ گیا ہو۔ذبح کے بعد خون نکلنا یا جانور میں حرکت پیدا ہونا یوں ضروری ہے کہ اس سے اس کا زندہ ہونا معلوم ہے۔۔۔۔۔۔۔بکری ذبح کی اور خون نکلا مگر اس میں حرکت پیدا نہ ہوئی اگر وہ ایسا خون ہے جیسے زندہ جانور میں ہوتا ہے حلال ہے۔۔۔۔۔۔۔بیماربکری ذبح کی، صرف اس کے منہ کوحرکت ہوئی اوراگر وہ حرکت یہ ہے کہ منہ کھول دیاتوحرام ہے اوربندکرلیاتوحلال ہے،اورآنکھیں کھول دیں توحرام اوربندکرلیں توحلال،اورپاؤں پھیلادیئے توحرام اورسمیٹ لئے توحلال،اوربال کھڑے نہ ہوئے توحرام اورکھڑے ہوگئے توحلال یعنی اگرصحیح طورپراس کے زندہ ہونے کا علم نہ ہوتوان علامتوں سے کام لیاجائے،اوراگر زندہ ہونایقینامعلوم ہے توان چیزوں کا خیال نہیں کیا جائے گا ،بہرحال جانور حلال سمجھا جائے گا۔”        (بہارِشریعت،ج ۲،حصہ ۱۵،ص ۷۴)
error: Content is protected !!