چوتھی حدیث پاک کی تیسری سند

    امام بیہقی علیہ رحمۃ اللہ القوی (458-384ھ)”دَلَائِلُ النُّبُوَّۃِ ۱ ؎” میں فرماتے ہیں: ” ابو عبداللہ الحافظ اور ابو سعید محمد بن موسیٰ ابن الفضل نے ہمیں خبر دی وہ دونوں فرماتے ہیں کہ ابو عباس محمد بن یعقوب ، ربیع بن سلیمان سے ، وہ بشر بن بکر سے ، وہ اوزاعی سے ، وہ رقاشی سے اور وہ حضرت سيدنااَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضور نبئ کریم ،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا تذکرہ کیااورانہوں نے جہاد میں اس کی قوّت اور عبادت میں کوشش کاذکر کیا ،اسی اثنامیں وہ آدمی آتادکھائی دیا توصحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی:” یہی ہے وہ شخص جس کا ہم تذکرہ کررہے تھے ۔”تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ـ  قدرت میں میری جان ہے! مَیں اس کے چہرے میں شیطانی بد بختی دیکھ رہا ہوں۔”
Advertisement
     پھراس شخص نے قریب آکر سلام کیاتوسرکارِمدینہ،راحتِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے استفسارفرمایا: ”کیا تُو نے اپنے دل ميں یہ نہیں کہا(حضرت سیدناابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں یوں ہے کہ” کیا تیرے نفس نے تجھے اس طرح نہیں کہا تھا) کہ لوگو ں میں کوئی بھی تجھ سے بہتر نہیں؟” اس نے کہا :” ہاں۔” پھر وہ مسجد میں گیا، نماز کے لئے جگہ مختص کی، اپنے قدموں کو سیدھا کیا اور نماز پڑھنے لگا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” کون ہے جو اس کی طرف جاکر اسے قتل کردے ؟”
۱؎ لابی بکر احمد بن الحسین ابن الامام الحافظ بن علی البیھقی المتوفی ۴۵۸ھ۔ (کشف الظنون،ج۱،ص۷۶۰) 
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:”مَیں قتل کروں گا ۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طر ف تشریف لے گئے لیکن اسے نمازکی حالت میں پایا ۔(واپس آکر) آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:” یا رسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! مَیں نے اسے نماز کی حالت میں پایا تو قتل کرنے سے خوف محسوس کیا۔”
    آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا:”تم میں سے کون ہے جو اس کی طر ف جائے اوراسے قتل کردے؟ ”حضرت سیدنا عمر فارو قِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :” مَیں قتل کروں گا ۔” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طر ف گئے پس وہی کیا جو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا تھا ۔
    آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا:” کون ہے جو اس کی طرف جاکر اُسے قتل کردے ؟” حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہ، الْکَرِیْم نے عرض کی: ”مَیں قتل کروں گا۔”آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:” اگر تم نے اسے پالیا تو تم قتل کردو گے ۔” چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طر ف گئے دیکھاتووہ جاچکا تھا۔ پس آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ رسالت میں واپس آئے توسرکارِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا د فرمایا:” اے علی ! یہ پہلا سینگ ہے جو میری اُمت میں ظاہرہوا اگر تم اسے قتل کردیتے تو اس کے بعدکبھی میری اُمت کے دو آدمی بھی آپس میں اختلاف نہ کرتے ۔”
    پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بنی اسرائیل اکہتر(71) فرقوں میں تقسیم ہوئے تھے جبکہ میری اُمت بہتر (72)فر قوں میں بٹے گی سوائے ایک فرقہ کے باقی سب جہنم میں جائیں گے۔” یز ید الرقاشی نے کہاوہ(نجات پانے والافرقہ) جماعت ہے۔
(دلائل النبوۃ للبیہقی،جماع ابواب اسئلۃ الیھود۔۔۔۔۔۔الخ،باب ماروی فی اخبارہ ۔۔۔۔۔۔ الخ،ج۶،ص۲۸۷)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!